اسٹیل مل ملازمین کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں،حافظ نعیم الرحمن

اسٹیل مل ملازمین کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں،حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اسٹیل مل کے مزدوروں اور ریٹائرڈ ملازمین کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے۔ سینیٹر سراج الحق سینیٹ میں اور سید عبدالرشید سندھ اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔ اسٹیل مل اور پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف ہیں۔ مزدور طبقے اور غریب عوام کے مسائل اسلام کے عادلانہ اور منصفانہ نظام کے قیام سے ہی حل ہوسکتے ہیں،رمضان قرآن کا مہینہ ہے اور اس ماہ مبارک کا پیغام ہے کہ قرآنی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پاکستان اسٹیل مل لیبر یونین پاسلو کے تحت گلشن حدید میں ایک بڑی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔دعوت افطار میں پاسلو کے ورکرز اور اسٹیل مل کے ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی،دعوت افطار سے پاسلو کے جنرل سیکریٹری علی حیدر گبول اور سابق جنرل سیکریٹری ظفر خان نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر پاسلو کے صدر عاصم بھٹی، سابق صدر حاجی خان لاشاری،پاسلو کے سابق صدر اور جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،جماعت اسلامی کراچی ضلع ملیر کے سیکریٹری مفخّرعلی، گلشن حدید کے امیر خلیل الرحمن اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران عوام سے مشکل حالات برداشت کرنے اور قربانیاں دینے کی بات تو کرتے ہیں لیکن خود اپنی شاہ خرچیاں ختم نہیں کرتے،مٹھی بھر اشرافیہ اور حکمران ٹولے نے بے پناہ مہنگائی کر کے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے، اب آئی ایم ایف سے مزید قرضے لیے جارہے ہیں اور غریب عوام پر ٹیکسوں اور مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالا جارہا ہے،جو آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کے لئے بڑی تحریک اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے، جودین کے غلبے اور قرآن کی حاکمیت قائم کرنے کے لئے ہو،شریعت محمدیؐ کے نفاذ سے ہی مظلوموں،محروموں کو ان کا حق ملے گا اور روزگار کی ضمانت بھی۔ علی حیدر گبول نے کہا کہ،اسٹیل مل کی بحالی اورملازمین کے حق کے لیے پرامن احتجاج،عدالتی اور قانونی طریقے اختیار کر کے اور حکمرانوں پر دباؤ ڈالا جائے، اسٹیل مل سابقہ حکمرانوں کی نا اہلی رشوت کرپشن اور اقر باپروری کا شکار ہو رہا ہے، لیکن موجودہ تبدیلی سرکار نے بھی 9 ماہ میں ادارے کی بحالی کے لئے کوئی روڈ میپ نہیں دیا۔وفاقی مشیر رزاق داؤد پرویزمشرف کے دور میں بھی اسٹیل مل کو فروخت کرنے کی سازش میں شریک تھے اب پھر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی ہی کوئی سازش کررہے ہیں۔ مزدور اس سازش کو ناکام بنادیں گے۔ ظفر خان نے کہا کہ اسٹیل مل کی صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔ ماضی میں کئی مرتبہ اسٹیل مل چلانے کے لیے ایم او یوز سائن ہوئے مگر بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔پاکستان کا بڑا اعزاز ہے کہ اسے ایٹمی اور میٹالرجیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مہارت حاصل ہے بیرونی ایجنڈے کے تحت ان صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،تاکہ یہ ملک اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکے۔ اسٹیل مل کی بحالی کا مسئلہ صرف ملازمین اور مزدوروں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اس کی بحالی سے پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -