پڑوسی کی کہانی

پڑوسی کی کہانی

  

ظہیر کمرے میں بیٹھا ہوا بڑے انہماک سے اپنا ہوم ورک کرنے میں مصروف تھا کہ دروازے پر ہونے والی دستک نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ وہ جھنجھلا کر چپل پہنے بغیر اٹھا اور بے دلی سے جا کر دروازہ کھولا۔ سامنے والے گھرکا پڑوسی عارف ہاتھ میں ایک پیالہ لیے کھڑا تھا۔ آپ اپنے فریج میں سے کچھ برف دے دیں بڑی مہربانی ہو گی۔ ظہیر بیٹے کون آیا ہے دروازے پر۔ ظہیر نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا عارف آیا ہے برف مانگنے اس کے یہاں کچھ مہمان آ گئے ہیں۔ تو پھر سوچنے کی کیا بات ہے برف دے دو، ابھی تو فریج میں کافی برف ہو گی۔ ظہیر پیر پٹختا ہوا فریج تک آیا اور اس میں سے برف نکال کر عارف کے پیالے میں ڈال دی۔ عارف چلا گیا تو اس کی امی نے پھر سمجھاتے ہوئے کہا بیٹا کیا بات ہے کوئی بھی پڑوسی تمہارے یہاں کچھ لینے آئے تو تم جھنجھلاہٹ کا شکار کیوں ہو جاتے ہو۔ کیا تم نے رسول اکرم ؐکا یہ فرمان نہیں پڑھا کہ وہ انسان ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہے جس کو ایسا ماحول میسر ہو جس میں اس سے محبت اور ہمدردی سے پیش آنے والے لوگ ہوں۔ بیٹے تم کیوں برے پڑوسیوں کی طرح پیش آنا چاہتے ہو۔ اس سے نہ صرف پڑوسی کو دکھ پہنچے گا بلکہ اللہ اور اس کے رسول ؐ بھی ناراض ہوں گے۔ ظہیر نے امی کی باتیں سنیں مگر وہ اس کے دل و دماغ میں سما نہ سکیں۔

وہ بولا کیا اچھا اور با اخلاق پڑوسی ہونا صرف ہمارا ہی فرض ہے۔ محلے میں اور بھی تو لوگ رہتے ہیں مگر زیادہ تر ہمارے ہی یہاں سے لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں مانگنے آتے ہیں۔ نہیں بیٹے ایسی باتیں نہیں سوچتے تمہیں معلوم ہے کہ اس کے ابو یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ تمہارے ابو کو ماہانہ تنخواہ ملتی ہے تو وہ سارا سودا سلف ایک ساتھ لا دیتے ہیں۔ اگر ان کی طرح ہماری بھی یومیہ آمدنی ہوتی تو تم بھی اسی طرح گزارہ کرتے۔

کمرے میں پہنچا تو وہ اپنی مسہری پر آنکھیں بند کیے خاموش لیٹی تھیں۔ الماری میں سے بام کی شیشی نکال کر وہ ان کے سرہانے بیٹھ گیا اور دھیرے دھیرے بام ملنے لگا، بام ملتے ہوئے اس نے محسوس کیا جیسے امی کو بخار ہے اور سوچنے لگا کہ اب کیا کرے ابو تو رات نو بجے تک گھر آئیں گے، کہیں امی کی طبیعت اور زیادہ خراب نہ ہو جائے۔ امی تو اس وقت جھاڑو دے کر کچن کے کاموں میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ اس نے سوچا ذیشان سے آلو منگا کر وہ بھرتہ تیار کرے گا۔ امی نے اسے اتنا تو سکھا ہی دیا تھا اور روٹی تندور سے آ جائے گی۔ یہ خیال آتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل آیا اور ذیشان کو آلو لینے بھیج کر خود صحن میں جھاڑو دینے لگا۔ وہ نصف صحن تک ہی جھاڑو دے پایا تھا کہ بغیر دستک کے دروازہ کھلا۔ اس نے سوچا ذیشان آلو لے آیا ہو گا مگر نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے عارف کی امی کھڑی تھیں اور اس سے قینچی طلب کر رہی تھیں۔ انہوں نے پوچھا امی کہاں ہیں۔ کہیں گئی ہوئی ہیں کیا۔ ظہیر نے کہا نہیں ان کی طبیعت خراب ہے۔ عارف کی امی سنتے ہی قینچی لینا بھول کر سیدھی امی کے کمرے میں چلی گئیں۔ ارے شمع کیا ہوا کیسی طبیعت ہے؟ پھر انہوں نے بڑی آہستگی سے امی کو دیکھا ارے تمہیں تو سخت بخار ہے۔ تھوڑی دیر بیٹھ کر وہ گھر چلی گئیں اور عارف کو ڈاکٹر کے پا س بھیج دیا۔

ظہیر بیٹے میں شام کا کھانا تیار کر دوں۔ آپ پہلے ہی مجھے بتا دیتے تو میں اسی وقت یہاں آ جاتی۔ یہ سن کر ظہیر کی سمجھ میں اپنی امی کی بات آ گئی کہ پڑوسیوں کے ساتھ کیوں اچھا سلوک کرنا چاہیے۔

مشکل وقت میں ان کی پڑوسن نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ظہیر نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ اب وہ تمام پڑوسیوں کو اپنا کنبہ سمجھ کر ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے گا اور ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کرے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -