یہ وقت اختلاف نہیں متحد ہونے کا ہے،وزیر اعظم کورونا اور دیگر اہم معاملات پر فوری اے پی سی بلائیں۔۔۔ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت نے مطالبہ کر دیا

یہ وقت اختلاف نہیں متحد ہونے کا ہے،وزیر اعظم کورونا اور دیگر اہم معاملات پر ...
یہ وقت اختلاف نہیں متحد ہونے کا ہے،وزیر اعظم کورونا اور دیگر اہم معاملات پر فوری اے پی سی بلائیں۔۔۔ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت نے مطالبہ کر دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نےوزیراعظم عمران خان سےکورونااوردیگراہم معاملات پراے پی سی بلانےکامطالبہ کرتےہوئے کہاہےکہ پہلے روز سے کہہ رہا ہوں کہ کورونا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا،اب سے ہسپتالوں نے نئے مریض لینے سے انکار شروع کیا ہے ،کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کےلئے جنگی بنیادوں پر غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائے،بھارتی ایجنسی راء اور افغان ایجنسی این ڈی ایس کا پاکستان کیخلاف گٹھ جوڑ ہے،بھارت افغانستان کے ذریعے بلوچستان میں مداخلت و دھشتگردی کر رہا ہے،افغانستان کو تنبیہ کرتا ہوں کہ بھارت کے نرغے میں آکر بلوچستان میں مداخلت بند کرے، مودی کشمیریوں و مذہبی اقلیتوں کیخلاف ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے ہمسایہ ممالک سے الجھ رہا ہے، مودی کے مسلمانوں اور کشمیریوں پر مظالم کیخلاف اسلامی دنیا کو اکٹھا کرنا ہوگا،پاکستان کو توڑنے کی سازش ہورہی ہے جسے متحد ہوکر ناکام بنانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ آج میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے وزیراعظم کو خط لکھ چکا ہوں،وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کیا جائے،اپنے خط میں وزیراعظم سے کورونا وائرس و دیگر اہم معاملات پر اے پی سے بلانے کا مطالبہ کر چکا ہوں،کورونا وائرس کے بعد عالمی کساد بازاری اور جغرافیائی سیاسی طرز عمل میں نمایاں تبدیل رونما ہوئی ہے، بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم کو ہم آہنگی و اتحاد کی ضرورت ہے، وزیراعظم قوم و ملک کی وسیع تر مفادات میں کورونا وائرس و دیگر اہم قومی معاملات پراےپی سی بلائیں،وزیراعظم اپنی اَناکوایک سائیڈ پررکھ کراےپی سی بلائیں،مجھےکسی نےنہیں کہا،اِس وقت کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہونا چاہئیے، ہمیں الزام تراشیوں کے بجائے کورونا، بھارت کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے،کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کےلئے جنگی بنیادوں پر غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ  پہلے روز سے کہہ رہا ہوں کہ کورونا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا،اب سے ہسپتالوں نے نئے مریض لینے سے انکار شروع کیا ہے ،ماسک پہننا ہر شہری کے لئے لازم قرار دیا جائے اور عوام میں مفت بانٹے جائے،ہینڈ سینیٹائزرز اور ماسک رعائتی قیمتوں پر عوام کو مہیا کئے جائے،سارے ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس مہیا کئے جائے، ڈاکٹرز ، نرسز و دیگر طبی عملے کو سو فیصد رسک الاؤنس کی منظوری دی جائے،دیہی علاقوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اینٹی کورونا وائرس رورل ائیر یا پروگرام شروع کیا جائے،وزارت صحت ضروری قانون سازی پارلیمنٹ میں لائے کہ کورونا وائرس کیخلاف ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے،کورونا سے ڈرنا نہیں نعرے سے عوام کورونا وائرس کو کچھ سمجھ نہیں رہی ہے،ہمیں کہنا ہوگا کہ ہم نے کورونا وائرس سے خود اور قوم کو محفوظ رکھنا ہے،ہمیں کہنا ہے کہ کورونا خاتمے کیلئے ہر حال میں اختیاطی تدابیر اپنانی ہیں،وہ خواتین ڈاکٹرز جو نوکری نہیں کررہے ہیں ان سے اپیل ہے کہ قوم کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ غریب آدمی ہر دور میں استعمال ہوتا ہے ، البتہ زندگی سب سے قیمتی ہے،آپ سمارٹ لاک ڈاؤن لے کر آئیں مگر کرفیو کے ساتھ کیونکہ پولیس عملدرآمد میں ناکام ہوگئی ہے،عوام کو اعتماد میں لے کر عوام کو باور کرائیں، قوم سے بھی اپیل ہے وہ خیال کریں،کورونا کی موجودہ صورتحال میں بزرگ سیاستدان خورشید شاہ کو رہا کیا جائے،خورشید شاہ نے ملک کی خدمت کی ہے، جب سب رہا ہوچکے تو سید خورشید شاہ کو بھی رہا کیا جائے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اسوقت پاکستان ایک مشکل و حساس وقت سے گزر رہا ہے،کورونا کی موجودہ صورتحال میں بھی مودی پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا،اگرڈائیلاگ ہی مارنے ہیں تو مودی کو چاہیئے کہ وہ امتیابھ بچن کو اقتدار دے دے وہ بہتر طریقے سے حکومت چلا سکے گا،بھارت لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی و شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے،بھارت کا جاسوس ڈرون طیارے بھیجنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،تین دنوں میں پاکستان نے بھارت کے دو ڈرون جاسوسی طیاروں کو مار گرایا،پاک فوج نے جاسوسی طیارے گراکربھارت کو بتایا کہ پاکستانی افواج ہمہ وقت تیار ہیں،بھارتی ڈرون گرانے پر آرمی چیف اور پاک فوج کو سلام پیش کرتے ہیں،انڈیا ہر قسم کی غلط فہمی دور کرلے، بھارت ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکتا،پورے خطے میں پنگے لے کر بھارت خطے کا ایس ایچ او بننا چاہتا ہے ، بھارت چین اور پاکستان پر جارحیت کے موڈ میں ہے،ایسا لگتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ میں دنیا کو مودی دھکیلنا چاہتا ہے، ہمیں اس وقت اپنےگھر کو ٹھیک کرنا ہے، کشمیر بارے مسلم بلاک بنانے میں ہم کامیاب نہیں ہوئے مگر گھبرانے کی ضرورت نہیں،وفاقی حکومت بھارتی حکومت کے عزائم سے پوری دنیا کو آگاہ کرے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارتی ایجنسی راء اور افغان ایجنسی این ڈی ایس کا پاکستان کیخلاف گٹھ جوڑ ہے،بھارت افغانستان کے ذریعے بلوچستان میں مداخلت و دھشتگردی کر رہا ہے،افغانستان کو تنبیہ کرتا ہوں کہ بھارت کے نرغے میں آکر بلوچستان میں مداخلت بند کرے،مودی حکومت بھارت میں مسلمان اقلیتوں اور کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے،ہم بھارت کے خلاف مسلمانوں اور کشمیریوں پر مظالم پر اسلامک بلاک بنانے میں ناکام رہے،بھارت اپنے اردگرد کے تمام ہمسایہ ممالک کو جنگ پر اکسا رہا ہے،بھارت بیک وقت چین، پاکستان اور نیپال کیساتھ سرحدوں پر اشتعال انگیزی میں مصروف ہے،درحقیقت بھارت دنیا کو تیسری جنگِ عظیم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہاہے،مودی کشمیریوں ومذہبی اقلیتوں کیخلاف ریاستی مظالم سےتوجہ ہٹانے کیلئے ہمسایہ ممالک سے الجھ رہا ہے،نیپالی حکومت کی جرأت مندی پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں،مودی اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے، ایسے حالات میں پاکستان کو فوری طور پر بھارت کیخلاف اقوام متحدہ میں جانا ہوگا،مودی کے مسلمانوں اور کشمیریوں پر مظالم کیخلاف اسلامی دنیا کو اکٹھا کرنا ہوگا،اس وقت جن خطرات میں ہم گھرے ہیں ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے، ایسا نہ ہو ہم پھر دیر کردیں،بھارتی قیادت سے اپیل ہے کہ وہ دھمکیوں کی بجائے کورونا کے خلاف ایک کونسل بنائیں،سارک ممالک میں کوئی بھی امیر نہیں ہے، اس لئے تمام سارک ممالک کو اس حوالے سے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -