یوم تکبیر پر پاک فوج کا بے باک، غیر جانبدارانہ خراجِ تحسین!

یوم تکبیر پر پاک فوج کا بے باک، غیر جانبدارانہ خراجِ تحسین!
یوم تکبیر پر پاک فوج کا بے باک، غیر جانبدارانہ خراجِ تحسین!

  

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشز کی طرف سے یوم تکبیر(28مئی) کے حوالے سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے، ”پاک فوج اور قوم جوہری طاقت کا خواب حقیقت بنانے والوں کو سلام پیش کرتی ہے، پاکستان نے 23 سال قبل جوہری طاقت کے مظاہرے سے خطے میں طاقت کا توازن برابر کیا،بھارتی برتری خاک میں ملا دی“۔ آئی ایس پی آر کی یہ پریس ریلیز ہم جیسے اعتدال پسند حضرات کی طرف سے زبردست تحسین کی مستحق ہے کہ اس ایک بیان کے ذریعے کوزے میں دریا بند کر دیا گیا ہے۔اس کے ذریعے ایٹمی پروگرام کے آغاز سے انجام تک کے ظاہر اور خاموش تمام کرداروں کی بلا امتیاز تعریف کی گئی اور ان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا،ان میں پروگرام کا تصور کر کے شروع کرنے والے سے لے کر اس کی تکمیل اور پھر دھماکے کرنے والوں تمام سیاسی، سرکاری،غیر سیاسی اور غیر سیاسی کرداروں کا واضح شکریہ ادا کیا ہے،یقینا آج ہم جس ایٹمی صلاحیت کے بل بوتے پر دفاع کا دعویٰ کرتے ہیں،وہ کسی ایک فرد نہیں،افراد کی محنت، کاوش، سوچ اور بہادری کے باعث وجود میں آئی تھی،اگر تھوڑی سی جانبداری کی اجازت دیں تو زیادہ حصہ اس شخصیت کا بنتا ہے،جس نے سوچا، عمل شروع کیا اور پھر جان دے دی،میرے خیال میں ایک بظاہر گمنام شخصیت بھی تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے پھانسی پانے والے بھٹو کے ایما پر ایٹم کی تیاری کے لئے آلات مہیا کئے اور جس عمل کو ناجائز اور غیر قانونی کہا جاتا ہے اسی کے ذریعے یہ کارنامہ انجام دیا۔ معروف ترین سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندہ جاوید ہیں ان کی خدمات سے انکار ممکن ہی نہیں۔ ان کے خلاف لاکھ الزام لگائیں، قوم ماننے اور تسلیم کرنے کو تیار نہیں،وہ ایک آزاد شہری کی نقل و حرکت سے تو محروم ہیں،لیکن غیر مرئی نظر بندی کے ہوتے ہوئے بھی فلاحی کاموں میں خود کو مصروف رکھتے ہیں۔اگر ذوالفقار علی بھٹو اور بعدازاں جنرل ضیاء الحق کی غیر قدرتی اموات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی اسی صلاحیت کے پس منظر کی حامل ہیں۔ بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو نے تصور کیا،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بلایا،اسباب مہیا کئے اور نشانِ عبرت بننا قبول کیا، تاہم تمام تر الزام بھٹو کو پھانسی دینے، مارشل لاء لگا کر کوڑے برسانے اور آمریت قائم کرنے والے  نے  ایٹمی پروگرام منجمد یا رول بیک نہیں کیا،بلکہ محترم مشاہد حسین کی وساطت سے بھارتی صحافی کلدیب نائر کے ذریعے یہ اعلان بھی کروایا کہ پاکستان ایٹم بم تیار کر چکا اور پھر یہ بات بھی انہی سے منسوب ہے کہ جب سرحدی حالات نازک صورت اختیار کر گئے تو کرکٹ ڈپلومیسی اختیار کی اور بھارت جا کر بھارتی وزیراعظم کے کان میں کہہ دیا،”ہم نے بھی ایٹم بم پھلجھڑی چلانے کے لئے نہیں رکھا“ تب بھی بھارت کی طرف سے جنگ اور پاکستان فتح کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں،ہم نے ابتدا میں یہ بھی کہا کہ اس میں غیر سیاسی، غیر سرکاری کرداروں کا بھی حصہ ہے تو اس سلسلے میں سیٹھ عابد(مرحوم) کا نام آتا ہے۔ گزشتہ دِنوں جب یہ ذکر سوشل میڈیا پر آیا تو ہمارے برادرم ثقلین امام(حال بی بی سی لندن) کو جلال آ گیا  تھا۔اس کی بہت وضاحت بھی ہوئی، جس انداز اور جس دور اور زمانے میں یہ کام ہوا، تب فرانس کی طرف سے ایٹمی پلانٹ سے انکار کیا گیا تھا،حالانکہ معاہدہ کے مطابق ایسا ہوتا تو پرامن ایٹمی صلاحیت کا آغاز ہوتا،جو بین الاقوامی مشاہدے کے لئے کھلی ہوتی، لیکن کبڑے کو راس آنے والی لات کے مطابق فرانس کے اسی انکار نے بھٹو کو پروگرام خفیہ رکھنے اور پرزہ جات سمگل کرنے کا تصور دیا،  پاکستان اور قوم سیٹھ عابد کے اس کام کی تعریف کرنے میں حق بجانب ہے۔

ہمیں یہ سب لکھنے کی تحریک آئی ایس پی آر کے بیان سے ہوئی اور ہم ہر نوع کا الزام سر پر لینے کو تیار ہو کر تعریف کرتے ہیں کہ کم از کم اس بیانیے سے ثابت ہوا کہ فوج قومی سوچ کی حامل ہے اور یہ بیان اس کی غیر جانبداری کا بھی مظہر ہے،ورنہ یہ بیان ایسا واضح نہ بھی ہوتا تو کیا کہا جا سکتا تھا۔ہم توقع کرتے اور اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ ہمارا یہ گمان حقیقت اور سچ ہو کہ آج ملک کے اندر جو سیاسی تنازعہ اور نزاع نظر آتا ہے، وہ بھی ایسے ہی گمان اور بدگمانی کا نتیجہ ہے کہ اس سب کا پس منظر بھی تو ہے اور ایٹمی صلاحیت ایسے ہی خیالات اور عملیات  میں سے ایک ہے۔

اب ذرا بات ہو جائے ایٹمی صلاحیت کے ہوتے ہوئے حالات حاضرہ کی تو قارئین کرام! آج بھی ایک بڑا طبقہ ایسا موجود ہے،جو اس پروگرام اور صلاحیت کو قوم اور قومی خزانے پر بوجھ سمجھتا ہے،جبکہ قوم کی بہت بڑی اکثریت اس موقف کی حامی ہے کہ بغل میں ہندوتوا والے انتہا پسند، پُرتشدد اور جارح دشمن کے ہوتے ہوئے یہ صلاحیت دفاعی مجبوری بھی ہے۔بلاشبہ اس کی حفاظت بھی بہت بڑا بوجھ ہے،لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اس پروگرام کے عملی بانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ بھارت نے اگر کوئی ایڈونچر کیا تو اس کے ایک سو سے زائد اہم ترین مراکز پاکستان کے نشانے پر ہیں اور ایک سے دس سیکنڈ کے اندر بھارت تہس نہس ہو جائے گا، اب بعض معترض ڈاکٹر صاحب کی اسی بات کو لے کر بہت تنقید کرتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت یکطرفہ نہیں، اس ”جنگ“ سے انسانیت ختم ہو جائے گی۔ خیال درست لیکن اندازِ فکر غلط ہے، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ اندازِ فکر صرف ہمارا ہی کیوں، ہمارا ملک بھارت کی نسبت کئی گنا چھوٹا اور اسلحہ کی بھرمار میں بھی ہمارا مقابلہ نہیں ہے،اسی لئے تو یہ صلاحیت دفاعی کہلاتی ہے،اب اگر اسی حوالے سے محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کی تعریف نہ کی جائے تو بخیلی ہو گی۔محترمہ نے بھی ایک بہادر خاتون ہونے کا ثبوت دیا اور  میزائل سازی کی صلاحیت اور اہلیت سے ملک کو مالا مال کیا،آج ہمارے دفاعی ماہرین میزائلوں کے جو تجربات کرتے ہیں، وہ سب بھی  اسی کا حصہ ہیں وجہ بالکل صاف ظاہر ہے کہ ہمیں اپنے دشمن کے مقابلے میں دفاعی حد تک تیار رہنا ہے کہ یہی ”میزائل وار ہیڈ“ لے جانے کی صلاحیت سے بھی مالا مالا ہوتے ہیں اور ہمارے اکابرین دفاع کا یہ اعلان بھی ہے کہ یہ سب جارحیت نہیں،دفاع کے لئے ہے اور پاکستان کو کمزور نہ سمجھا جائے۔

ہم نے اپنے طور پر اعتدال کے ساتھ ایک تجزیہ پیش کر دیا، جو معلومات ہی کے حوالے سے ہے،اب صرف ایک عرض کر کے اجازت کہ ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے حمایت و مخالفت میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ افسانوی سی صورت اختیار کر چکا ہے،ہم پورے یقین سے کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کا زوال اور ان کی موت کا سلسلہ1974ء میں لاہور کے اسمبلی ہال میں ہونے والی چوتھی اسلامی کانفرنس ہے،اسی کے ذریعے انہوں نے چوتھی دنیا کا تصور دیا،جو معاشی تھا اور اسی کے بعد ہی ایٹمی صلاحیت کو تیزی سے پروان چڑھایا اور اپنے دورِ اقتدار ہی میں نہ صرف افرادی قوت ایکسپورٹ کی،بلکہ ایٹمی پروگرام کی اس حد تک تکمیل کر دی کہ بعد میں آنے والے اسے ختم نہ کر سکے اور ان کو یہ جاری ہی رکھنا پڑا،آخری بات کہ ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی موت کا اس حد تک یقین تھا کہ جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ کسی طرح نصرت بھٹو سے رحم کی اپیل کرائی گئی ہے تو وہ بہت ناراض ہوئے تھے۔

مزید :

رائے -کالم -