آٹا مہنگا ہو گیا،گیس، بجلی کے نرخ بڑھنے کا اندیشہ!

آٹا مہنگا ہو گیا،گیس، بجلی کے نرخ بڑھنے کا اندیشہ!

  

وزیراعظم عمران خان کا حالیہ حالات خصوصاً کورونا وبا کے حوالے سے جو بیانیہ سامنے آیا اور مسلسل آ رہا ہے،اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اُن کو مُلک کے محروم طبقات کا بہت خیال ہے اور وہ اگر دیہاڑی دار مزدوروں کے خیال سے پریشان ہیں تو ان کو نچلے درمیانے طبقے(سفید پوش) کی بھی فکر ہے اور وہ بار بار ان کا حوالہ دیتے رہتے ہیں،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا یہ ویژن یا بیانیہ مختلف محکموں کو متاثر نہیں کر پایا اور یا پھر وہ کان اور آنکھیں بند کر کے اپنے کام سے لگے ہوئے ہیں۔ان حضرات کے منصوبوں کے باعث عوام کو ریلیف ملنا تو کجا اُلٹی تکلیف پہنچتی ہے،اِس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ محکمہ خوراک اور اس کے سربراہوں کو آٹے کے نرخوں اور بحران سے کوئی غرض نہیں،جبکہ وزیراعظم مہنگائی کے معاملے پر حساس ہیں،ابھی گذشتہ روز انہوں نے بنی گالا میں کار رکوا کر ایک دکان دار سے آٹے کا نرخ پوچھا تو ان کو بتایا گیا کہ تھیلے کا نرخ بڑھ چکا،اس پر انہوں نے پھر سے ہدایات جاری کیں،ان کی تشویش بجا ہے کہ آج کی خبر کے مطابق فلور مالکان نے 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت از خود805روپے سے بڑھا کر875روپے کر دی اور عذر پیش کیا کہ بازار میں گندم کے نرخ1600روپے من ہو چکے، سرکاری نرخ 1400 روپے من تھے۔ یوں فی کلو آٹے کے نرخوں میں ساڑھے تین روپے فی کلو کا اضافہ ہو گیا۔یہ براہِ راست عام آدمی پر بوجھ ہے،اِس سلسلے میں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا ہے،لیکن اثر نہیں ہوا،اب فلور ملز کے نرخوں کے بعد چکی آٹے کی قیمت میں اضافہ بھی لازم ہے،جو براہِ راست عوام کو متاثر کرے گا،جبکہ مختلف محکمے اپنی کارکردگی کا ثبوت بھی قیمتیں بڑھا کر دینا چاہتے ہیں، بجلی کے نرخ بڑھانے کی درخواست دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم کو خود ہی قیمتوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -