رشتوں کا بوجھ

رشتوں کا بوجھ

  

دبلی پتلی سی اس خاتون سے میری ملاقات ایک بس سٹاپ پر ہوئی تھی۔انہوں نے مجھ سے ہسپتال کا ایڈریس پوچھا تھا۔وہ کافی پریشان سی دکھائی دے رہی تھیں۔ان کی بائیں جانب ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بچی کا ہسپتال سے چیک اپ کروانا ہے۔

اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کے پٹھے کام نہیں کررہے۔بے چاری بچی کافی تکلیف میں ہے۔میں انھیں ہسپتال کا ایڈریس بتاتے بتاتے پوچھ بیٹھی کہ اس لڑکی سے آپ کا کیا رشتہ ہے؟تو انہوں نے بتایا کہ ”یہ میری بیٹی ہے۔“

”لیکن یہ آپ کی بیٹی تو نہیں لگتی کیونکہ آپ کی اور اس کی عمر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے“۔

میری اس بات کے جواب میں اس خاتون نے جنہوں نے اپنا نام معصومہ بتایا تھا کہا کہ یہ لڑکی اس کے شوہر کی بیٹی ہے۔

چھوٹی سی عمرمیں اس بچی کی والدہ فوت ہوگئی تھی تو میری شادی اس کے باپ سے ہوگئی۔میں نے اسے ماں بن کر پالا ہے۔

میرے شوہر عمرمیں مجھ سے کئی سال بڑے ہیں۔بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے وہ کہیں آجا نہیں سکتے لہٰذا میں ہی بچی کے علاج کے لئے ماری ماری پھر رہی ہوں۔باتوں کے دوران وین آچکی تھی۔خدا حافظ کہہ کر وہ اس میں جا بیٹھیں۔اور اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئی۔

جلدی میں میں ان کا فون نمبر یا ایڈریس بھی نہ لے سکی۔اس خاتون سے اب شاید ہی ملاقات ہو۔بہر حال بیچاری حالات کا شکار ہے۔شاید زندگی اسی کانام ہے۔یہی سوچتے سوچتے میں اپنی منزل پر پہنچ چکی تھی۔

کئی دن اسی طرح ہی گزر گئے اور میں تقریباً اس خاتون کو بھول ہی چکی تھی کہ ایک دن اسی سٹاپ پر میری معصومہ سے اچانک ملاقات ہو گئی۔

ہمیں دیکھ کر وہ تقریباً بھاگتی ہوئی ہماری طرف بڑھی اور کہنے لگی،”باجی دیکھ لیں خدا نے ہماری ملاقات کرواہی دی۔مجھے آپ سے ملنے کی بڑی خواہش تھی“۔

”خواہش تو مجھے بھی تھی“میں نے زیرلب دہرایا،”آپ کچھ کہہ رہی تھیں“معصومہ نے سوال کیا،”کچھ نہیں،آپ یہ بتاؤ کہ اب تمہاری بیٹی کیسی ہے؟“

”باجی کیا بتاؤں؟کئی ہسپتالوں کے چکر لگا چکے ہیں۔کبھی ڈاکٹر ہڑتال پر ہوتے ہیں تو کبھی وہ ہماری بات نہیں سنتے۔سمجھ نہیں آرہی کیا کیا جائے۔“

”ایسا کچھ نہیں ہے آپ ایک باہمت خاتون ہیں اور آج اتنی مایوس کیوں۔“

”باجی حالات انسان کے بس سے باہر ہو جائیں تو انسان کو کوئی راستہ نظر نہیں آتا“۔

”ارے نہیں!ایسا نہ کہو،میرے ایک جاننے والے ڈاکٹر ہیں بیٹی کو اس کے پاس لے جانا انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیگی“۔میں نے اسے ڈاکٹر کا مقام ونام بتادیا۔

”اور تمہارے شوہر کا کیا حال ہے“۔

”وہ پہلے جیسا ہی ہے“۔

”اس دن تم نے جلدی میں کچھ نہیں بتایا تھا۔اب بتاؤ کہ تمہارے گھروالوں نے تم سے بڑی عمر کے شخص کے ساتھ شادی کیوں کردی۔۔کوئی مجبوری تھی؟“

”مجبوری کا تو مجھے علم نہیں ہاں یہ جانتی ہوں کہ میں اپنے والدین کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھادی گئی۔جن دنوں مجھ میں اچھا بڑا سمجھنے کی تمیز نہیں تھی میرا بیاہ کردیا گیا اور وہ بھی میرے باپ کی عمر کے شخص سے۔“

”تعجب ہے،آخر،انہوں نے کیا دیکھ کر یہ رشتہ کیا“،معصومہ نے جواب دیاکہ انہوں نے رشتہ داروں میں میری شادی کرنے کو ترجیح دی۔

باقی اگر آپ یہ خیال کریں کہ وہ کوئی دولت مند شخص ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔

معصومہ کی باتوں سے صاف معلوم ہورہا تھا کہ وہ اس شادی سے خوش نہیں ہے۔اپنے بڑوں کی بات کا مان رکھنے کے لئے وہ اسے نبھارہی تھی۔معصومہ نے بتایا کہ اس بیٹی کے علاوہ بھی اس کے چھ بچے،چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔سب سے چھوٹا بیٹا چھ سال کا ہے۔اس کا کہنا تھاکہ شوہر کی بیماری کے بعد وہ اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی تھی۔ان کا اچھا خاصا کاروبار اور زمین جائیدار ہے لہٰذا انہوں نے ہمیں اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔

”بھائی تو بھائی ہیں نہ جانے کب کوئی بات کر دیں لہٰذا میں کام بھی کرتی ہوں چونکہ میرے والدین زندہ ہیں ان کے کہنے پر چھوٹا سا قطعہ اراضی مجھے دیا گیا ہے اس کی دیکھ بھال میرے ذمہ ہے۔“معصومہ کی ان باتوں کے جواب میں ہم نے اسے مشورہ دے ڈالا:”تم یہ قطعہ اراضی اپنے نام کروالو۔تمہارے بچے چھوٹے ہیں، شوہر بیمار ہیں۔کل کو تمہارے کام آئیگا“۔

”باجی آپ کی یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے لیکن میں ایسا نہیں کر سکتی۔میں اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا حصہ نہیں لے سکتی۔میں نے توساری عمر بھائیوں سے لے کر ہی کھانا ہے اگر میں آج تھوڑا بہت حصہ اپنے نام کروالوں گی تو ان کی نظروں میں گر جاؤ نگی۔

”معصومہ کی دوراندیشی یا مصلحت،بہر حال جو بھی ہو۔اس سے ہم کافی حد تک متاثر تھے۔اتنی باتوں اور کوشش کے باوجود ابھی تک ہم اس کی بے جوڑ شادی میں ہی الجھے ہوئے تھے اور طرح طرح کے سوالوں سے اسے کھوجنے کی کوشش کررہے تھے۔ہم نے ایک بار پھر یہ کھوج لگانے کی کوشش کرکے معصومہ سے پوچھ ڈالاکہ”تم اب تک میری باتوں سے یہ اندازہ تو لگا ہی چکی ہوگی کہ میں تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالوں گی لیکن تم نے مجھے ایک مشکل میں ضرور ڈالا ہے جو تم مجھے بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہی ہو“۔

”نہیں باجی!آپ غلط سمجھ رہی ہیں،آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ میں نے آپ سے کوئی بات نہیں چھپائی“۔یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو چکے تھے جنہیں چھپانے کیلئے اس نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا اور صرف اتنا بولی کہ میرے والدین کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو غلط رسموں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔اب وہ مجھ سے چھپ چھپ کر کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بیٹی کی زندگی تباہ کر دی۔“یہ بات کہہ کر معصومہ نے ہماری مشکل حل کر دی تھی۔

ہم معصومہ کی ہمت اور استقامت کی داددیئے بغیر نہ رہ سکے۔کتنے اعتماد کے ساتھ وہ رشتوں کا بوجھ بخوبی اٹھائے ہوئے زندگی کی گاڑی چلا رہی تھی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -