ہنگو‘ نویں جماعت کے طالبعلم کے قتل کیخلاف لواحقین کا احتجاج

ہنگو‘ نویں جماعت کے طالبعلم کے قتل کیخلاف لواحقین کا احتجاج

  

ہنگو(بیورو رپورٹ)ہنگو کے علاقہ دربند میں مبینہ پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے نوجوان نہم جماعت کے طالب علم نسیم کے قتل کے خلاف مقتول کے ورثاء اور علاقہ عوام ہنگو مین بازار میں لاش سڑ ک پر رکھ کر احتجاج مین جی ٹی روڈ ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند پولیس نے گرفتاری کے بعد مبینہ جعلی مقابلے میں زیر حراست نسیم کو قتل کیاہے مظاہرین کا الزام،پولیس مقابلے میں مارا جانے والا نسیم کوہاٹ پولیس کو قتل اقدام قتل اور دہشت گردی کے دفعات میں مطلوب تھا جوکہ پولیس مقابلے میں ہی مارا گیاہے ہنگو پولیس کا اس اپریشن سے کوئی تعلق نہیں ڈی پی او شاہد احمد خان ڈی سی ہنگو منصور ارشد اور ایم پی اے کے یقین دہانی پر احتجاج کو ختم کیا گیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ہنگو کے علاقہ دربند میں کوہا ٹ سی ٹی ڈی پولیس کو مطلوب نسیم نامی نوجوان کو کوہاٹ سے ائے ہوئے پولیس مقابلے میں قتل ہونے کے بعد مقتول کے لواحقین اور ورثاء اور علاقہ عوام کا مقتول نسیم کے لاش کو مین چوک ہنگو میں رکھ کرپولیس کے احتجاج کیا اور مین جی ٹی روڈ کو ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند کیا مظاہرین اور مقتول کے چچامحمد سلیم نے الزام لگایاکہ گزشتہ جمعرات کو ہنگو ایس ایچ او شاہ دوران کے ہمراہ ہم نے محمد نسیم کو کوہاٹ سے ائے ہوئے پولیس کے حوالے کیا اور پھر دو گھنٹے بعد ہم کو اطلاع ملی کہ محمد نسیم کو پولیس مقابلے میں قتل کیاگیاہے ہم کو ان کی لاش ایک رات گزرنے کے بعد جمعہ کے روز صبح ہنگو ہسپتال سے موصول ہوئی جس پر پولیس نے پولیس مقابلے کا الزام لگاکرقتل کیاہے جوکہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں کیونکہ ہم نے خود محمد نسیم کو پولیس کے حوالے کیاتھا پولیس نے گرفتاری کے بعد زیر حراست ماورائے عدالت اور جعلی پولیس مقابلے میں نسیم کو قتل کرکے پولیس مقابلہ ظاہر کیاہے جوکہ سراسر ظلم اور زیادتی ہیں انہوں نے کہاکہ جب تک جعلی پولیس مقابلے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف ائی ار درج نہیں کی جاتی ان کو گرفتارنہیں کیاجاتا اور تحقیقاتی کمیٹی قائم نہیں کی جاتی تب تک احتجاج جاری رہیگا مظاہرین نے لاش کو اٹھاکرمین چوک سے کچہ پاٹک میں احتجاج کیلئے مین روڈ پر رکھ دیا ہنگو کوہاٹ راولپنڈی پشاور کرم اورکزئی کو انے جانے والے مین جی ٹی روڈ کو ہر قسم کیلئے بند کردیا احتجاج صبح دس بجے سے دن ایک نجے تک جاری تھا ڈی سی ہنگو منصورارشد اور ایم پی اے شاہ فیصل کی تین دن کے اند اندر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف ائی ار درج کرنے انکوائری کیمٹی قائم کر نے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کیا دوسری طرف ڈسٹرکٹ پولیس افیسر شاہد احمد خان نے فون پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہاکہ محمد نسیم کو پولیس مقابلے میں قتل کیاگیاہے جوکہ کوہاٹ سی ٹی ڈی کو قتل اقدام قتل ڈکیتی دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا انہوں نے کہاکہ کوہاٹ سے ائے ہوئے پولیس نے مقابلے میں اس ملزم کو قتل کیاہے اس اپریشن اور مقابلے میں ہنگو پولیس شامل نہیں تھا یادرہے کہ 26مئی کو سی ٹی ڈی پولیس کوہاٹ نے ایف ائی ار علت نمبر 354میں محمد نسیم ولد حاجی سلیم سکنہ دربند کو 324,395,399,427,324/34و دیگر مختلف مقدمات میں کوہاٹ سی ٹی ڈی پولیس نے ظاہر کیاہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -