توجہ تازہ حادثے کی تحقیقات پر مرکوز رہنی چاہئے

توجہ تازہ حادثے کی تحقیقات پر مرکوز رہنی چاہئے

  

شہری ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے طیارے کے حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ22جون کو قومی اسمبلی میں پیش کر دی جائے گی، وزیراعظم عمران خان نے ماضی میں ہونے والے طیاروں کے حادثات کی رپورٹیں بھی منظر عام پر لانے کا حکم دیا ہے، اہم سوال یہ ہے کہ جہاز تین بار رن وے کو چھونے کے بعد دوبارہ اڑایا گیا،جہاز کس کے کہنے پر پہلے نیچے آیا اور پھر کس کے حکم پر لینڈنگ کی بجائے دوبارہ فضا میں بلند ہوا، تحقیقات میں یہ سب معلوم ہو جائے گا، اِس دوران طیارے کے انجنوں کو نقصان ہوا اور پائلٹ اسے فضا میں زیادہ بلندی پر نہ لے جا سکا، جس کی وجہ سے رن وے کی قریبی آبادی ماڈل کالونی کے مکانوں پر گر کر تباہ ہو گیا۔تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے پر ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہو گی، وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد اب تک طیاروں کے بارہ حادثات ہو چکے ہیں،دس پی آئی اے کے طیاروں کو پیش آئے، جبکہ نجی ائر لائنز کے دو طیارے حادثوں کا شکار ہوئے،لیکن آج تک کسی بھی سانحہ کی رپورٹ سامنے نہیں آئی، بطور وزیر ہوا بازی میری کوشش ہو گی کہ ان واقعات کی رپورٹ بھی قوم کو پیش کروں یہ ایسا سانحہ ہے جس میں کسی کو بچانے کی کوشش ہو گی نہ کسی کو کوئی ریلیف دیا جائے گا۔

جیسا کہ مروجہ طریق کار ہے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے دوران مختلف حلقے اظہارِ خیال میں شریک ہیں،پائلٹوں کی تنظیم پالپا کا اپنا نقطہ نظر ہے، پی آئی اے کی انتظامیہ کی نمائندگی بھی ہو رہی ہے، شہری ہوا بازی کے وزیر اِس سے پہلے یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ اگر انہیں ذمہ دار ٹھہرایا گیا تو وہ استعفا دے دیں گے،لیکن فی الحال وہ اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کر رہے، طیارے کا وائس ریکارڈ چھ دن بعد ملبے میں سے مل چکا اور امکانی طور پر اس میں محفوظ گفتگو سے یہ پتہ چلانے میں مدد ملے گی کہ طیارہ رن وے کو چھونے کے بعد دوبارہ فضا میں کیوں بلند کیا گیا، طیارے کے لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کی وجہ سے گراؤنڈ پر ایمرجنسی لینڈنگ کے کوئی انتظامات تھے یا نہیں، سارے سوالات کا اگر تسلی بخش جواب مل سکے تو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن ہو گا،اس وقت تک انتظار ہی کرنا ہو گا، اب اس نکتے پر بھی اظہارِ خیال ہو رہا ہے کہ پائلٹ بہت تجربہ کار تھا،لیکن ان سے زیادہ گھنٹوں کے لئے کام لیا جا رہا تھا،یہ شکایت گورنر پنجاب کے علم میں اُس وقت لائی گئی جب وہ تعزیت کے لئے مرحوم کے گھر گئے یہ خدشات بھی ظاہر کئے گئے ہیں کہ حادثے کا ذمہ دار پائلٹ کو قرار دے کر ان زندہ لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جائے گی جن میں سے اگر کوئی قصور وار ٹھہرایا گیا تو اسے سزا ملے گی،جبکہ پائلٹ دوسرے مسافروں کے ساتھ ہی سود و زیاں سے بالاتر ہو چکے،اِس لئے اگر وہ ذمے دار بھی ٹھہرائے جاتے ہیں تو ان کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

وزیر ہوا بازی نے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ نہ صرف طیارے کے تازہ حادثے کی رپورٹ سامنے لائی جائے گی،بلکہ اب تک جتنے بھی حادثے ہوئے ہیں ان کی رپورٹیں پبلک کی جائیں گی،ماضی میں کئی بڑے بڑے حادثات ہو چکے،جن کی تحقیقات بھی ہوئیں جو اگرچہ منظرِ عام پر نہیں آئیں،لیکن ان حادثوں کا جو نتیجہ نکالا گیا اگر اُس کی روشنی میں ضروری اقدامات کر لئے گئے ہوتے تو شاید کسی نئے حادثے سے بچا جا سکتا۔ ایک طیارہ تو شمالی علاقوں میں پُراسرار حالات میں گم ہو گیا تھا، جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کہاں گیا اِسی طرح چترال سے اسلام آباد آنے والے ایک فوکر طیارے کے حادثے کے بعد یہ کہا گیا تھا کہ طیارہ پرواز کے قابل نہ تھا،لیکن اسے بوجوہ اُڑا دیا گیا،اِس لئے حادثہ پیش آیا، اس جہاز کے پائلٹ کے رشتے داروں نے بھی کچھ ایسی باتیں کہی تھیں جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ پائلٹ کے توجہ دلانے کے باوجود انہیں پرواز پر روانہ کر دیا گیا،مئی کے مہینے میں 65ء میں پی آئی اے کا ایک طیارہ قاہرہ(مصر) کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے قبل تباہ ہو گیا تھا اس پرواز پر مسافر نہیں مہمان سوار تھے۔ یہ اس روٹ کی پہلی پرواز تھی اور اس میں صحافیوں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات سوار تھیں۔ شوکت عزیز کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ایک فوکر طیارہ ملتان کے ہوائی اڈے پر تباہ ہوا،جس کے بعد مُلک بھر میں فوکر طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا گیا اس وقت اِن جہازوں کے بارے میں یہ شکایت منظر عام پر آئی تھی کہ یہ اپنی پروازوں کی عمر پوری کر چکے ہیں،مگر پھر بھی اڑائے جا رہے ہیں جب حادثہ پیش آ گیا تو فی الفور ساری فوکر پروازیں بند کر دی گئیں ان دِنوں یہ سوال بھی اُٹھا تھا کہ اگر یہ اقدام پہلے کر لیا جاتا تو قیمتی جانیں ضائع نہ ہوتیں، اب اگر اِن تمام حادثات کی رپورٹیں بھی سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو ان سے اور تو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا،صرف حاثے کی وجوہ کا پتہ چل سکتا ہے،لیکن ان رپورٹوں کے سامنے لانے کا عملاً کوئی فائدہ تو اُسی وقت ہو گا جب آج کے حالات میں ان پرانے واقعات سے کوئی سبق سیکھا جائے، طیارے کا ایک حادثہ وہ بھی تھا،جس میں پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کی تحقیقاتی رپورٹیں راولپنڈی سے کراچی لے جائی جا رہی تھیں،لیکن یہ خصوصی طیارہ بھی حادثے کا شکار ہو گیا اور آج تک اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں یہ چونکہ سویلین طیارہ نہیں تھا،اِس لئے شاید اس کی تحقیقاتی رپورٹ شہری ہوا بازی کے دائرہ کار میں نہ آتی ہو،لیکن اگر وزیراعظم اس حادثے کی رپورٹ بھی سامنے لے آئیں تو پتہ چل جائے گا کہ مُلک کے پے در پے سیاسی حوادث میں طیارے کے اس حادثے کا بھی کوئی کردار تھا یا نہیں،مُلک چلانے کے ذمہ دار اپنے وزیراعظم اور قائداعظم کے دست ِ راست کی زندگی کی حفاظت تو نہ کر سکے، شہادت کے پس ِ پردہ محرکات تک بھی نہ پہنچ سکے۔ ویسے فوری ضرورت تو یہ ہے کہ طیارے کے تازہ حادثے پر توجہ مرکوز رکھی جائے اور اس کی وجوہ نیک نیتی سے تلاش کی جائیں،اِس حادثے سے توجہ ہٹی تو سارا معاملہ ”ڈی ٹریک“ ہو جائے گا ایسا نہ ہو کہ ہم ماضی کے تمام حادثات کی تحقیقاتی رپورٹیں سامنے لانے کے شوق میں اِس حادثے کی وجوہ کو بھی آنکھوں سے اُوجھل کر دیں اور یہ سانحہ بھی ماضی کے سانحات کی طویل فہرست میں کہیں دب جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -