انڈو چائنا سٹینڈ آف

انڈو چائنا سٹینڈ آف
انڈو چائنا سٹینڈ آف

  

کورونا وائرس پر بہت کچھ لکھا جا چکا، لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا، اس لئے پرنٹ میڈیا کے کالم نگاروں کو چاہیے کہ کورونا سے ہاتھ کھینچیں اور لداخ کی طرف توجہ دیں۔ پاکستان کے لئے یہ مسئلہ کورونا وائرس سے زیادہ سنجیدہ ہے۔ مودی کی کابینہ کے کئی لوگ ہمارے آرمی چیف کے 24مئی کے دورۂ لائن آف کنٹرول پر دیئے گئے بیان کو غلط معانی پہنا رہے ہیں۔ آرمی چیف نے کہا تھا کہ انڈیا نے ایل او سی پر کوئی زیادہ چھیڑ چھاڑ کی تو اس کا پورے ”عزم اور فوجی طاقت“ سے جواب دیا جائے گا۔ انڈین میڈیا اور انڈین دانشور اس فقرے کو غلط مفہوم سے تعبیر کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس 27فروری کو بھی تو پاکستان نے یہی کیا تھا اور ہم نے ”فوجی طاقت“ سے جواب دیا تھا۔ اب یہ کوئی نئی بات نہیں اور اگر انڈو چائنا سٹینڈ آف کے ایام میں یہی بات ہوئی ہے تو بھی اس کا مطلب وہ نہیں جو بھارت نکال رہا ہے…… میں کوئی بڑا دفاعی تجزیہ کار نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ چین نے لداخ سے اپنا وہ علاقہ واپس لے لیا ہے جس پر اس کا دعویٰ تھا کہ لداخ ریجن میں وہ علاقہ اس کی ملکیت ہے۔ اب سانپ نکل گیا ہے، انڈیا کچھ دیر تک لکیر پیٹے گا اور پھر اکتوبر 1962ء کی طرح چپ کرکے بیٹھ جائے گا۔ کسی انڈین پنجابی شاعر نے اس بھاگ دوڑ کو ایک سادہ سے شعر میں بیان کر دیا ہے:

جاں ہف کے رہ گئے نی

چپ کرکے بہہ گئے نی

انڈیا کو البتہ اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ جب سے اس نے 5اگست کو مقبوضہ جموں اور کشمیر کا آئینی سٹیٹس ختم کرکے پورے مقبوضہ کشمیر (بمعہ لداخ ریجن) کو انڈین یونین کا حصہ بنا دیا ہے، تب سے اس نے لائن آف کنٹرول پر حملوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان ہر سطح پر اس دریدہ دہنی پر آواز اٹھاتا رہا ہے۔ میری چھٹی حِس یہ کہہ رہی ہے کہ چین نے اپنے حصہء لداخ کو جو اس کشیدگی کے دوران اپنے قبضے میں لیا ہے تو یہ انڈیا کو ایک بالواسطہ (Indirect) وارننگ بھی ہے کہ اگر اس نے چین کے دیرینہ دوست کو مزید تنگ کیا تو چینی بکرا بھی بھارتی بکری کو سینگ مارنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ انڈیا جس امریکی حمائت کی توقع کر رہا تھا اس کا حشر اس نے دیکھ ہی لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وہی فقرہ دہرایا ہے جو اس نے گزشتہ برس انڈو پاک سٹینڈ آف پر دہرایا تھا اور کہا تھا کہ وہ دونوں فریقوں کے درمیان مصالحتی اور مکالماتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ لیکن بھارت کی رعونت اس کو کہاں چین لینے دیتی ہے۔ مودی نے ٹرمپ کو جواب دے دیا ہے کہ انڈیا خود چین سے نمٹ لینے کے لئے کافی ہے!

میں یہ کہہ رہا تھا کہ پاکستانی میڈیا کو لداخ ریجن میں چینی اور بھارتی دعوؤں کی تفصیلات ضرور بتانی چاہئیں۔ میں اگلے روز ”دنیا کامران خان کے ساتھ“ اس سٹینڈ آف کی کوریج دیکھ رہا تھا۔ کامران خان نے ایئر مارشل شہزاد چودھری کو اس موضوع پر تبصرے اور تجزیئے کے لئے سکرین پر بلایا تھا۔ ائر مارشل نے بڑی صراحت سے پورے قضیے کا احاطہ کیا۔ مئی کے اوائل میں جو جھڑپیں انڈین اور چینی ٹروپس کے درمیان ہوئی تھیں، وہ بھی بار بار دکھائی جا رہی تھیں۔ یہ تمام ویڈیو کلپس (Clips) کئی دنوں سے نیٹ پر تھے لیکن کسی نیوز چینل نے اس کا نوٹس نہ لیا۔ میں کامران خان کا معترف ہوں کہ انہوں نے ائر مارشل چودھری سے ایسے سوالات کئے جو ناظرین و سامعین کے لئے حد درجہ معلومات افزاء تھے۔ میں سمجھتا ہوں کوئی اینکر جب تک خود موضوعِ زیرِ بحث پر دسترس نہیں رکھتا وہ اپنے ٹاک شوز میں کسی تجزیہ کار کو بلا کر اس سے وہ معلومات نہیں اگلوا سکتا جو اس موضوع کا تقاضا ہوتی ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب کامران خان، اپنے مشیر خزانہ کو سکرین پر لا کر ان سے پاکستان کی اقتصادی حالت پر تبصرہ کرواتے ہیں تو ان سے ایسے سوال و جواب کرتے ہیں جو خاصے پروفیشنل اور ٹیکنیکل نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اقتصادی اور دفاعی معاملات خاصے ادق ہوتے ہیں اور ان کا شعور جب تک کسی اینکر کو نہ ہو، وہ اپنے مہمان سے وہ معلومات نہیں لے سکتا جو اینکر کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ میں جہاں کامران خان کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا،وہاں دوسرے نیوز چینلوں کو بھی دعوت دوں گا کہ وہ دفاعی اور اقتصادی امور پر بحث و مباحثہ کرنے کے لئے اپنے اینکر حضرات و خواتین اور اپنے پروڈیوسرز کو بھی یہ فرائض سونپیں …… انڈیا اس سلسلے میں ہم سے کہیں آگے ہے…… انڈین میڈیا کے چینلوں پر دیکھیں تو وہ لداخ کے رنگین نقشوں اور خاکوں کی مدد سے ناظرین کو جو آگہی دے رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے چینلوں کے لئے ایک مثال بھی ہے اور باعثِ تقلید بھی۔

جس طرح جموں اور کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقے ہیں اسی طرح لداخ بھی چین اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے۔ اس علاقے کی ملکیت کے تنازعے پر 1962ء میں انڈو چائنا وار ہوئی تھی۔ جب مودی نے 5اگست کو لداخ کو بھی یونین کا حصہ بنا دیا تو اس کی علاقائی ڈویلپمنٹ بھی شروع کر دی…… ذرا اور پیچھے جائیں تو سطح مر تفع تبت (Tibet Plateau) بھی جو لداخ سے ملحق ہے، اس میں گزشتہ کئی برسوں سے چین،ریلوں اور سڑکوں کا جال بچھا رہا ہے۔یہ موضوع خاصا تفصیل طلب ہے۔ انڈین مقبوضہ لداخ کے بالمقابل چین ایک عرصے سے نئی سڑکوں کا جال بچھا رہا تھا اور ایک خبر یہ بھی ہے کہ آخر چین اس بے آب و گیاہ، ویران، سرد اور صحرائی علاقے میں ایک طویل عرصے سے یہ شاہراہیں اور سڑکیں کیوں تعمیرکر رہا ہے؟…… اس خطرے (یا خدشے) کے پیش نظر بھارت نے بھی لداخ کو انڈین یونین کا حصہ بنایا اور اس کے دارالحکومت لیہ (Leh) کو ڈویلپ کر رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے دنیا کے اس بلند ترین ہوائی مستقر پر دنیا کا سب سے بڑا ٹرانسپورٹ طیارہ اتارا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی سپاہ کو جب چاہے ان علاقوں میں لینڈ کروا سکتا ہے اور نہ صرف خالی خولی ٹروپس بلکہ دوسرا عسکری ساز و سامان (بکتر بند گاڑیاں،توپیں، مارٹر، ہلکے ٹینک، پُل سازی کا سامان اور گولہ بارود وغیرہ) بھی اتارسکتا ہے۔ انڈیا نے اب تک ان علاقوں میں 74ایسی سڑکیں تعمیر کرلی ہیں جو سٹرٹیجک اہمیت کی حامل ہیں اور اگلے سال کے اواخر تک مزید 20سڑکوں کی تعمیر و تکمیل کا منصوبہ زیرِ عمل ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وادیء گلوان میں (لداخ کی ایک وادی) سڑکوں اور پلوں کی یہی تعمیر، چینی اضطراب کا باعث بنی ہے۔

قارئین سے میری گزارش ہو گی کہ وہ نیول میکس ویل (Neville Max Well) کی کتاب India`s China War کا مطالعہ ضرور کریں۔ پاکستان آرمی میں یہ کتاب 1970ء کے عشرے میں افسروں کے (کیپٹن سے میجر) پروموشن امتحان کے ملٹری ہسٹری کے پرچے میں شامل تھی۔ آج بھی یاد کرتا ہوں تو 1962ء کی جنگ کی وجوہات، واقعات اور نتائج کی تفصیلات ذہن کے افق پر پھیل جاتی ہیں۔ یہ کتاب 1970ء میں طبع ہوئی تھی۔ 2015ء تک اس کے کئی ایڈیشن نکلے۔ اگر مستقبل میں انڈیا اور چین کے مابین کوئی جنگ ہوئی اور اس کی وجہ لداخ ریجن پر دونوں ممالک کے دعوے ہوئے تو جنگ کی وہی تفاصیل ایک بار پھر دہرائی جائیں گی جو 1962ء میں منظر عام پر آئی تھیں۔

لیکن میرا خیال ہے اس بار مودی کو سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھانا پڑے گا۔ 22اور 23مئی کو مودی نے اپنی ”جنگی کابینہ“ کے ساتھ جو مشاورت کی اس میں سب نے یہی مشورہ دیا کہ ہم چین کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ان حضرات میں نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزر اجیت ڈوول، چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت(جو قبل ازیں انڈین آرمی چیف تھے) اور تینوں سروسز چیفس شامل تھے۔ اس ملاقات میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اس تنازعے کو ”سفارتکاری“ کے توسط سے حل کیا جائے جبکہ سرحدوں پر کڑی نگرانی کا تاثر دیا جائے…… اس ”کڑی نگرانی“ کے تاثر سے کیا مراد ہے اس کا مفہوم جاننا ہو تو انڈین پاپولر میڈیا میں پاکستانی ”جاسوس کبوتر“ وغیرہ جیسے موضوعات کو دیکھ لیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -