چین بھارت تنازعہ اور پاکستان

چین بھارت تنازعہ اور پاکستان
 چین بھارت تنازعہ اور پاکستان

  

دنیا پر بالا دستی کے خواب کی تعبیر امریکی حکام دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک حاصل نہ کر پائے مگر اس کیلئے ان کی کوششیں اب بھی جاری ہیں،ملک گیری کی بجائے امریکہ نے ہمیشہ دیگر خطوں میں اپنے ٹو ڈی حکمران مسلط کر کے مقاصد حاصل کئے۔ ایک عرصہ تک کیمیوزم کی آڑ میں سوویت یونین سے سرد جنگ اور براہ راست جنگ کے بجائے مختلف ممالک کو جنگ کے الاؤ میں جھونکا جاتا رہا، آخری میدان افغانستان میں لگایا گیا، اب جبکہ امریکہ طویل جنگ میں ہزیمت قبول کر کے وہاں سے فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے تو بھارت کو چین کے درپے کر دیا ہے۔ افغانستان میں فتح کرنے کی ایک کوشش انگریز سرکار نے اس وقت کی جب دنیا کے بیشتر علاقوں پر برطانوی جھنڈا لہرارہا تھا اور برطانوی مفتوحہ علاقوں میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، مگر برطانیہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا، دوسری کوشش سوویت یونین نے کی20 صدی کی آخری ربع صدی میں افغانستان پر حملہ آور ہو کر گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کی اس سازش کو پاکستان کی مدد سے امریکہ نے ناکام بنا دیا، نتیجے میں سوویت یونین سائبیریا کے سرد صحرا میں ریت کے ذروں کی طرح بکھر کر صرف روس تک محدود ہو گیا۔ اشتراکیت کا زور ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے چین کے سوشلزم کو نشانہ بنانے کی ٹھانی، چین سے مڈھ بھیڑ کیلئے بھارت کا انتخاب کیا گیا، مگر ایسا کرتے امریکہ بھول گیا کہ ہندو بنیا اپنی جنگ نہیں لڑ سکتا تو امریکہ کی جنگ کیا لڑے گا، افغان مہاجرین نے پاکستانی مجاہدین سے مل کر جنگ اس لئے لڑی اور جیتی کہ ان کی آزادی خطرے میں تھی امریکہ نے اس جنگ کو جہاد کا نام دیکر مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور کامیابی حاصل کی، مگر ہندو توا کے نام لیواشہادت اور جنت کے تصور سے عاری ہیں۔

سوویت یونین سے طویل سرد جنگ میں کامیابی کے نشہ اور افغانستان میں شکست کی شرمندگی نے امریکہ کو اپنی بالادستی کیلئے چین کیخلاف محاذ آرائی کی ضرورت محسوس ہوئی، مگر پہلے ہی ہلہ میں بھارتی فوج کو ایسی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا کہ بھارتی قوم کو دن میں تارے نظر آگئے اور مودی کو اپنی اوقات معلوم ہو گئی امریکہ کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا پڑ گئی، بھارت اس سے پہلے بھی سکم کے محاذ پر چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھا چکا ہے، اب لداخ کے محاذ پر ہونے والی شکست نے بھارت کی خطے میں تھانیداری کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے، چین نے نہ صرف درجنوں بھارت فوجی مار دئیے بیسیوں گرفتار بھی کر لئے، بھارتی فوجیوں نے معافی مانگ کر جان چھڑائی، چینی فوج نے کئی کلومیٹر علاقہ پر قبضہ کر لیا، بھارت کے زیر قبضہ علاقہ میں فوج تعینات کر کے مورچے تعمیر کر لئے، اب شاید بھارت تو امریکہ کی پراکسی وار کا خطرہ مول نہ لے گا سوال یہ ہے کہ امریکہ کا چین کیخلاف اگلا قدم کیا ہو گا؟ امریکہ اور بھارت کیلئے مشترکہ خطرہ پاک چین دوستی اور سی پیک منصوبہ ہے، جس کی تکمیل پر پاکستان اکثر بحرانوں سے نکل جائے گا،بجلی کی کمی ختم ہو گی،بجلی سستی ہو گی، زراعت، صنعت، تجارت کے شعبوں میں ترقی آئیگی، دفاع مضبوط ہو گا، بیرونی قرضوں سے نجات ملے گی، امریکہ اور بھارت کیلئے خوشحال مستحکم اور مضبوط پاکستان ایک ڈراؤنا خواب ہے لہذٰا گمان ہے کہ امریکہ اپنی دشمنی کا رخ اب پاکستان کی طرف کر کے چین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔

پہلی کوشش پاکستان کو چین سے برگشتہ کرنے کی ہو گی جس میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں، دوسری کوشش پاکستان کے اندر اتحاد و یکجہتی پر حملہ آور ہو گا اور اپنے زرخرید افراد کے ذریعے سی پیک کی مخالفت میں اندرون ملک سے آوازبلند کرا کے اس حوالے سے بے چینی عدم اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔اگر چہ عوام کی اکثریت کو گمراہ نہیں کیا جا سکے گا، مگر اس حوالے سے نئی نئی بحثیں اور اعتراضات کا طوفان اٹھانے کی کوشش کی جائے گی عوام الناس اگرچہ اس سازش کا شکار نہ ہونگے مگر اس کوشش میں بہت سے ملک دشمن بے نقاب ہونگے، ملک کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں پر بھی تنقید کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس کیلئے ن لیگ پہلے ہی فضا بنا چکی ہے اور اس کی قیادت کی طرف سے اس کا اظہار کیا جاتا رہتا ہے۔ لگتا ہے ایک باقاعدہ منظم سازش کے تحت یہ مکروہ کام کیا جائیگا تاکہ امریکی سرپرستی میں دوبارہ اقتدار حاصل کیا جا سکے، اپنے اقتدار کی قیمت پر لیگی قیادت ملکی مفاد، سلامتی کو داؤ پر پہلے بھی لگاتی رہی ہے اور اب بھی اس سے شائد ہی گریز کرے گی، خدا کرے یہ تمام قیافے ہی ثابت ہوں مگر امریکہ بہادر سے کسی بھی اقدام کی توقع کی جا سکتی ہے۔

بھارت کو امریکہ پہلے ہی اپنا سٹریٹجک پارٹنر قرار دیتا آیا ہے، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جنیوا کنوینشن کے منافی مقبوضہ کشمیر کی انتظامی شکل تبدیل کرنے پر بھی امریکی حکام خاموش ہیں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی امریکی ضمیر کو چپ لگی ہے، مقبوضہ وادی میں طویل لاک ڈاؤن پر بھی امریکی حکومت نے کوئی قابل ذکر رد عمل نہیں دیا، کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے، وادی میں کشمیریوں کی اکثریت کم کرنے کیلئے اسرائیلی طرز پر جنونی ہندوؤں کی کشمیر میں آبادکاری کے منصوبہ پر بھی عمل جاری ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ چین کیخلاف مستقبل میں مقبوضہ کشمیر کے علاقہ لداخ کو اپنی کارروائیوں کا مرکز بنائے گا اور اس کیلئے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریتی قوت کا خاتمہ ضروری ہے۔ مقبوضہ وادی میں جنونی ہندوؤں کی زیادہ سے زیادہ آباد کاری نا گزیر ہے تاکہ امریکی منصوبہ کو آسانی سے عملی جامہ پہنایا جا سکے،لداخ میں یوں بھی بدھ بھکشوؤں کی اکثریت آباد ہے،جو اسلام اور مسلمان دشمنی میں جنونی ہندوؤں سے کم نہیں،میانمار میں بدھ بھکشوؤں کی مسلمان دشمنی کو دنیا کئی سال سے دیکھ رہی ہے، لداخ کے بدھ مت بھی مسلمانوں سے متعلق نیک جذبات نہیں رکھتے، یوں اس طبقے کو بھی پاک چین دوستی کیخلاف آزمایا جائیگا، پاکستان اور چین کے حق میں بلند ہونے والی آواز کو منصوبہ کے آغاز سے پہلے ہی خاموش کرنے کی کوشش کی جائے گی، یہ نازک گھڑی ہے اس میں بہت عرق ریزی سے مستقبل کی منصوبہ بندی بلکہ پیش بندی کی ضرورت ہے، ہر پہلو سے جائزہ لیکر خارجی داخلی حکمت عملی طے کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے کہ ملکی سیاسی اور عسکری قیادت اس پر سر جوڑ کر فیصلے کرے۔

مزید :

رائے -کالم -