جغرافیائی کے ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہے،عاکف سعید

جغرافیائی کے ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہے،عاکف سعید

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی لازم ہے۔ یہ بات امیر تنظیم اسلامی حافظ عاکف سعید نے یوم تکبیر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔ اُنھوں نے کہا کہ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو محفوظ کر دیا تھا۔ ہم اِس کامیابی پر ساری قوم کو پیغام تہنیت دیتے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے اِس کے ساتھ اپنی نظریاتی سرحدوں کو محفوظ نہ کیا اُن کی جغرافیائی سرحدیں بھی قائم نہ رہ سکیں۔ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا لیکن ہم 72 سال میں عملی طو رپر پاکستان کو اسلامی نظریاتی ریاست بنانے میں بُری طرح ناکام ہوئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود پاکستان پر خوف اور بھوک کا عذاب مسلط ہے۔ گویا نظریاتی سرحدوں کو مضبوط کیے بغیر جغرافیائی سرحدوں کا استحکام بے معنی ہو جاتا ہے۔

ہند چینی سرحدی جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر تنظیم نے کہا کہ بھارت کی انتہا پسند ہندو حکومت کے کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں ہیں پاکستان کا وہ ازلی دشمن ہے۔ سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی جھگڑے رہتے ہیں۔ افغانستان میں بھارت نے ہمیشہ عوام مخالف پالیسی اختیار کی۔ اُنھوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ معقولیت اختیار کرے وگرنہ اس کی انتہا پسندانہ پالیسی بھارت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -