مردان‘ نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

مردان‘ نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

  

مردان(بیورورپورٹ) ہوپ کے زیر اہتمام نجی تعلیمی اداروں کے سینکڑوں اساتذہ اور سربراہان نے15جولائی تک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے پریس کلب کے سامنے روڈ بلاک کردیا اور یکم جون سے سکول کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم سے ایجوکیشن ریلیف فنڈ کے قیام کا مطالبہ کردیا ہب آف پرائیوٹ ایجوکیشن (ہوپ) کے سنٹرل ریجن صدر محمد ارشاد خان صوبائی نائب صدر انعام اللہ خان،ضلعی صدر عبدالرحمان عزیزی،جنرل سیکرٹری انجینئر سکندرخان،امجد حسین دیار اور توصیف اللہ کی قیادت میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے سینکڑوں سربراہ اور اساتذہ کرام پریس کلب کے سامنے جمع ہوگئے اور زبردست احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کی مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز اور بینرز تھے جن پر سکول کھولنے اور نجی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے مطالبات درج تھے مظاہرین سے خطاب اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے درج بالا قائدین کا کہناتھاکہ کورونا وباء کے بعد نجی تعلیمی ادارے وینٹی لیٹرز پر ہیں سکولوں کے ہزاروں ملازمین فاقوں پر مجبورہوچکے ہیں مالکان کے پاس ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف کی تنخواہیں، بلڈنگ کا کرایہ'یوٹیلیٹی بلز اور دیگر اخراجات کے لئے پیسے نہیں جبکہ والدین فیسیں ادانہیں کررہے انہوں نے کہاکہ اس وقت 9ہزار اداروں میں پانچ لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد کو روزگار دیاگیاہے ہوپ کے رہنماؤں نے کہاکہ 15جولائی تک سکول بندرکھنے کا کوئی جواز نہیں حکومت نے دیگر کئی سیکٹرز کھولنے کی اجازت دی ہے پرائیوٹ سکولوں کے لئے بھی ایس او پیز بنائے جائیں اورپہلے مرحلے میں شفٹ وائز کھولنے کی اجازت دی ا نہوں نے کہاکہ اگر حکومت نے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو نجی تعلیمی ادارے یکم جون سے کھول دیئے جائیں گے انہوں نے کہاکہ حکومت نے کہاکہ دیگر سیکٹرز کے لئے اربوں کا پیکج دیاگیاہے وزیراعظم نجی تعلیمی اداروں کے لئے ایجوکیشن ریلیف فنڈ قائم کریں قوم بنانے والے اداروں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک سراسر ناانصافی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -