آج کا نوجوان باصلاحیت، موقع ملے تو چاند پر کمند ڈال سکتا ہیں، ثنیہ نعمان

    آج کا نوجوان باصلاحیت، موقع ملے تو چاند پر کمند ڈال سکتا ہیں، ثنیہ نعمان

  

کراچی (پ ر) ہمارے ملک کا نوجوان باصلاحیت ہے، اسے اگر مواقع ملیں تو یہ ملک کو ترقی کی ان منزلوں سے روشناس کراسکتا ہے جس سے وطن عزیز 75 سالوں سے محروم ہے، ان خیالات کا اظہار خوابِ کشور فاؤنڈیشن کی روح رواں ثنیہ نعمان احمد سلطان نے کیا جو گزشتہ ایک سال کے دوران کامیابی سے اپنی فاؤنڈیشن کے بینر تلے فلاحی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں.ثنیہ نعمان نے کہا کہ خواب کشور فاؤنڈیشن نے صرف ایک سال کی قلیل مدت میں عوامی فلاح و بہبود کے 45 پراجیکٹ کامیابی سے مکمل کئے ہیں اسکے علاوہ دس ہزار خاندانوں تک بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن بنائی ہے.ثنیہ نعمان نے مزید بتایا کہ خواب کشور فاؤنڈیشن کے ممبران میں زیادہ تعداد اسکول کالجز اور یونیورسٹی کے طلبہ کی شامل ہے جو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا نوجوان قابلیت صلاحیت اور کارکردگی میں کسی سے کم نہیں.ثنیہ نعمان نے کہا کہ خواب کشور فاؤنڈیشن چھ شعبوں میں اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے اور کرونا کی بدترین وباء کے دوران بھی عوام کو آسانیاں فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے، ہم نے گزشتہ دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران کراچی، اندرون سندھ، کے پی کے اور بلوچستان نے پسماندہ علاقوں میں ساڑھے پانچ ہزار راشن بیگ تقسیم کئے، سندھ میں ڈاکٹر زکو دوہزار PPE's فراہم کئے اسکے علاوہ عید بازار لگایا جبکہ 20 خصوصی کیسز جس میں گھرانے بیروزگاری کا شکار ہوگئے ان کو مکان کے کرایہ سمیت انکے یوٹیلیٹی بلز، دوائیاں، ہسپتال کے بلز وغیرہ کی بھی مکمل ادائیگی کی،جبکہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں 3000 کے قریب افطار باکس تقسیم کئے جارہے ہیں اور یہ تمام تر سرگرمیاں ان نوجوانوں کے ہاتھوں انجام پارہی ہیں جنہیں آگے چل کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنا ہے.انہوں نے کہا کہ ہماری این جی او نے اپنی مدد آپ کے تحت کام جاری رکھا ہوا کہ جس کو وسعت دینے کے لیے ہمیں مدد کی ضرورت ہے. مخیر حضرات اور حکومت اگر مالی امداد فراہم کریں تو خواب کشور فاؤنڈیشن اپنے عزم اور کام سے عوام کی زندگیوں میں بخوبی خوشگوار تبدیلی لاسلکتی ہے

میرپورخاص (بیورورپورٹ) فیڈرل بورڈ آف روینیو وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے باوجود کروڑوں روپے کے فیکٹریوں اور دیگر کاروباری اداروں کے ریفنڈ کے کیسز حل نہیں کرسکا جس سے فیکٹری و بزنس کے مالکان شدید تشویش میں مبتلا ہیں، واضح رہے کہ ہزاروں ریفنڈ کے کیسز وکیلوں نے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ کے پاس ریفنڈ کے لیے جمع کردیے تھے جوکہ کمشنر آفس حیدرآباد میں پڑے ہیں، تاہم دو ماہ پہلے پرائم منسٹر عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ تمام ریفنڈ کے کیسز ہم حل کریں گے، بدقسمتی سے ان کی ہدایات کے نظر انداز کیا گیا اور ریفنڈ کے کیسز اب تک حل نہیں ہوئے، واضح رہے کہ کروڑوں روپے کے ریفنڈ کے کیسز حل ہونے کے بعد کروڑوں روپے کی رقم فیکٹری و کاروباری افراد کو ان کے کیسز کی کنڈیشن کے حساب سے ریفنڈ کا اماونٹ ملے گاتاہم بدقسمتی سے کیسز کا ریکارڈ حاصل کرنے کے باوجود ان لینڈ ریونیو ڈپارٹمنٹ نے ان کیسز کو حل نہیں کیا اور وزیر اعظم کی ہدایات نظر انداز کردیں تقریبا دو ماہ سے فیکٹری و کاروباری حضرات اپنے ریفنڈ کے کیسز حل ہونے کا انتظار کررہے ہیں، فیکٹری کے مالکان اور کاروباری حضرات نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2011کے بعد سے ریفنڈ کے کیسز حل نہیں ہوئے جبکہ قانونی طور پر ان لینڈ روینیوڈپارٹمنٹ کو کیس حل کرکے پارٹیوں کو پیسوں کی ادائیگی کرنی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا جس سے فیکٹری والوں اور انکم ٹیکس دینے والوں کو شدید تشویش ہے انہوں نے چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ ان کے ریفنڈ کے کیسز جلد از جلد حل کرنے ان کی رقم انہیں واپس دلائی جائے تاکہ وہ اپنے کاروباری اور بزنس کے معاملات بہتر طور پر سرانجام دے سکیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -