احتیاطی تدابیر کیساتھ ادارے کھولے جائیں: فیڈریشن آف پرائیویٹ سکولز

  احتیاطی تدابیر کیساتھ ادارے کھولے جائیں: فیڈریشن آف پرائیویٹ سکولز

  

ملتان (سٹاف رپورٹر) فیڈریشن آف رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز پنجاب نے یکم جون سے سکولز کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔ اس سلسلے میں ایک اجلاس چیئرمین فرید خان بنگش کی صدارت میں ہوا جس میں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شاپنگ مالز، مارکیٹیں اور پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ کھولنا ضروری ہے توسکولوں کا کھولنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کامن سینس کی بات ہے کہ اگر شاپنگ مالز، بازاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ پر بندش نہیں ہے توسکولوں کو بند رکھنے(بقیہ نمبر11صفحہ6پر)

کی کیا منطق ہے؟ کیا یہ بات مضحکہ خیز اور عقلِ سلیم کے قطعاً الٹ نہیں کہ بالغوں یعنی والدین کو تو کورونا ”سمیٹنے“ اور پھر آگے ”بانٹنے“ کے لئے آزاد چھوڑدیاگیاہے جبکہ بچے جنہیں خطرہ ہی کوئی نہیں‘ ان کے سکول بند رکھے جارہے ہیں۔ کیا اس بات کا انتہائی قوی امکان نہیں کہ ”بڑے“ یہ خطرناک تحفہ بچوں تک لے جائیں گے؟ کیا شاپنگ مالز، بازاروں، ٹرینوں، ویگنوں، بسوں، رکشوں میں ٹھنسے ہوئے لوگوں کے بچے ان سے دور جزیروں پر بستے ہیں؟یہ حقیقت بھی دھیان میں رہے کہ گھروں، محلوں، گلیوں اور بازاروں میں مٹر گشت کرتے بچے کئی حوالوں سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہیں‘انہوں نے مزید کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی عمریں 19سال سے زیادہ تھیں تو پھر سکولز میں زیر تعلیم تو تمام بچے 18سال سے کم عمر ہیں‘محکمہ صحت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق سینٹائزر‘ ماسک کے استعمال سمیت سماجی فاصلے سمیت تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرکے سکولز کھولے جاسکتے ہیں‘ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکم جون سے سکولز کھولے جائیں وگرنہ یکم جون کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع کئے جائیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -