بھائی کا ایثار

بھائی کا ایثار

  

وہ تیز تیز قدموں سے جیل کے دروازے سے باہر نکلا۔اس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔

لمبے قد کا وہ شخص جب سڑک پر آیا تو اس کے انتظار میں ایک سرخ رنگ کی کار کھڑی تھی۔

”مبارک ہو،نور محمد!“کار میں سے ایک نوجوان نے اسے مبارک باد دی۔

نور محمد مسکرا کر اس کے گلے ملا۔

”کہاں چلیں؟“کار میں بیٹھے نوجوان نے پوچھا۔

”تم چلے جاؤ،میں باجی کے پاس جاؤں گا۔“نور محمد بولا۔

”کیا؟“وہ چلایا:”کیوں جاؤ گے اس سے ملنے،جس نے تمھیں دس سال جیل میں بند کروایا۔“وہ آدمی حیرت سے چلایا۔

”ہاں،جاؤں گا،تم جاؤ،میں تم سے بعد میں ملوں گا۔“نور محمد غصے سے بولا۔

نور محمد کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔

سارہ اس کی بہن تھی۔وہ سارہ سے پانچ سال بڑا تھا۔نور نے سارہ کو بے انتہامحبت سے پالا تھا۔

والدہ کے بعد جب والد کا انتقال ہوا تو سارہ بہت چھوٹی تھی۔نور،سارہ کا واحد سہارا تھا۔

سارہ بڑی ہوئی تو نور نے اس کی شادی ایک کار وباری شخص مختار سے کردی،مگر بد قسمتی سے وہ ایک لالچی شخص ثابت ہوا۔اس نے سارہ کو بڑے بھائی سے بدظن کرنا شروع کر دیا۔

آخر سارہ نے نور سے کہہ ڈالا کہ ابا کا گھر میرے نام کردو۔نور محمد جانتا تھا،مختار نے گھر پر قبضہ کرنے کے لیے اس پر زور ڈالا ہے۔نور نے سارہ کو سمجھاناچاہا،مگر وہ نہ مانی۔

کچھ دن بعد مختار اور سارہ نے مل کر اسے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا۔

نور محمد دس سال کے لیے جیل چلا گیا تو وہ لوگ نور محمد کے بنگلے میں منتقل ہو گئے۔نور محمد نے کاغذات کہیں چھپا دیے تھے،اس لیے گھر بدستور اسی کے نام تھا۔جیل میں بھی مختار اسے آکر دھمکاتا رہا کہ گھر اس کے نام کر دے۔نور محمد گھر پہنچا تو دروازہ کھلا ہوا ملا۔وہ بے دھڑک اندر چلا گیا۔لان میں نت نئے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔وہ لان سے ہوتا ہوا گھر میں داخل ہو گیا۔ڈائیننگ روم میں اس کی بھانجی اَمل کھیل رہی تھی۔

”اَمل بیٹھے!“اس نے پکارا۔

نور محمد جب جیل گیا تھا تو اس کی عمر دو سال تھی۔

اَمل نے اسے دیکھا:”بیٹا! امی کو بلاؤ۔“نور محمد نے کہا۔

کچھ دیر بعد سارہ داخل ہوئی۔نور محمد کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔نور محمد مسکرا کررہ گیا:”سارہ! مجھے مبارک باد نہیں دوگی؟“نور محمد نے کہا۔اس کی آواز سپاٹ تھی۔

سارہ شرمندہ سی لگ رہی تھی۔اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔

”میں یہ گھر تمھارے نام کرنے آیا ہوں۔“نور محمد نے کہا۔

سارہ ہکا بکارہ گئی۔نور محمد نے کاغذات پر جلدی جلدی دستخط کیے اور کاغذات میز پر پھینک دیے۔

”یہ لو،یہ ہیں وہ کاغذات،جس کے لیے تم نے مجھے جیل میں پھینکو ادیا۔“نور محمد نے جذبات سے عاری لہجے میں کہا اور جانے کے لیے مڑا۔

”بھائی!“سارہ کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی:”بھائی! پلیز مجھے معاف کردیں!“

”یہ گھر تمھارا ہے سارہ! مگر آیندہ مجھے بھائی مت کہنا۔ میں اپنی محنت سے اپنا گھر خود بناؤں گا۔“نور محمد تیز تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔

”پھر کیا ہوا نانی!“منزہ نے پوچھا۔وہ اس وقت نانی سے ان کی کہانی سن رہی تھی۔

”بس بیٹا! اس کے بعد مختار کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔

وہ گھر ان کے علاج میں پہلے ہی بک چکا تھا۔جیسے تیسے گزار ا ہوا۔اللہ بھلا کرے،وہ ایک نیک آدمی تھا،جس نے تمھاری ماں اَمل کی شادی کا تمام خرچ برداشت کیا۔بڑانیک آدمی تھا۔اس نے میرے نام سے پیسے بینک میں رکھوائے تھے،جس سے خرچ چلتا رہا۔“سارہ نے سرد آہ بھری۔

”نانی! کہیں وہ آدمی نانا نور محمد ہی نہ ہوں،جن کا آپ اکثر ذکر کرتی ہیں۔“منزہ نے جوش سے کہا:”میرا خیال ہے،اسی لیے وہ سامنے آنے کے بجائے کسی اور کے ذریعے سے مدد کررہے ہیں۔“

”تم ٹھیک کہتی ہو۔مجھے پہلے کیوں نہ خیال آیا!“سارہ کہتے کہتے چونک اْٹھی،پھر یہ کہتے ہوئے خوشی سے اْٹھی کاغذات میں کسی کا نمبر تلاش کرنے لگی۔

کچھ دیر کی محنت کے بعد وہ لوگ آخر نور محمد کا گھر ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے۔سارہ،نور محمدکو دیکھ کر روپڑی:”بھائی! آپ مجھ سے ملنے کیوں نہیں آتے تھے؟“

نور محمد بھی آب دیدہ ہو گیا:”سارہ! میں تمھیں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔“

”مگر نانا! آپ نے تونانی کو منع کیا تھا کہ ان سے تعلق نہ رکھیں؟“منزہ نے شرارت سے کہا۔

”ارے،یہ میری لاڈلی بہن ہے۔تھوڑا ناراض ضرور تھا،مگر تعلق تھوڑا ہی ختم کیا تھا۔مجھے یقین تھا،ایک دن ہم ضرور ملیں گے۔“

”بھائی! کیا آپ مجھے معاف کر سکتے ہیں؟“سارہ نے گلوگیر لہجے میں کہا۔

”میں تمھیں معاف کر چکا ہوں۔بھول جاؤ گزرے ہوئے کل کو،تمھیں بہت غم مل چکے ہیں۔“نور محمد نے اس کے سر پردستِ شفقت رکھا۔

سارہ کو لگا جیسے اس کے سر سے بہت بڑا بوجھ اْتر گیا ہو۔

مزید :

ایڈیشن 1 -