کراچی کو صرف ڈیڑھ فیصد پانی ملتا ہے،ملک کو چلانے والا کوئی نہیں:مصطفیٰ کمال

 کراچی کو صرف ڈیڑھ فیصد پانی ملتا ہے،ملک کو چلانے والا کوئی نہیں:مصطفیٰ کمال

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نام کی چیز نہیں ہے، ملک کو چلانے والا کوئی نہیں ہے، کراچی کو صرف ڈیڑھ فیصد پانی ملتا ہے۔پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول صاحب پانی کے معاملے پر پنجاب سے ناراض ہیں، اچھی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کی آبادی کا پچاس فیصد ہے۔ کراچی پاکستان کو 70 فیصد روینیو دیتا ہے، لیکن ایک قطرہ نیا پانی نہیں آتا، جو پانی آتا ہے اس کو چوری کرکے لوگوں کو ٹینکر بھیجے جاتے ہیں۔ ارسا سے سندھ کو ملنے والے پانی کا صرف ڈیڑھ فیصد پانی کراچی کو ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی انڈسٹریز چلتی ہیں، یہاں لوگ رہتے ہیں۔ سندھ میں بھٹو صاحب کے دور سے کوٹا ہے، لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہورہا۔ کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور سکھر کے لوگوں کو کوٹا کے تحت نوکریاں نہیں مل رہیں۔ باہر کے لوگوں کو جعلی ڈومیسائل کے ذریعے نوکریاں دی جارہی ہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ کورونا کے چکر میں چھوٹا موٹا کاروبار بھی بند کردیا گیا ہے۔ پولیس نے بہت بڑا پیسہ کمایا ہے۔ کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں ہے، لوگ مر رہے ہیں۔چیئرمین پی ایس پی نے کہا کہ ہم نے شہر کے امن کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیں ہیں۔ اس ملک میں کوئی حکومت نام کی چیز نہیں ہے۔ چور خود چوری کر رہا ہے، ملک کو چلانے والا کوئی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیں ڈنگ دیکھ دیکھ کر ہمارے بال ہی سفید ہوگئے، عارف نقوی نے دنیا میں جو نقصان کیا ہے وہ کراچی سے نکالے گا۔ بجلی کا معاملہ وفاقی حکومت کا ہے، عارف نقوی پی ٹی آئی کا بڑا فنڈ دینے والا ہے، عمران خان کارروائی کیوں کرینگے۔ مجھے نہیں لگتا کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلا حل ہوگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -