منگوانی پتن،سیلز مین عارضی پل سے گرکرجاں بحق،ریسکیو آپریشن تیز

      منگوانی پتن،سیلز مین عارضی پل سے گرکرجاں بحق،ریسکیو آپریشن تیز

  

ڈیرہ بکھا (نمائندہ پاکستان) ڈیرہ بکھا کے نواحی علاقے منگوانی پتن کے قریب دریائے ستلج پر پرانی کشتیاں جوڑ کر بنایا گیا عارضی پل ایک اور زندگی نگل گیا بہاولپور کا رہائشی نوجوان گھر کا واحد کفیل موٹر سائیکل سمیت دریا میں جاگرا تفصیل کے مطابق ڈیرہ بکھا کے نواحی علاقے منگوانی پتن کے قریب دریائے ستلج کو عبور کرنے کے لیے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پرانی کشتیاں جوڑ کر عارضی پل بنارکھا ہے جس سے گذرتے ہوئے بہاولپور سے تعلق رکھنے والا نوجوان جس کی شناخت محمد شفیق کے نام سے ہوئی ہے موٹر سائیکل سمیت دریا میں جاگرا جس کی (بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

تلاش کے لیے رسکیو 1122 اور مقامی غوطہ خور موقع پر پہنچ گئے صبح سے نوجوان کی تلاش جاری ہے لیکن ابھی تک اس کا کچھ پتا نہیں چلا واضح امکان یہی ہے کہ نوجوان دریا میں ڈوب کر جابحق ہوچکا ہے تاہم اس کی موٹر سائیکل دریا سے نکال لی گئی ہے میلے والی گلی بہاولپور کا یہ رہائشی 7 یتیم بہنوں کا اکلوتا بھائی تین بیٹوں کا باپ اور بیوہ ماں کا واحد سہارا ہے اور سیل مین کے طور پر کام کرتا ہے جو مارکیٹنگ کے سلسلے میں کہروڑ پکا گیا ہوا تھا کہ واپسی پر حادثے کا شکار ہو گیا واقع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ کہروڑ پکا اور ڈیرہ بکھا کو ملانے کے لیے شہری کئی دھائیوں سے پل کا مطالبہ کر رہے ہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے پل بننے سے ڈیرہ بکھا،لال سوہانرا اور کہروڑ پکا کا فاضلہ سمٹ کر چند کلو میٹر رہ جائے گا لیکن اہل علاقہ کا یہ درینہ مطالبہ اب تک پورا نہیں ہوسکا کشتیوں کی مدد سے بنایا گیا پل اور دریا عبور کرنے کے متبادل ذرائع اب تک بہت سی قیمتی جانیں نگل چکے ہیں شہریوں نے وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے دریا میں ڈوبنے والے محمد شفیق کے اہل خانہ کی کفالت اور منگوانی پتن کے قریبی علاقوں کو کہروڑ پکا سے ملانے کے لیے دریا ستلج پر فوری طور پر پل کی منظوری اور تعمیر کا مطالبہ کیا ہے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -