امریکہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے، لوٹ مار، ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو بڑا حکم دے دیا

امریکہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے، لوٹ مار، ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو بڑا حکم دے دیا
امریکہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے، لوٹ مار، ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو بڑا حکم دے دیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیپولیس میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر پھوٹنے والے ہنگاموں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مظاہرین کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں جس پر صدر ڈونلڈٹرمپ نے فوج کو 4گھنٹے کے نوٹس پر منیپولیس کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق 1992ءکے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکی فوج کو کسی شہر میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ 1992ءمیں پولیس کے ہاتھوں روڈنی کنگ نامی شخص کو بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر لاس اینجلس میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور فوج تعینات کرنی پڑ گئی تھی۔ منیپولیس میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے لیکن مشتعل مظاہرین نے کرفیو بھی توڑ ڈالا ہے اوران کی پولیس کے ساتھ جابجا جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ پولیس کی طرف سے مظاہرین پر پلاسٹک کی گولیاں اور آنسو گیس گیس پھینکی جا رہی ہے۔ ڈیٹرائٹ میں 19سالہ نوجوان گولیاں لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ اسے گولیاں نامعلوم افراد نے ماریں، تاہم اس نوجوان سمیت دیگر ہلاکتوں کی وجہ سے مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پولیس کی حراست میں جارج فلوئیڈ نامی سیاہ فام شہری کی موت ہو گئی تھی۔ ایک آفیسر نے جارج کو زمین پر لٹا کر اپنا گھٹنا اس کی گردن پر دیئے رکھا جس سے اس کا سانس رک گیا اوراس کی موت واقع ہو گئی۔

مزید :

بین الاقوامی -