قتل کے الزام میں سزائے موت اور  عمر قید پانیوالے 3ملزم بری 

 قتل کے الزام میں سزائے موت اور  عمر قید پانیوالے 3ملزم بری 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سہیل ناصرنے قتل کے الزام میں سزائے موت اور عمر قید پانیوالے تین ملزمان کو بری کر دیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ گواہان استغاثہ کے کیس کو مضبوط کرنے کے لئے پہلے بیان کو بہتر بنائے تو اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا،ملزموں عالم خان، فاروق خان اور سانول خان پر بھکر میں عبدالغفور کو ڈکیتی کے دوران قتل کا الزام تھاجس پر ایڈیشنل سیشن جج نے عالم خان کو سزائے موت جبکہ فاروق اور سانول کو عمر قیدکی سزاکا حکم سنایا تھا ملزمان نے اپنی اپیل میں کہا کہ پولیس کے تفتیشی افسر پر ان کے خلاف جھوٹا کیس بنانے کا بیان دیا تھا،ملزناں کامزید موقف تھا کہ جس جگہ قتل ہوا وہاں لائٹ نہیں تھی اس لئے عینی شاہد کا بیان جھوٹا ہے، شناخت پریڈ سے پہلے ہی ملزمان کی تصاویر اور ویڈیو بنائی گئی،عداکت نے قرار دیا کہ استغاثہ ثابت نہیں کر سکا کہ جائے وقوع پر روشنی موجود تھی جس میں دونوں عینی شاہدین نے ملزمان کو دیکھا، عینی شاہدین کی جائے وقوع پر موجودگی بھی مشکوک ہے،اگر ملزمان ڈکیتی کی غرض سے آئے تو انہوں دونوں عینی شاہدین کو کیوں چھوڑا، جب گواہ عدالت میں بیان بدلے تو ساکھ مشکوک ہو جاتی ہے، استغاثہ ملزمان کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہااس لئے مذکورہ تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔

ملزمان بری 

مزید :

صفحہ آخر -