صحافی عزیز میمن کی موت طبعی نہیں، دشمنی پر قتل کیا گیا، اے آئی جی سندھ

صحافی عزیز میمن کی موت طبعی نہیں، دشمنی پر قتل کیا گیا، اے آئی جی سندھ

  

نوابشاہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس (اے آئی جی) غلام نبی میمن نے انکشاف کیا ہے کہ تفتیش کے دوران اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صحافی عزیز میمن کو قتل کیا گیا، ان کی موت طبعی نہیں تھی، عزیز میمن کے قتل کا ماسٹر مائنڈ مشتاق سہتو ہے، نذیر سہتو نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اعترافی بیان کے بعد ملزم نذیر سہتو کو جوڈیشل اور دیگر دو ملزمان کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔اے آئی جی سندھ نے بتایا کہ صحافی عزیزمیمن کو قتل کیا گیا، موت طبعی نہیں تھی، عزیز میمن کو دشمنی پرقتل کیا گیا، ملزم نذیر سہتو کا ڈی این اے میچ کر گیا، نذیر نے تفتیش کے دوران مزید ملزمان کے نام بھی بتائے اور عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم کا نام مشتاق سہتو ہیجو قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا، مقتول صحافی کے بھائی عبدالحفیظ میمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزیز میمن کے قتل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔عبدالحفیظ میمن نے کہا کہ کیس میں 200 افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی گئی، اب تک کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔

عزیز میمن

مزید :

پشاورصفحہ آخر -