معیشت بہتر…… مہنگائی کم نہیں ہو رہی

معیشت بہتر…… مہنگائی کم نہیں ہو رہی

  

منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ نیب کے خوف سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے،سرکاری افسروں اور کاروباری افراد کو تحفظ دینے کے لئے قانون لائیں گے۔سالانہ منصوبہ بندی کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے لئے4.8 فیصد گروتھ ریٹ کی منظوری دے دی ہے۔رواں سال شرح نمو3.9فیصد بڑھے گی،آئندہ مالی سال کے لئے900ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا جائے گا۔اِس سال2004 کے بعد معیشت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ کپاس کی فصل بہت بری طرح متاثر ہوئی، اِس سال بہتر بیج کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے ہیں، پولٹری کی صنعت کورونا بندشوں کے باعث بہت برے طریقے سے متاثر ہوئی، پولٹری اگلے سال نارمل ہو گی۔بجلی کی صنعتی کھپت میں 15فیصد اضافہ ہوا ہے،کوئلے کی پیداوار اور تعمیراتی شعبے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ برآمدات اگلے سال بڑھیں گی، جس کا تخمینہ26.8 ارب ڈالر ہے،آئی ٹی کی ایکسپورٹ میں 46فیصد اضافہ ہوا ہے، ترسیلات زر31.3 ارب ڈالر رہیں گی۔ سی پیک کے تحت50.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے اس سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔لاہور کے راوی سٹی پراجیکٹ میں لاکھوں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ دوسری جانب سٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کے لئے جو زری پالیسی جاری کی ہے اس میں شرح سود سات فیصد برقرار رکھی گئی ہے، جو25 جون2020ء سے چلی آ رہی ہے۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال میں معاشی ترقی مزید بہتر رہے گی تاہم آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح بھی بلند رہے گی، رواں مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کی اوسط شرح 9فیصد رہنے کی توقع ہے، غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی بڑھ کر11.1فیصد ہو گئی۔ معیشت گزشتہ سال کے کورونا کے دھچکے  سے نکل کر مستحکم انداز میں بحال ہو گئی ہے،زرمبادلہ کے ذخائر مزید مضبوط ہوں گے۔

جب سے3.90 فیصد شرح نمو کے اعداد و شمار سامنے لائے گئے ہیں حکومت کی صفوں میں ایک طرح کے جشن کا سماں ہے۔اگرچہ اپوزیشن ان اعداد و شمار کو چیلنج کر رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ گمراہ کن ہیں۔بعض ماہرین بھی ان اعداد و شمار کو درست نہیں مان رہے،لیکن اس بحث میں پڑے بغیر یہ سوال تو اہم ہے کہ معیشت اگر بہتر ہو رہی ہے تو اس کے اثرات اشیائے صرف کی قیمتوں پر کیوں مرتب نہیں ہو رہے،کہا جا رہا ہے کہ اِس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے اور پنجاب کی حکومت نے گندم کی خریداری کا ہدف بھی آسانی سے حاصل کر لیا ہے،لیکن گندم کے اس موسم میں عام طور پر آٹے کی جو قیمتیں کم ہو جایا کرتی ہیں وہ کیوں کم نہیں ہو رہیں،آٹا بدستور پہلے والے نرخوں پر کیوں دستیاب ہے،اور چکی آٹے کے فی کلو نرخ تو اب بھی90روپے فی کلو سے زائد ہیں،جبکہ گندم وافر دستیاب ہے۔روٹی کی قیمت دس روپے ہو گئی ہے اور نان اٹھارہ روپے کا بک رہا ہے، جہاں کہیں قیمتیں نہیں بڑھیں وہاں روٹی اور نان کا وزن کم ہو گیا ہے۔ کے پی کے میں جہاں نانبائی پیڑہ باقاعدہ تول کر بناتے ہیں اور وزن پورا رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں،وہاں نان کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔ اس صوبے میں گھروں میں روٹی پکانے کا رواج کم ہے اور بازار ہی سے عام طور پر نان اور روغنی نان ہی خرید کر کھائے جاتے ہیں،جس طرح کی روٹی پنجاب میں بکتی ہے اور ٹھنڈی ہونے پر فوراً سخت ہو جاتی ہے اس طرح کی روٹی کے پی کے میں کوئی نہیں کھاتا،گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے تو اس کا فائدہ صارف تک بھی تو پہنچنا چاہئے۔ وہ بدستور چکی کے دو پاٹوں میں پستے ہیں توا یسی بہتری سے انہیں کیا حاصل؟

سٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے اور اشیائے خوردنی کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی بڑھی یہ تو ان عوامل کی نشاندہی ہو گئی، جن کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے،لیکن اسے کم کرنے کے لئے کیا کیا جا رہا ہے یہ شاید سٹیٹ بینک کا کام نہیں اور نہ کوئی ایسی پالیسی بنائی گئی ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہو کہ قیمتیں مستقبل قریب میں کم ہو جائیں گی۔ البتہ وزیر خزانہ نے چند روز پہلے کہا تھا کہ جولائی، اگست اور ستمبر میں قیمتیں کم ہونا شروع ہو جائیں گی اگر واقعتا ایسا ہو جائے تو یہ بڑی اچھی بات ہو گی،لیکن بظاہر نہیں لگتا کہ ایسا ہو گا، کیونکہ اس وقت بنیادی اشیائے خوراک کے جو نرخ ہیں اُن میں کمی لانے کا کوئی میکانزم سامنے نہیں، پولٹری کی صنعت تو برباد ہو گئی،رہی سہی کسر مرغیوں کے وائرس نے نکال دی، اِس لئے اب نہیں کہا جا سکتا کہ مرغی کے گوشت کا نرخ کم ہو گا، کیونکہ جب تک سپلائی نہیں بڑھے گی، ریٹ کم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب پولٹری کا80فیصد کاروبار بند ہو گیا ہو تو سپلائی کہاں سے آئے گی،جب مرغی کا گوشت دستیاب نہیں ہو گا تو لوگ بیف یا مٹن کی خریداری کا سوچیں گے، جو پہلے ہی بالترتیب900 اور1400 روپے فی کلو کے لگ بھگ فروخت ہو رہا ہے،کوئی ماہر معیشت حساب لگا کر بتائے کہ پندرہ بیس ہزار روپے ماہوار کمانے والا کوئی شخص اِن نرخوں پر گوشت خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے۔

اسد عمر نے کہا ہے کہ نیب کے خوف کی وجہ سے سرمایہ کاری رُکی ہوئی ہے یہ بات حکومتی حلقے اُس وقت سے کہہ رہے ہیں جب سے حکومت برسر اقتدار آئی ہے،مگر اس خوف کو کم کرنے کے لئے عملاً کچھ نہیں کیا جا رہا، اِس سلسلے میں کاروباری لوگوں کے کئی اجلاس بھی متعلقہ حکام کے ساتھ ہو چکے ہیں،لیکن ڈھائی پونے تین سال کے عرصے میں نیب کا قانون بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بس اعلانات ہوتے رہتے ہیں،وزیراعظم عمران خان نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ نیب کرپشن روکنے میں ناکام رہا۔ اگر واقعتا ایسا ہے اور نیب کی وجہ سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے اور کرپشن بھی ختم نہیں ہو رہی تو پھر اس ادارے کی افادیت کا ازسر نو جائزہ لینا چاہئے اور ان لوگوں کی رائے پر بھی غور کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں جو کہتے ہیں کہ یہ ادارہ بنیادی طور پر سیاسی انجینئرنگ کے لئے بنایا گیا ہے،جس انداز میں یہ ادارہ سیاسی رہنماؤں کی ڈرائی کلیننگ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کرتا رہا ہے اگر اس کو نگاہ میں رکھیں تو یہ الزام اتنا بھی غلط نہیں،اب اگر اسد عمر چاہتے ہیں کہ سرمایہ کاری کا رُکا ہوا سلسلہ چل نکلے تو پھر اُنہیں نیب کے قانون میں تبدیلی کے لئے تیزرفتاری سے اقدامات کرنے چاہئیں، معیشت کی بہتری کی جو توقعات اگلے سال سے باندھی گئی ہیں اگر وہ پوری ہوتی ہیں تو بیروز گاری کم ہونی چاہئے اور قیمتوں کو معقول سطح پر آنا چاہئے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر اعداد و شمار کی جادو گری عام لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکے گی جو مہنگائی سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں اور خوشنما اعداد و شمار اُن کے دُکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے۔

مزید :

رائے -اداریہ -