پبی‘ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کا احتجاجی مظاہرہ

پبی‘ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کا احتجاجی مظاہرہ

  

پبی (نما ئندہ پاکستان) ضلع نوشہرہ میں بھی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پبی پر یس کلب کے سا منے یکم جون سے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کے حق میں مظاہرہ کیا۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے حکومت کی حکومت کی جانب سے سردمہری کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں خود سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کردیا۔ کاروباری حلقوں کے لئے ایس او پیز بن سکتے ہیں تو قوم و ملک کے مستقبل کو کو کیوں تباہ کیا جارہا ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔ حکومتی ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے اداروں کو سیل کیا جائے۔ ریاست قوم کے بچوں کو تعلیم کی سہولت مہیا کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں۔ دانشمند قومیں جنگوں میں بھی تعلیمی ادارے بند نہیں کرتیں۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور مالکان کے لئے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع نوشہرہ میں بھی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نوشہرہ کی تھصیل پبی میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صوبائی، ضلعی، تحصیل رہنماؤں اور پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پبی پریس کلب کے سامنے احتجاج کے بعد پریس کلب میں احتجاجی پریس کانفرنس کی۔ احتجاجی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرائیویٹ سکولز ایسوسی ہوپ کے ریجنل جنرل سیکریٹری عباس خان، صوبائی نائب صدر بہار علی، ہوپ کے ضلعی صدر انوارالحق سمیت دیگر شرکاء نے کہا کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کے نظام زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ اس وبا کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے۔ مگر ملک و قوم کا مستقبل ہمارے نونہال سب سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے ملک میں تعلیمی سرگرمیاں بند ہوکر رہ گئی ہیں۔ آج اگر ہم نے اس جانب توجہ نہ دی تو ہم آنے والی نسلوں کے مجرم ٹھہریں گے۔ حکومتی نعرہ کہ کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔تو کاروباری مراکز کھلنے کے بعد اب تعلیمی ادارے کیوں بند ہیں۔ نجی شعبہ نے اپنی مدد آپ کے تحت حکومت کی بھرپور معاونت کی۔ بنیادی تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ گذشتہ تین چار ماہ کی بندش سے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ معطل ہو کر رہ گیا ہے۔آن لائن تعلیم اور ٹیلی ایجوکیشن کا کلیہ ہمارے ملک میں مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ہے۔ پوری دنیا میں حالات معمول پر آنے کے بعد سب سے پہلے تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں۔ لیکن ہماری حکومت ابتک تذبذب کا شکا ر ہے۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن حکومت سے بھرپور مطالبہ کرتی ہے کہ یکم جون سے تمام تعلیمی ادارے باقاعدہ ایس او پیز کے تحت کھولے جائیں ہم یقین دھانی کراتے ہیں کہ ایس او پیز پر بھرپور عمل درآمد کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ 15 جولائی تک سکولوں کو بند رکھنے کے وزارت تعلیم کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے یکم جون سے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان نہیں کیا تو ہمیں مجبوراً اپنے ایس او پیز کے تحت ادارے کھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تعلیمی اداروں کی بندش سے تعلیم کا حرج ہو رہا ہے تو دوسری جانب پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ معاشی طور پر کنگال ہو چکے ہیں۔ اور فاقوں کا شکا رہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر نجی تعلیمی اداروں کے لئے ریلیف پیکیج کا اعلان کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -