چھوٹے شہر، بڑے شہروں کے برابر لانے کا منصوبہ!

چھوٹے شہر، بڑے شہروں کے برابر لانے کا منصوبہ!

  

پنجاب حکومت نے دیہات و قصبات سے بڑے شہروں کی طرف افرادی قوت کی منتقلی اور دباؤ کو کم کرنے کے لئے صوبے کے159 میں سے154چھوٹے شہروں کو بھی ترقی دینے کے لئے ان کے ماسٹر پلان تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔159 میں سے پانچ بڑے شہر لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ ان میں شامل نہیں کہ ان بڑے شہروں کے پہلے ہی سے ماسٹر پلان موجود ہیں،جن کی نوک پلک سنوار کر ان کی تصحیح کر دی جائے گی۔صوبائی حکومت کے مطابق صوبے بھر سے ان پانچ بڑے اور ترقی یافتہ شہروں کی طرف آبادی کی منتقلی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے،جو رکنے کا نام نہیں لیتا کہ یہ انتقال آبادی معاشی ضروریات اور روزگار کے لئے ہے،چنانچہ اب یہ سوچا گیا کہ باقی ماندہ154 شہروں کو صنعتی تجارتی اور معاشی لحاظ سے ان بڑے شہروں کے برابر لایا جائے تاکہ آبادی کے انتقال کا سلسلہ وہیں محدود ہو جائے، صوبائی حکومت کے مطابق اس مقصد کے لئے کسی منصوبہ بندی کے بغیر کام ہوا تو وہ مسائل جو بڑے شہروں کو درپیش ہیں وہ ان شہروں میں بھی بڑھ کر تکلیف دہ ہو جائیں گے،اِس لئے یہی منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ پہلے ان شہروں کے ماسٹر پلان تیار کر لئے جائیں جو انفراسٹرکچر کو بھی مضبوط بنائیں،اس ماسٹر پلان کے مطابق ہر شہر میں بنیادی ضروریات کے علاوہ تجارت، صنعت اور دیگر ذرائع روز گار کو بھی ایک ترتیب سے بحال اور شروع کیا جائے گا۔ صحت، صفائی اور انسانی ضروریات کے دوسرے عوامل اور کام بھی باقاعدہ ماسٹر پلان کے تحت ہوں گے۔صوبائی حکومت کا یہ منصوبہ بہت ہی حقیقت پسندانہ اورسوجھ بوجھ کا حامل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اولین منشور میں ملک بھر کے دو سو قصبات کو شہر بنانے کا منصوبہ اور وعدہ شامل تھا، لیکن یہ بوجوہ ایفا نہ ہوا، مگر تب ایسا ہوتا یا کام ہی شروع ہو جاتا تو اب تک بڑے شہروں پر آبادی کے دباؤ کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔صوبائی حکومت کو اپنے اس منصوبے پر جلد عمل کرنا چاہئے اور خیال رکھنا چاہئے کہ جس سوچ اور فکر کے تحت یہ کام کیا جا رہا ہے،اس پر پوری روح اور فکر کے ساتھ عمل ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -