شہباز کیخلا ف واضح ثبوت آچکے، کیس میں کوئی ابہا م نہیں: عمران خان، نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری، زرداری کو حاضری سے استثنا مل گیا، یوسف رضا گیلانی کو گرفتار کرنے کی استدعا مسترد

      شہباز کیخلا ف واضح ثبوت آچکے، کیس میں کوئی ابہا م نہیں: عمران خان، نواز ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے کیخلاف واضح ثبوت آ چکے ہیں، ان کیخلاف کیس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کی صورتحال سمیت سیاسی اور معاشی امور پر انھیں بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں آئندہ بجٹ کے خدوخال اور چینی انکوائری رپورٹ سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کا چینی سکینڈل پر تحقیقات اور رپورٹ پبلک کرنا تاریخی اقدام ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مافیاز نے سیاست کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ سیاست میں رہ کر کرپٹ سیاستدان مافیاز کی مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے خلاف واضح ثبوت آ چکے ہیں، ان کے کیس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کو اتنے عرصہ سے لوٹا جا رہا تھا، کسی نے توجہ نہیں دی۔ مجھے عوام اور کمزور طبقے کی فکر ہے۔ کورونا پر حکومت نے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ کورونا کی صورتحال سے معاشی عدم استحکام پیدا ہوا۔ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔دوسری جانب آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کی تیاریوں میں تیزی کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم نے باقاعدگی اس پر بجٹ بریفنگ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ملاقات کی اور ملکی معاشی صورتحال سمیت بجٹ کی تیاری سے متعلق معاملات پر گفتگو کی۔دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انصاف کے موجودہ نظام پر عوام کا اعتماد بہت حد تک متزلزل ہوچکا ہے،موجودہ انصاف کے نظام میں پائے جانے والے سقم دور کرنا اور عوام کی آسان، سستے اور فوری انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی جزو ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے عوا م کو انصاف کی سہل اور فوری فراہمی کیلئے کی جانے والی قانونی اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون ملائیکہ علی بخاری و دیگر سینئر افسر شریک ہوئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور اٹارنی جنرل پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عوام کی توقعات کے مطابق قانونی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ مرتب کیا جائے جس کی روشنی میں آئندہ ہفتے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے نظام میں بہتری کیلئے عوام کی توقعات موجودہ حکومت سے وابستہ ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح معاشرے کے کمزور، بے بس اورلاچار طبقات کی آواز بننا اور ان کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ فوجداری مقدمات کے نظام میں اصلاحات (کریمنل جسٹس سسٹم ریفارمز)، تھانہ کلچر میں تبدیلی، مقدمات کے اندراج، تفتیش، جیل خانہ جات میں اصلاحاتی عمل کے حوالے سے بھی روڈ میپ تشکیل دیا جائے تاکہ ان اصلاحات پر جلد از جلد عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔قبل ازیں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے موجودہ دورِ حکومت میں انصاف کے نظام میں کی جانے والی اہم اصلاحات مثلاً دیوانی مقدمات کی جلد تکمیل، انتقال وراثت، خواتین کو وراثتی جائیدا د میں ان کا حق دلانا، ریاست کی جانب سے کمزور اور نادار طبقات کو قانونی معاونت کی فراہمی اور کریمنل جسٹس سسٹم میں کی جانے والی اصلا حات پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں جدید فارنزک لیبارٹری کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم

لاہور،اسلام آباد(خبرنگار،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ آصف زرداری کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور جب کہ یوسف رضا گیلانی کو گرفتار کرنے کی نیب کی استدعا مسترد کر دی گئی۔ احتساب عدالت اسلام آباد کے جج اصغر علی نے توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس کی سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا نواز شریف کے جاتی عمرہ پر سمن کی تعمیل کرائی گئی، تاہم وہ پیش نہیں ہوئے، نواز شریف، آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری جب کہ یوسف رضا گیلانی اور ملزم عبدالغنی مجید کو گرفتار کیا جائے۔وکلاء صفائی نے موقف اپنایا کہ ملزم آصف زرداری اور انور مجید ہسپتال میں زیر علاج ہیں، سفر نہیں کرسکتے، چیئرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کئے تو نیب پراسیکوٹر کیسے گرفتاری کا کہہ سکتے ہیں؟۔عدالتی استفسار پر بتایا گیا کہ نواز شریف کی طرف سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا، جب کہ آصف زرداری کے وکیل نے حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے سابق صدر کی آج حاضری سے استثنی کی درخواست منظورکر لی، جب کہ تمام ملزمان کو 11 جون کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔قومی احتساب بیورو (نیب)لاہور نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں 2 جون کو دوبارہ طلب کر لیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو نیب لاہور نے 2 جون کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ طلبی نوٹس بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔ نیب کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے خلاف جاری آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیسز میں تحقیقات کو حتمی شکل دینے کے لئے پلان تیار کر لیا ہے اور آئندہ پیشی 2 جون کو شہباز شریف کے خلاف جاری تحقیقات میں کیسز کو حتمی شکل دئیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد رپورٹ چیئرمین نیب کو پیش کی جائے گی اور چیئرمین نیب سے منظوری کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے خلاف ریفرنس تیار کئے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب نیب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے خلاف نیب کی جانب سے حرکت میں آنے کا پلان بھی زیر بحث ہے اور اس بارے بھی نیب کے ایک ذمہ دار افسر کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد ہی کوئی فیصلہ ممکن ہو سکے گا۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو گزشتہ پیشی پر طلب کیا گیا تھا اور انہیں کورونا سے بچاؤکے لئے نیب کی جانب سے کئے گئے اقدامات اور پنجاب حکومت کے ایس او پیزکے مطابق تمام انتظامات مکمل کئے گئے تھے اور آئندہ پیشی پر بھی ایس او پی کے تحت باقاعدہ احتیاطی و حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے

نیب پیشی

مزید :

صفحہ اول -