نوازشریف کی خاموشی

نوازشریف کی خاموشی
نوازشریف کی خاموشی

  

نوازشریف بھی اپنی دھن کے پکے ہیں۔ بولنے پر آتے ہیں تو کسی کی سنتے نہیں، خاموش ہوتے ہیں تو پتہ نہیں چلتا کہاں ہیں؟ احتساب عدالت انہیں نجانے کیا سوچ کر طلب کرتی ہے، حالانکہ نوازشریف کی کیفیت تو اس شعر کے مصداق ہے:

ہم وہاں پر ہیں کہ جہاں سے ہمیں

آپ اپنی خبر نہیں آتی!

نوازشریف نے تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تخلیہ اختیار کر لیا ہے، مگر ان کی روح ہے کہ پورے سیاسی منظرنامے پر منڈلا رہی ہے۔ یوم تکبیر منایا گیا تو یہ بحث ہوتی رہی کہ ایٹمی دھماکہ کرنے کا کریڈٹ نوازشریف کو جاتا ہے یا فوج کو، بہت سی باتیں بہت سے واقعات بیان کئے جاتے رہے اور ہر واقعہ میں نوازشریف کا کردار لازمی کہیں نہ کہیں ملتا رہا۔ اُدھر نیب ہو یا حکومت وہ بھی نوازشریف کو بخشنے کے لئے تیار نہیں، گھوم پھر کر ان کا ذکر کہیں نہ کہیں آ ہی جاتا ہے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ سیاستدان جب تک زندہ ہے، اپنی زبان بند نہیں رکھ سکتا، لیکن نوازشریف اور آصف علی زرداری نے اس منصوبے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ آصف علی زرداری نے تو ملک میں رہ کر ایسی خاموشی اختیار کی ہے کہ ان کے انتقال کی خبریں تک اُڑائی گئیں، مگر ان خبروں کے باوجود آصف علی زرداری نے زبان نہیں کھولی۔ نوازشریف کا معاملہ دوسرا ہے، وہ سخت بیماری کی حالت میں بیرون ملک گئے تھے۔ اس وقت ان کی صحت کے بارے میں اس قدر تشویشناک خبریں سامنے آئی تھیں کہ عدالت تک یہ پوچھنے پر مجبور ہو گئی تھی کہ تاخیر سے بھیجنے کی صورت میں کیا حکومت یہ ضمانت دے سکتی ہے کہ نوازشریف اس وقت تک زندہ رہیں گے۔ پھر سب کچھ آناً فاناً طے ہوااور نوازشریف خصوصی طیارے سے لندن پہنچ گئے۔ کچھ دنوں تک تو ان کے بارے میں خبریں سامنے آتی رہیں کہ انہیں چیک اپ کے لئے فلاں ہسپتال لے جایا جا رہا ہے اور اب وہ فلاں جگہ ٹیسٹ کے لئے جا رہے ہیں، پھر یہ خبریں بھی معدوم ہو گئیں اور اب تو ایک عرصہ ہوا کہ نوازشریف کی کوئی خبر سننے کو نہیں ملی۔

کچھ دنوں کے لئے تو حکومت نے بھی یہ سرگرمی دکھائی کہ مدت ختم ہونے کے بعد نوازشریف کو واپس وطن لانے کی کوشش کی جائے۔ کہیں کابینہ میں فیصلے ہوئے اور کہیں برطانیہ کو خط لکھنے کی تجویز پیش ہوئی، ایسی کوششوں کا نوازشریف کے معالجین کی طرف سے ترکی بہ ترکی جواب دیا گیا کہ ابھی ٹیسٹ ہو ر ہے ہیں، بیماری کا تعین ہو گا تو علاج بھی شروع کیا جا سکے گا۔ اسی دوران کورونا آ گیا،جس نے آتے ہی جہاں ہر طرف لاک ڈاؤن کرایا وہاں نوازشریف کی واپسی کے بارے میں باب کو بھی بند کر دیا۔ اب یہ اسٹیٹس چل رہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے نوازشریف نے خود کو آئسولیٹ کر رکھا ہے۔ کورونا ختم ہو گا تو وہ اپنا علاج کرائیں گے، یہ بات زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کہ نوازشریف نے جسمانی طور پر خود کو آئسولیٹ کر لیا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ نوازشریف نے سیاسی طور پر خود کو آئسولیٹ کیوں کر رکھا ہے۔ وہ بولتے کیوں نہیں اور پاکستان میں جیسے حالات چل رہے ہیں ان پر زبان کیوں نہیں کھولتے۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکن ہی نہیں، بلکہ عام پاکستانی بھی یہ سننا چاہتا ہے کہ نوازشریف آج کل کے حالات پر اپنی کیا رائے رکھتے ہیں، مگر ان کی طرف سے تو گہری خاموشی ہے۔ حتیٰ کہ کوئی بالواسطہ بیان بھی سامنے نہیں آتا کہ انہوں نے کسی مسلم لیگ رہنما سے گفتگو کرتے ہوئے کوئی بات کی ہو۔ ویسے تو نوازشریف کو اس ازخود خاموشی کا تجربہ بہت ہے، جب وہ مشرف دور میں معاہدہ کرکے سعودی عرب گئے تھے تو انہوں نے زبان بندی اختیار کر لی تھی اور کئی برسوں تک اس پر قائم رہے تھے، لیکن اب یہ بات انہونی لگتی ہے کہ وہ بغیر کسی معاہدے کے بیرونی ملک گئے ہیں، مگر اس کے باوجود خاموش ہیں۔ یہ بد دلی ہے یا حالات سے سمجھوتہ، یہ اچھے وقتوں کے لئے منصوبہ بندی ہے یا مشکلات سے خود کو بچانے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی، اس کا جواب کون دے گا؟

شہبازشریف پاکستان آئے تھے تو خیال تھا کہ وہ ایک متحرک کردار ادا کریں گے، مگر وہ جب سے آئے ہیں انہوں نے خود کو ماڈل ٹاؤن تک محدود کر رکھا ہے۔ اب تو وہ کورونا کے شبے میں قرنطین بھی ہو چکے ہیں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ شہبازشریف چونکہ نوازشریف کے بیانیے کو اپنانے سے احتراز کرتے ہیں، اس لئے وہ فرنٹ فٹ پر نہیں آ رہے۔ شہبازشریف اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کی سیاست نہیں کرتے۔ انہوں نے ایک دن کے لئے بھی نوازشریف کے ووٹ کو عزت دو والے کلیئے سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کے بارے میں تو یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ انہیں چند صحافیوں کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان واپس آئیں، انہیں وزیراعظم بنانے کے انتظامات مکمل ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک اصل اہمیت شہبازشریف کے بولنے کی نہیں نوازشریف کی خاموشی کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ(ن) آج بھی نوازشریف کے نام پر متحد کھڑی ہے، اگر نوازشریف کا بیانیہ تبدیل نہیں ہوتا تو شہبازشریف لاکھ اسٹیبلشمنٹ کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ محاذ آرائی نہیں چاہتے، ان کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ شہبازشریف نے ٹی وی چینلوں کو دیئے گئے اپنے حالیہ انٹرویوز میں بار بار یہ کہا ہے کہ وہ اپنی حکومت اور اسٹیبلشمنت میں پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاکہ ملک آگے چلتا رہے اور محاذ آرائی کا تاثر پیدا نہ ہو، مگر لگتا ہے نوازشریف کی خاموشی ان کی ان باتوں پر بھاری ہے۔ شہبازشریف کا ہدف عمران خان کی حکومت ہے، جبکہ نواز شریف تو اسے اہمیت ہی نہیں دیتے اور ان کا اشارہ ہمیشہ ان قوتوں کی طرف رہا ہے جو ووٹ کی طاقت کا احترام کرنے کی بجائے کٹھ پتلی لوگوں کو سامنے لاتی ہیں۔

نوازشریف منظر سے غائب ہیں، لیکن پاکستانی سیاست کا منظر ان کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوگا۔وہ لندن میں بیٹھ کر ہر چیز کا بغور جائزہ لے رہے ہوں گے، کئی بار ان کا دل چاہتا بھی ہوگا کہ وہ زبان کھولیں اور حالات پر اپنا ردعمل دیں، مگر پھر وہ اپنی اس خواہش کو دبا لیتے ہوں گے۔ آنے والے دنوں کے لئے یا حالات کے سازگار ہونے تک۔ اصل سیاست وہیں رکی ہوئی ہے، جہاں نوازشریف چھور کر گئے تھے۔ مسلم لیگ(ن) کے جتنے بھی سرگرم رہنما ہیں ان کا اندازِ بیان وہی ہے جو نوازشریف چھوڑ گئے تھے وہ پلیئر کی بجائے سلیکٹرز کو ہدف تنقید بناتے ہیں، جنہوں نے عمران خان کو مسلط کیا۔ شاہد خاقان عباسی کی زبان وہی ہے جو نوازشریف کی تھی۔ شائد اسی لئے وہ شہبازشریف کی گڈ بکس میں نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی سیاست وہی کرے گا جو نوازشریف کے بیانیے پر چلے گا۔ مریم نواز نے اس بیانیے کو بلند آہنگ دیا تھا، مگر پھر نجانے کیا ہوا کہ وہ بھی خاموش ہو گئیں، زمینی حقیقت یہ ہے کہ نوازشریف اور مریم نوازکی خاموشی بھی اب ایک سیاسی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ خاموشی شہبازشریف کے ان بیانات پر بھاری ہے، جو وقتاً فوقتاً دیتے رہتے ہیں۔ نوازشریف کی خاموشی کسی مصلحت کے تحت ہے یا پھر ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ اس پر یقین سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے، البتہ یہ بات بایقین کہی جا سکتی ہے کہ یہ خاموشی بے معنی ہرگز نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -