یہ تین لوگ چینی کی قیمت میں اضافے کے ذمہ دارہیں۔۔۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اہم ترین حکومتی شخصیات پر الزام لگا دیا

یہ تین لوگ چینی کی قیمت میں اضافے کے ذمہ دارہیں۔۔۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان ...
یہ تین لوگ چینی کی قیمت میں اضافے کے ذمہ دارہیں۔۔۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اہم ترین حکومتی شخصیات پر الزام لگا دیا

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اورسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چینی کی قیمت میں اضافے کے ذمہ دار عمران خان، عثمان بزدار، اسد عمر ہیں، ایکسپورٹ سے پہلی چینی کی قیمت 55 روپے 47 پیسے فی کلو تھی۔

میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئےسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جب تک کمیشن چینی میں اضافے کے سب سے بڑے ذمہ داروزیراعظم کونہیں بلائینگے,اس وقت کےای سی سی کےچیئرمین کونہیں بلائیں گےتوآپکے کمیشن کا کوئی مقصد نہیں ہے.

چینی کمیشن نے 347 صفحات کی رپورٹ شائع کی، حقائق نہیں بتائے گئے، چینی کمیشن نے رپورٹ میں ذمے داروں کا تعین نہیں کیا، کمیشن اور رپورٹ حقائق چھپانے کیلئے پبلک ہوتی ہے، کمیشن کی رپورٹ میں یہ نہیں پتہ چلے گا کہ قیمت کیوں بڑھی? ملک میں چینی کی قیمت 60 فیصد بڑھ گئی، جب سے کمیشن بنا ہے چینی کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا چینی برآمد کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کا تھا، شوگر مافیا کابینہ اور پی ٹی آئی کے اندر موجود ہے، کمیشن کی رپورٹ میں اصل حقائق کو چھپایا گیا، 20 ماہ تک چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا لیکن حکومت نے مانیٹر نہیں کیا، وفاقی کابینہ کی سربراہی وزیرا عظم کرتے ہیں، ذمے دار عمران خان ہیں، چینی کی برآمد ن لیگ کے دور میں بھی ہوئی، قیمتیں کنٹرول رکھی گئیں۔انہوں نے کہا کہ  چینی ایکسپورٹ کے فیصلے کے کون ذمہ دار تھے؟ کیوں انہوں نے فیصلہ کیا؟ سبسڈی دی گئی اور مانیٹرنگ نہیں کی گئی 20 مہینوں سے چینی کی قیمت بڑھ رہی ہے لیکن حکومت آج بھی کچھ نہیں کررہی،حکومت کی طرف سے ہر روز ایک کرائے کا آدمی آکر پریس کانفرنس کرتا ہے، وزیرکیوں نہیں بولتے؟ وزیراعظم کیوں نہیں بولتا ؟کابینہ کیوں نہیں بولتی؟عوام آج بھی 90 روپے کلو چینی خرید رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ آپ یہ رپورٹ پڑھ لیں آپکو حقائق معلوم نہیں ہونگے کہ چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟کمیشن کا مقصد یہ تھا کہ پتہ چلے کہ چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟

مزید :

قومی -