لیبیا کی آزادی،خود مختاری،طویل تاخیر کا شکار

لیبیا کی آزادی،خود مختاری،طویل تاخیر کا شکار

  

افریقہ کے ایک اہم ملک،لیبیا کی سیاسی آزادی اور خود مختاری،ستمبر 2011ء میں سابق صدر کرنل (ر)قذافی کے قتل کے بعد سے مفلوج اور معدوم چلی آرہی ہے۔بعض مغربی ممالک کو صدر موصوف کی جراتمندانہ قیادت،کئی سال قبل سے ہی شدت کے ساتھ کھٹک رہی تھی۔ کرنل (ر)قذافی،اپنے عوام کی فلاح و بہود کیلئے حتیٰ المقدور،جوانمردی سے اپنے ملک کے وسائل بروئے کار لا کر ان کا معیار زندگی بہتربنانے اور بنیادی ضروریات کی بروقت فراہمی کیلئے گامزن رہے۔ لیبیا میں تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔ جس پر دشمن قوتوں کی گہری اور ظالمانہ نظریں،کئی سال سے دیکھی اور سنی جاتی رہیں۔ بالآخر دشمن قوتوں نے امریکہ اور دیگر ممالک کے گٹھ جوڑ سے لیبیا میں اقوام متحدہ کی قیادت کے خصوصی منصوبے اور انتظام کے تحت وہاں ایک راہنما فیض السراج کو چند سال قبل عارضی وزیراعظم مقرر کر دیا جو تا حال بھی اس منصب پر فائز ہیں۔ اور اس طرح بعض علاقوں پر اپنی سیاسی قیادت میں ملکی نظام چلانے کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

دوسری جانب جنرل خلیفہ حفتر ملک کے دوسرے حصے پر قابض ہو کر اپنا حکومتی نظم و نسق چلا رہے ہیں۔ یہ ملک گزشتہ تقریبا 9سال سے سیاسی بدامنی اور انتشار سے دوچار ہو کر عارضی قیادت کے تحت دو مختلف مقامات کے سیاسی قائدین کے نظام کے تابع مشکل حالات سے دو چارہے۔ سردست سوال یہ ہے کہ امریکہ،یورپی ممالک اور اقوام متحدہ یہاں مقامی قیادت کو عوام کی راہنمائی سونپنے کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے انتظامات کرنے سے نالاں اور مانع کیوں ہیں؟بیرونی قوتوں کو کسی دیگر ملک کو سازش کاری سے اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق چلانے کا کیا قانونی طویل اختیار حاصل ہے؟اس معاملہ میں ترکی حکومت بھی آج کل کچھ قابل ذکر مخالفانہ کردار ادا کررہی ہے۔ ان بڑے اور با اثر ممالک کو حالات کی نزاکت کے تحت جلد حل تلاش کر لینا چاہیے۔ اس بارے میں چند ماہ قبل منعقدہ برلن کانفرنس کی سفارشات اور فیصلوں کو بھی خصوصی توجہ اہمیت اور ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

ایک قومی روزنامہ کی تازہ خبر کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ نیٹو لیبیا میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے لیبیا میں متحارب فریقین کے درمیان بڑ ھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اس مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ نیز اتحاد لیبیا کے دفاعی اور سلامتی اداروں کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے لیے تیا رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا میں سیاسی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اوربرلن کانفرنس کے اداروں کے فیصلوں کے مطابق ہی لازم ہے۔ اسی قومی روزنامہ کی ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا کی نیشنل آرمی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ترکی کے تیار کردہ عنقاء ایس نامی چار ڈرون طیارے مار گرائے ہیں۔یہ چاروں طیارے الوطیہ ایربیس کے قریب عقبہ بن نافع کے مقام پر گرائے گئے۔ لیبیا کی نیشنل آرمی کے مطابق فضائی دفاع نے دارلحکومت طرابلس سے 140کلومیٹر دور تیونس کی سرحد سے 30کلومیٹر کے فاصلے پر واقع الوطیہ فوجی اڈے کے قریب ترکی ڈرون مار گرایا۔ ترک وزیر خارجہ نے نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لیبیا کی قومی فوج کی طرابلس کی طرف پیش قدمی روکنے کیلئے مداخلت کرے۔ ترک وزیر خارجہ مولود جاووش اوگلونے ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنرل خلیفہ حفتر کو طرابلس کی طرف بڑھنے سے روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نیٹو ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا تازہ حالات کا جائزہ لینے سے متعلقہ بڑی قوتیں اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتیں کہ لیبیا کے سیاسی امور چلانے اور پر امن طور پر جاری رکھنے کیلئے کسی غیر ملکی نظام یا ادارے کو ہمیشہ یا طویل عرصہ کیلئے کوئی اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ وہاں کے مقامی سیاسی راہنما ہی اپنے عوام کے مسائل کو جانتے سمجھتے اور ان کا حل اپنے وسائل کے مطابق تلاش کر سکتے ہیں۔ اس لیے غیر ملکی مداخلت کو وہاں سے ایک منظم اور مسلسل طریقہ کار کی کوششوں سے ختم کرنے اور باہر نکلنے کی ضرورت ہے کیا وہاں غیر ملکی حکمرانوں کے مقرر کردہ سیاسی نمائندے مستقل طور پر کام کرنے کی خاطر بہتر نظام حکومت چلا سکتے ہیں؟ ایسی سوچ و فکر اور پالیسی کے حامی غیر ملکی حکمران یا د رکھیں کہ وہ لیبیا کی تعمیر و ترقی اور عوام کی بہتری کیلئے مثبت اقدامات نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ تو اس ملک کو مزید سیاسی اور معاشی تباہی سے دوچار کرنے کی روش اختیار کرنے کو ہی ترجیح دیں گے۔ لہذا لیبیا کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے وہاں سے تمام غیر ملکی اثر و رسوخ اور پابندیاں ہٹا کر اقوام متحدہ کے تحت جلد عام اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے کیونکہ اس عالمی ادارے کا کردار غیر جابندارانہ منصفانہ اور اکثریتی لوگوں کی بہتر معیار زندگی کے حصول کی کوششوں کیلئے ہی متعین اور مقصود ہے۔ حکومت پاکستان اور او آئی سی کو بھی اپنی سفارتی کو ششوں پر توجہ دے کر لیبیا کے عوام کی گزشتہ دہائی پر محیط مشکلات حل کرنے کی خاطر کوئی مؤثر اور جاندار لائحہ عمل بر و ئے کار لانا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -