دین کی حقیقی روح کو پہچانیں!

دین کی حقیقی روح کو پہچانیں!
دین کی حقیقی روح کو پہچانیں!

  

استاد مکرم سید اکمل علیمی جو اِن دِنوں علیل اور ورجینیا(امریکہ) اپنے گھر میں مقیم ہیں، ان کے بڑے صاحبزادے سیّد ادیب(موبی) ان کے ساتھ ہوتے اور اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں۔ اکمل علیمی جو زندگی میں متحرک رہے۔ آج کل اس مرض (پارکنسن) میں مبتلا ہیں، جو لیجنڈ محمد علی (باکسر) کو لاحق ہوئی تھی اور اس میں جسمانی حرکات سستی کا شکار ہو جاتی ہیں،ان کی یاد یوں آ گئی کہ کورونا کے باعث خود ساختہ قرنطینہ جیسی کیفیت سے دو چار گھر پر ہی کام کیا جاتا ہے اور اس کے باعث مطالعہ کے لئے بھی وقت ملتا ہے۔ آج کل صوبائی محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل طاہر رضا بخاری کی مرتب کردہ کتاب ”زادالسالکین“ زیر مطالعہ ہے، جو تصوف کے موضوع پر اکابرین کے مقالوں پر مشتمل اور اس میں تصوف کی تشریح کے حوالے سے موقر تحریریں موجود ہیں، اس کتاب کا مطمع نظر یہ ہے کہ ان دنوں تصوف کو غلط انداز سے پیش کیا جا رہا ہے، بلکہ بہ انداز دیگر یہ شریعت سے بالا اور الگ کر کے معترضین کو تنقید اور اعتراضات کا موقع بہم پہنچا رہا ہے۔مجھے اس کی ترغیب برطانیہ میں مقیم بھائی جمیل صاحب کی طرف سے بھیجی گئی ایک ویڈیو سے ہوئی۔اس میں تصوف کے نام پر ایک محفل کا نظارہ ہے۔ جس میں مخصوص لباسوں والے حضرات موجود ہیں۔

ان کے پیر ایک اونچی مسند پر تشریف فرما ہیں محفل میں وجد کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے۔ وہ ناقابل تشریح ہے، اسی طرح ایک سے زیادہ ویڈیو ایسی بھی وائرل ہوئیں جو ”جن“ یا سایہ نکالنے والی ہیں اور ان میں بھی عجیب و غریب حرکات ہو رہی ہیں اور یہ سب دین اور تصوف کے نام پر ہوتا ہے۔ متذکرہ کتاب کے مقالہ جات میں قرآن اور احادیژ کے مصدقہ حوالوں اور حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ سے حضرت علی ہجویریؒ اور دیگر اولیاء کرام اور علماء عظام کی تحریروں سے استفادہ کر کے یہ ثابت کیا گیا کہ شریعت کے بغیر طریقت کچھ نہیں اور جو بھی ولی کامل گذرے، ان کا تعلق خانقاہ سے تھا تو درس و تدریس بھی ان کا شیوہ رہا، اور ایسے ہی بزرگان دین کی تبلیغ، عمل اور محنت سے برصغیر ہی کیا، دُنیا بھر میں اسلام پھیلا اور آج بھی ایسے ہی معتبر حضرات متاثر کرتے ہیں،جن کا تعلق شریعت اور طریقت سے یکساں ہے،اِس لئے جن حضرات سے تصوف اور طریقت کے نام یا حوالے سے ناگوار حرکات سرزد ہوتی ہیں، ان کو دین کی مثال نہیں بنایا جا سکتا۔

اپنے استاد مکرم سید اکمل علیمی کا ذکر یوں ہوا کہ وہ اکثر مجھے مخاطب کرتے اور کہتے ”ہمارے علماء اور واعظین نے دین متین کو خوف اور لالچ بنا دیا، اور عام کہتے ہیں۔یہ کرو تو اتنا ثواب، وہ پڑھو تو جنت شرطیہ کھری۔ یہ کیا تو جہنم کا ایندھن مقدر، وغیرہ وغیرہ“ اور ان کی یہ بات حقیقت ہی کی مظہر ہے اور ایسے ہی واعظین کی وجہ سے معترضین کو موقع ملتا ہے،حالانکہ معتبر ا ور صالح علماء کرام نے کبھی ایسا نہیں کیا وہ ہمیشہ قرآن و حدیث سے دلیل لاتے ہیں اور حقوق العباد کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ سید اکمل علیمی کے بارے میں یہ بھی عرض کر دوں کہ ان کا اپنا تعلق پیر گھرانے سے ہے، ان کے دادا بھی پیر تھے اور ان کا مزار اندرون دہلی دروازہ کے محلہ چنگڑاں میں ا ن ہی کی رہائش گاہ میں ہے،اسی محلہ میں حضرت ابو الحسنات اور ابو البرکات کے والد مولانا دیدار علی شاہؒ کی مسجد اور مزار واقع ہے۔ اکمل علیمی بلاشبہ روشن خیال ہیں اور ”امروز“ کا ماحول بھی ترقی پسندانہ ہی تھا، تاہم دین سے ان کی رغبت کی ایک مثال یہ ہے کہ عید میلاد النبیؐ اور یوم سیدالشہدا (واقع میدانِ کربلا) کے حوالے سے جب ”کرٹن ریزر“ یا موقع کی خبر لکھتے تو انٹرو میں جو الفاظ تحریر کرتے وہ ان کی عقیدت کا بے مثال نمونہ ہے،اور مَیں نے آج تک اپنے کسی صحافی بھائی کو خبر میں ایسا تحریری ہدیہ تبریک پیش کرتے نہیں دیکھا، مَیں نے بھی ہمیشہ ان کی انہی تحریروں سے استفادہ کیا اور ان کی لکھی خبر نکال کر ”کرٹن ریزر“ اور خبروں کے انٹرو لکھتا رہا ہوں

(شاید اللہ ان کی اسی عقیدت کے باعث ان پر رحم فرمائے) اکمل علیمی روزنامہ ”امروز“ (مرحوم) میں دیگر شعبہ رپورٹنگ کے علاوہ دینی کوریج بھی کرتے اور صوفیاء کرام اور علماء حق سے بھی مسلسل رابطہ رہتا۔ مولانا دیدار علی شاہؒ کے حوالے سے میرے حضرت علامہ ابو الحسنات سے بھی عقیدت رہی۔ انہی محافل میں ہمارا رابطہ صدرالمشائخ پیر فضل عثمان کابلی سے بھی ہوا، جو حقیقی معنوں میں ولی کامل تھے اور یہ انکشاف مجھ پر سوات کے دورہ کے دوران ہوا، اپنی تحر یرو ں میں یہ ذکر کر چکا ہوا ہوں، حضرت فضل عثمان کابلی حضرت مجدد الف ثانی کے خاندان کے چشم و چراغ تھے اور شریعت کے حوالے سے ننگی تلوار، وہ اپنی موجودگی میں بڑے سے بڑے لوگوں کی غیر شرعی حرکت یا گفتگو کو برداشت نہیں کرتے تھے۔یہی کیفیت ہمارے بزرگ حضرت علامہ ابو الحسناتؒ کی تھی۔ وہ بھی ہمیشہ اپنے واعظوں میں غیر شرعی حرکات سے منع فرماتے،تاہم ان کا انداز جلالی نہیں جمالی تھا،حتیٰ کہ مَیں نے اکثر یہ بھی دیکھا کہ عقیدت مند ان کا ہاتھ مصافحہ سے بڑھ کر چومنے لگتے تو وہ آرام سے ہاتھ کھینچ لیا کرتے تھے۔ البتہ اپنی تقریروں اور خطبات میں ایسی حرکات سے منع فرماتے تھے۔ یوں بھی جامع مسجد وزیر خان اور اپنی رہائش پر محافل کے دوران ان کا زیادہ زور خدمت انسانیت پر ہوتا اور وہ واضح طور پر کسی انسان کے آگے یا مزار پر جھکنے(سجدہ نما) سے منع فرماتے تھے، حتیٰ کہ کئی بار استفسار پر وہ یہ وضاحت بھی کر دیتے کہ مزاروں پر جا کر قبر یا مزار کے پتھروں کو چومنا بھی مناسب نہیں،یہ حضرات نعت خوانی اور کئی بار قوالی کی محفل میں بھی شرکت کرتے تاہم غیر شرعی حرکات کی مزاحمت کرتے تھے۔

یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج جب جامعہ نعیمیہ،جامعہ اشرفیہ جیسے مضبوط مراکز اور ادارے موجود ہیں، جہاں دین کے ساتھ جدید علوم بھی پڑھائے جاتے اور متعدد حضرات پی ایچ ڈی بھی کر چکے ہیں تو ان کے منتظمین اور متعدد علماء کرام پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ عوام کو ممنوعہ حرکات سے بھی منع فرمائیں اور اکمل علیمی صاحب کی اس بات کو زیر غور لائیں ”دین لالچ اور خوف سے نہیں، عمل سے پھیلتا ہے“ اس کے ساتھ ہی ان معترض حضرات سے بھی ملتمس ہوں، جو کچھ عاقبت نا اندیش اور لالچی حضرات کی غیر شرعی حرکات کے باعث اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے اور مستند علماء کرام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں،وہ بھی احتیاط اور احترام کا رشتہ پیدا کریں کہ معاشرے کے لئے یہی بہتر اور مفید ہے۔

مزید :

رائے -کالم -