پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کا یکم جون سے ادارے کھولنے کااعلان

پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کا یکم جون سے ادارے کھولنے کااعلان

  

ملتان، میلسی، ٹبہ سلطان پور، خانیوال، بہاولپور (سٹاف رپورٹر،تحصیل رپورٹر،نمائندہ پاکستان، نامہ نگار، ڈسٹرکٹ رپورٹر)آل پاکستان پرائیویٹ سکولز منیجمنٹ ایسوسی ایشن کا اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر سعید احمد جعفری منعقد ہوا جس میں تمام عہدیداران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 15جولائی تک سکولز بند رکھنے کا (بقیہ نمبر10صفحہ6پر)

فیصلہ سراسر تعلیم دشمنی پر مبنی ہے جو 5 کروڑطلبہ کے ساتھ زیادتی ہے‘ انہو ں نے چیف جسٹس آف پاکستان‘ وزیر اعظم اور وزیر اعلی ٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اس فیصلے پر غور کیاجائے اور یکم جون سے دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی ادارے بھی ایس او پیز کیساتھ کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ طلبہ تعلیمی نقصان سے بچ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 15جولائی تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کی صورت میں 50فیصد سے زائد تعلیمی ادارے بند ہو جائیں گے اور10لاکھ سے زائد اساتذ ہ بے روزگار ہو جائیں گے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ایس او پیز پر بہتر انداز سے عمل کرسکتے ہیں اور سکولز کو 2شفٹوں میں چلا سکتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں‘ اس لئے پاکستان میں بھی تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔ اجلاس میں طلال شیخ‘ محمود اختر‘ عزیز جعفری‘ مختیار احمد‘ عمران لئیق‘ عثمان بھٹہ‘ کلیم ظہیر‘ سلیم جعفری‘ نوید انجم‘ ظفر مغل‘ مرزا رضوان‘ سلمان احمد‘ فاروق مرزا اور دیگر نے شرکت کی۔ساؤتھ پنجاب پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے مشاورت کے بعد پر امن احتجاجی مظاہروں کی کال دے دی۔جاوید اقبال (صدر ساؤتھ پنجاب پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن) نے پر یس کا نفر نس کرتے ہوئے 15 جولائی 2020ء تک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حکومتی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے تعلیم دشمن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بندش کے باعث پانچ کروڑ طلبا کے تعلیمی نقصان کا ازالہ ناممکن ہے ۔پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن ضلع وہاڑی کے چیئرمین میاں جہانزیب یوسف، سابق صوبائی صدر سید اظہر عباس بخاری، سید نوید الحسن قطبی، حاجی خالد رسول ملک، چوہدری نعمان عامر، محمد ریحان خان مصطفائی، راؤ محمد حسین شاہین، حاجی ریاض کاشف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قومیں تعلیم سے بنتی ہیں لیکن موجودہ حکومت نے دیگر تمام کاروباری اور سرکاری ادارے کھولنے کے باوجود تا حال تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جس سے طلباء و طالبات کا شدید تعلیمی نقصان ہو رہا ہے پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن گذشتہ 4ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران تعلیمی اداروں کو بند کر کے حکومت نے جہاں طالبعلموں کو تعلیمی سال ضائع کیا وہیں نجی شعبہ میں موجود لاکھوں اساتذہ اور پرائیویٹ سکول مالکان شدید مالی بحران اور بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں آن لائن تعلیم اور ٹی وی کے ذریعے ایجوکیشن کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہو رہی ہیں دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کو کھولا جا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت اس بارے مجرمانہ غفلت سے کام لے رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر تعلیمی اداروں سے متعلق ایس او پیز تیار کر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرے سکول مالکان اور اساتذہ دیگر شعبوں سے بڑھ کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور ایس او پیز کے تحت سکول صبح 7سے 11بجے تک کھولے جائیں گے انہوں نے کہا کہ 15جولائی تک سکول بند رکھنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں فوری طور پر یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا جائے اس موقع پر محمد عارف کمبوہ، میاں محمد عباس، چوہدری عبد الوحید، محمد رضوان، ولی محمد شاکر، چوہدری سجاد الہی، شیخ محمد نواز، فیروز خان، آفتاب ماہی، میاں رئیس احمد، ظفر اقبال، جاوید اختر، اختر عباس زاہد، محمد نسیم بھٹی، راؤ ناصر علی اور منظور حسین صفدر بھی موجود تھے۔حکو مت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز بنا کر محکمہ تعلیم کے سرکاری آفسران کے حوالے کردئیے ہیں پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکول بند ہونے سے طلباء وطالبات کی تعلیم شدید متاثر ہورہی ہے بچوں کو اسکول بند ہونے پر ہوم ورک بھی نہیں دیا گیا تھا جس کی وجہ سے طلباء وطالبات کی جانب سے نصاب بھولنے کا خدشہ ہے جس کے باعث طلباء وطالبات کے تعلیمی نقصان کو مد نظر رکھتے ہوئے یکم جون سے تمام پرائیویٹ اسکول کھولنے کا اعلان کیا گیاہے اسکولوں میں تمام ایس او پیز پر سختی سے علمدامد کرواتے ہوئے ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں گے دوسری جانب سے طلباء وطالبات کے والدین نے پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کے فیصلہ کو آچھااقدامات قرار دیتے ہوئے حکومتی ایس او پیز پر عمل یقینی بنانے کا مطا لبہ کیا ہے۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن بہاولپور نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا،احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعدادسکولز مالکان اور اساتذہ نے شرکت کی۔احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے احتجاجی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل ڈائریکٹر دارارقم سکولز جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر نے کہا کہ پورے ملک میں کرونا کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کا سامنا ہے مگر اس لاک ڈاؤن میں حکومت نے جہاں دیگر طبقات اور اداروں کو ریلیف دیا ہے وہاں پر تعلیمی اداروں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا حالانکہ پرائیوئٹ سلولز نے ملک کا 40 فیصد سے زائد تعلیمی بوجھ اٹھایا ہوا ہے جبکہ سرکاری تعلیمی ادارے خاطر خواہ نتائج نہیں دے پا رہے حکومت جہاں دیگر سیکٹرز میں ناکام ثابت ہوئی وہاں پر تعلیمی سیکٹر میں بھی بری طرح ناکام نظر آتی ہے حکومت کی تعلیم کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے باعث آض36 لاکھ طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے مگر حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ایسوسی ایشن کے صدر میاں حامد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ یکم جون سے دیگر شعبہ جات کی طرح سکولز بھی کھولے جائے اور پرائیویٹ سکولز کو عزت دی جائے اور ان کیلئے مافیا کا لفظ استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے دوسرے ممالک کی طرح ایس او پیز جو کہ ڈبلیو ایچ او نے سکولز کے حوالے سے دی ہیں ان ایس او پیز کے تحت سکولز جلد از جلد کھولنے کی اجازت دی جائے انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ اگر وہ کسی مالی مشکل میں نہیں ہیں تو وہ اپنے بچوں کے سکولز کے ساتھ پہلے کی طرح تعاون کرتے ہوئے ماہانہ فیسیں وقت پر جمع کرائیں تاکہ پرائیویٹ سکیٹر کو گرنے سے بچایا جا سکے نصراللہ ناصر اور عاشق سہو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جس طرح د وسرے شعبوں پر شفقت کا ہاتھ رکھا ہے اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر کو بھی کوئی بیل آؤٹ پیکیج یا بلا سود قرضے دیئے جائیں کیونکہ یہ پرائیویٹ سیکٹر کی بقا کا معاملہ ہے اگر خدانخواستہ پرائیویٹ سیکٹر گر گیا جو کہ گرنے کے قریب ہے تو ملک میں ایک نیا تعلیمی بحران جنم لے گا۔

اعلان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -