آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  

٭نتیجے کے اعلان کے بعد

پہلی لڑکی (روتے ہوئے): آں! پھر سے اکیانوے فیصد۔

دوسری لڑکی(روتے ہوئے): تین بار دہرانے کے بعد بھی ترانوے فیصد۔

تیسری لڑکی (بہت زیادہ روتے ہوئے): میں ترانوے فیصد نمبرز کے ساتھ مما کو کیا منہ دکھاؤں گی؟

چوتھی لڑکی (سب سے زیادہ روتے ہوئے): صرف چھیانوے فیصد۔۔کہاں کمی رہ گئی تھی۔۔۔

نتیجے کے بعد لڑکے

پہلا لڑکا:تیرے بھائی نے اس بار فیل ہونے کا سلسلہ ختم کر دیا۔اس بار پورے چوالیس فیصد۔دے تالی

دوسرا لڑکا: پاپا تو ناچ اٹھیں گے جب انھیں پتا چلے گا ان کا بیٹا پاس ہو گیا۔۔

تیسرا لڑکا: وہ تو سر نے نقل کرنے دے دی تو بیالیس فیصد آ گئے ورنہ بینڈ بج گیا تھا جانی۔۔۔

چوتھا لڑکا: تیرا بھائی باڈر کو ہاتھ لگا آیا ہے۔۔پورے تینتیس فیصد۔۔۔نا ایک کم نا ایک زیادہ۔۔جی اوہ شیرا۔۔۔

٭استاد: ”سڑکوں پر سگریٹوں کے ٹکڑے مت پھینکو، امریکہ کی آتشزدگی یاد رکھو“ اس فقرے سے مشابہہ فقرہ بنائیے۔

شاگرد: جگہ جگہ مت تھوکو، پنجاب کا سیلاب یاد رکھو۔

٭استاد: بتاؤ اکبر کی وفات کے بعد کیا ہوا؟

شاگرد: جناب ہونا کیا تھا؟ لوگوں نے نہلا دھلا کر دفن کر دیا۔

٭استاد شاگرد سے ”ایسی چیز کا نام بتاؤجس کی چھ ٹانگیں اور دو سر ہوں۔“

شاگرد ”گھوڑا اور اس کا سوار“

٭استاد: تم شہد کی مکھی سے کیا سبق سیکھتے ہو۔

شاگرد: جو چھیڑے اسے ڈنگ مارو۔

٭استاد کلاس میں آئے تو دروازے میں کسی کی کتاب پڑی تھی۔

استاد۔یہ کتاب کس کی ہے؟

شاگرد۔ جناب مولانا حالی کی ہے۔

٭استاد: میری ایک کتاب گم ہے جسے پتا ہو وہ بتا دے۔ میں کتاب اسی کو دے دوں گا اور اس کے علاوہ پچاس روپے نقد انعام بھی دوں گا۔

ایک شاگرد جناب! پچاس روپے دے دیں کتاب پہلے ہی میرے گھر میں ہے۔

ا٭استاد شاگرد سے: دستک کو جملے میں استعمال کرو!

شاگرد: جناب مجھے دس تک گنتی آتی ہے۔

٭استادشاگرد سے۔ بتاؤ سورج زیادہ اہم ہے یا چاند؟

شاگرد: سر چاند زیادہ اہم ہے۔

استاد: وہ کیسے؟

شاگرد: سر چاند رات کو نکلتا ہے اور اس طرح رات کے اندھیرے میں روشنی دے کر ہماری رہنمائی کر تا ہے۔ جبکہ سورج تو نکلتا ہی دن میں ہے اس وقت تو ویسے بھی روشنی ہوتی ہے۔

٭ایک چور اور اس کا شاگرد کسی گھر میں چوری کرنے گئے۔ اچانک استاد کا پاؤں گھر کے مالک کی چارپائی سے ٹکرایا۔ مالک کی آنکھ کھل گئی اوروہ بولا ”کون ہے؟“

چور نے منہ سے بلی کی آواز نکالی ”میاؤں۔“

کچھ دیر بعد چور کے شاگرد کا پاؤں بھی مالک کی چارپائی سے ٹکرایا۔ مالک کی پھر آنکھ کھل گئی اس نے پوچھا ”کون ہے“؟

شاگرد کو بلی کی آواز نکالنا نہیں آتی تھی اس لیے وہ بولا ”دوسری بلی“۔

٭تین آدمی آپس میں بیٹھے اپنے اپنے دکھوں کی داستان سنا رہے تھے۔

پہلا: میں تین سال سے افریقہ کے جنگلوں میں رہا ہوں۔

دوسرا: میں پانچ سال عرب کے صحراؤں میں رہا ہوں۔

تیسرا دکھی انداز میں: میری بھی تو سنو، میں بیس سال سے اپنی بیوی کے ساتھ رہ رہا ہوں۔"

مزید :

ایڈیشن 1 -