انصاف عوام کی دہلیز پر،گِھسا پٹا نعرہ

انصاف عوام کی دہلیز پر،گِھسا پٹا نعرہ
انصاف عوام کی دہلیز پر،گِھسا پٹا نعرہ

  

یہ جملہ میری طرح آپ نے بھی حاکمانِ وقت کی زبان سے سینکڑوں مرتبہ سنا ہو گا کہ عوام کو انصاف اُن کی دہلیز پر فراہم کیا جائے گا۔ یہ جملہ پہلی بار جس کسی نے بھی استعمال کیا وہ بہت بڑا جادوگر تھا۔اُسے معلوم تھا اس جملے میں ایسا سحر موجود ہے،جو کروڑوں بے آسرا عوام کو خوشی سے نہال کر سکتا ہے،جس معاشرے میں اشرافیہ کی یہ ترجیح ہی نہ ہو کہ عوام کو انصاف ملے اُس معاشرے میں اُن کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کی خوشخبری کیا ستم ڈھا سکتی ہے،اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں، جہاں کچہریوں میں انصاف ملتا نہیں، بلکہ بکتا ہو، وہاں دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کا جھانسہ ہے تو بہت سفاکانہ، مگر اس میں عوام کے لئے کشش بھی بہت ہے۔یہ دہلیز والی بات حکمرانوں کو اتنی پسند آئی کہ انہوں نے روز گار بھی دہلیز پر پہنچانے کی بات شروع کر دی،پھر اس سے بھی آگے بڑھے تو علاج معالجے کی سہولتیں بھی دہلیز پر پہنچانے کا مژدہ سنایا، عوام اپنی دہلیزوں پر کھڑے ان باتوں کی تعبیریں پانے کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں،انہوں نے ملنا تھا نہ ملیں، آج یہ حال ہے کہ روز گار بھی ناپید ہے، انصاف بھی عنقا ہے اور ہسپتالوں میں دوائیاں تک دستیاب نہیں۔

آج انصاف دہلیز تک پہنچانے والی بات اس لئے یاد آئی کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ملتان میں ڈسٹرکٹ بار کے ہال اور چیمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اُن کی ترجیح یہی رہی ہے کہ عوام کو انصاف اُن کی دہلیز پر فراہم کیا جائے۔جسٹس محمد قاسم خان ایک دبنگ شخصیت کے مالک ہیں وہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے طالب علم رہنما کی حیثیت سے بہت فعال رہے،بعدازاں وہ وکالت میں آئے تو اپنے آپ کو منوایا۔اب عدلیہ میں ہیں تو سچی بات کہنے سے نہیں چوکتے،چاہے وہ کسی کو بری ہی لگے۔انہوں نے اپنے دورِ طالب علمی اور دورِ وکالت میں یہ جملہ بار بار سنا ہو گا کہ انصاف عوام کو اُن کی دہلیز پر فراہم کیا جائے گا،بلکہ ہم نے خود دیکھا کہ اس زمانے میں تو وہ ناانصافی کے خلاف آواز بھی اٹھاتے رہے۔اُن کا اِس حوالے سے کردار ہمیشہ نمایاں رہا۔ جج بننے کے بعد انہیں اس بات کا اندازہ ہوا ہو گا کہ عوام کو اُن کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا کتنا مشکل ہے۔ملتان میں خطاب کے دوران انہوں نے ورلڈ بنک کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں انصاف کے حوالے سے پاکستان کی ریٹنگ بہت نچلی سطح پر دکھائی گئی ہے، انہوں نے کہا ہم بہتری لانا چاہتے ہیں، مگر کچھ کام حکومت نے کرنے ہیں وہ اپنے حصے کے کام کرے تو انصاف عوام کو اُن کی دہلیز پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا زندگی بھر میری پہلی ترجیح یہی رہی ہے کہ عوام کو فوری انصاف ملے، مگر یہ کام اکیلے عدلیہ نہیں کر سکتی، جب تک حکومت وسائل فراہم نہ کرے۔

جسٹس محمد قاسم خان نے جس بات کی نشاندہی کی ہے،اُس کا پہلے بھی متعدد مرتبہ ذکر ہو چکا ہے۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی یہی کہتے تھے کہ حکومت جج اور عدالتیں فراہم کرے تو انصاف کی فراہمی تیز ہو سکتی ہے۔اُدھر حکومت کی ہمیشہ یہی آواز سنائی دی ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لئے عدلیہ کو ہر ممکن وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ حیرت ہے جب دونوں طرف سے مسئلے کی نشاندہی ہو چکی ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے، حکومت وسائل کیوں فراہم نہیں کرتی اور عدلیہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کر کے عوام کو انصاف کی فراہمی یقینی کیوں نہیں بناتی۔ مجھے یاد ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ایک تقریب کے دوران وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس دونوں ایک تقریب میں اکٹھے موجود تھے، وہاں وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک کہا تھا کہ چیف جسٹس اپنی ڈیمانڈ بتائیں ہم پوری کریں گے تاکہ انصاف کو یقینی اور بروقت بنایا جا سکے۔اُس وقت لگتا تھا کہ بات اب آگے ضرور بڑھے گی،لیکن ایسا نہیں ہوا اور دھاک کے تین پات کے مصداق معاملہ  وہیں کا وہیں رہا۔آج اگر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے کہا ہے کہ کچھ کام حکومت نے کرتے ہیں تو عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ایسا ورکنگ ریلیشن کیوں قائم نہیں ہو سکتا، جس کا اولین مقصد عوام کو سستے  اور فوری انصاف کی فراہمی ہو۔کیا واقعی یہ بات درست ہے کہ اس ملک میں انصاف کی فراہمی ہماری اشرافیہ کی ترجیح ہے ہی نہیں،کیونکہ لوگوں کو انصاف ملنے لگا تو اشرافیہ کی وہ گرفت کمزور ہو جائے گی،جو اُس نے اس ریاستی جبر کے ذریعے عوام پر قائم کر رکھی ہوئی ہے۔

اس ضمن میں ایک دوسرا نقطہ نظر بھی ہے،کچھ حلقے ہمارے عدالتی نظام، اُس کے طریقہ کار، جوڈیشل قواعد اور وکلا کی سیاست کو بھی انصاف کی فوری فراہمی کے راستے میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔اُن کا بنیادی سوال یہی ہے کہ نئی عدالتیں بنا دینے سے انصاف کیسے جلد مل سکتا ہے؟ کیا جو عدالتیں اس وقت کام کر رہی ہیں، وہ بروقت فیصلے کرتی ہیں یا اُن میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ایک جوڈیشل پالیسی بنائی گئی تھی، جس میں مقدمات کے فیصلوں کا ایک ٹائم فریم دیا گیا تھا۔ بڑی تشہیر کی گئی تھی کہ اب مقدمات میں تاخیری حربے استعمال نہیں کئے جا سکیں گے،مگر یہ سارا کام بھی سیاست کی نذر ہو گیا۔ ججوں نے بروقت فیصلے کرنے کے لئے مقدمات کی رفتار تیز کی تو وکلاء نے اُن کا جینا دوبھر کر دیا۔ کہیں ججوں پر حملے ہوئے اور کہیں انہیں عدالتوں میں برے سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلا اپنے مفاد کے لئے مقدمات کو طول دیتے ہیں یہ سب کو معلوم ہے، لیکن کوئی عدالتی نظام انہیں مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ بے جا تاریخیں نہ لیں اور مقدمات کو جلد فیصلوں تک پہنچانے میں عدالتوں کی معاونت کریں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی سطح پر تو شاید یہ معاملہ نہیں، کیونکہ وہاں جج صاحبان اپنا اختیار استعمال کر کے وکلا کو قانون کی پیروی پر مجبور کر دیتے ہیں،تاہم زیریں سطح کی عدلیہ اس حوالے سے سخت دباؤ کا شکار رہتی ہے۔اب اس معاملے کا تو وسائل کی فراہمی سے کوئی تعلق نہیں یہ تو سیدھا سادہ انتظامی معاملہ ہے،جس پر عملدرآمد سے انصاف کی فراہمی کو  بروقت اور تاخیری حربوں سے بچایا جا سکتا ہے۔

عوام تو اب یہ دہائی دیتے ہیں کہ بے شک انصاف اُن کی دہلیز پر فراہم نہ کیا جائے،کم از کم عدالتوں میں تو اُن کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔آج بھی پیسے کے بل بوتے پر آپ مقدمے کو جتنا چاہیں طول دے سکتے ہیں۔ انصاف کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اگر بروقت نہ ہو تو ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ہمیشہ یہ سنتے ہیں کہ بار اور بنچ انصاف کی فراہمی کے دو ستون ہیں، لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ان کے درمیان ایک کشمکش جاری رہتی ہے۔ جب تک ان میں ایک مثالی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی اُس وقت تک چاہے جتنے بھی وسائل فراہم کر دیئے جائیں عوام کو سستا اور  فوری انصاف نہیں مل سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -