ہمارے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی:مفتی اعجاز

ہمارے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی:مفتی اعجاز

  

 خیبر (بیورورپورٹ) خوگہ خیل قوم کی آٹھ رکنی کمیٹی کے مفتی اعجاز شینواری معراج الدین شینواری نثار شینواری لطف اللہ شینواری ذکریا شینواری و دیگر نے لنڈی کوتل پریس کلب میں میٹ دی پریس سے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ خوگہ خیل قوم نے این ایل سی اور ایف بی آر کیساتھ طورخم بارڈر پر اپنی اراضی پر 2015 میں  ایگرمنٹس کئے ہیں جس کی رو سے این ایل سی اور ایف بی آر کو قوم خوگہ خیل نے تین سو کنال زمین دی ہے جبکہ این ایل سی اور ایف بی آر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان سے زیادہ زمین پر قابض ہو گئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ این ایل سی اور ایف بی آر نے ان کے بارہ کروڑ روپے کے چیکس روک رکھے ہیں اور وہ ان چیکس کو ان شرائط پر دے رہے ہیں جو قوم جوگہ خیل کے ساتھ ظلم ہیں مفتی اعجاز شینواری نے کہا کہ خوگہ خیل قوم ایک محب وطن قوم ہیں اور وہ یہاں انتشار نہیں پھیلانا چاہتی جبکہ این ایل سی حکام ان کیساتھ مسلسل وعدہ خلافی کر رہی ہیں جس سے پوری قوم میں مایوسی اور اداسی پائی جاتی ہیمفتی اعجاز شینواری نے کہا کہ یہاں کے مکینوں کے معاش کا واحد زریعہ طورخم بارڈر تھا جس پر یہاں کے ہزاروں افراد کے خاندانوں کی رونقیں بحال تھی جبکہ این ایل سی کے آنے کیساتھ ہی یہاں کے لوگوں سے روزگار چھینا گیا یہاں ان کے جائدادیں مارکیٹیں اور دکانیں بند ہوگی مفتی اعجاز شینواری نے بتایا کہ طورخم بارڈر پر این ایل سی حکام اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے طورخم بارڈر پر کسٹم ایف بی آر اور سیکورٹی کے فرائض اور ذمہ داریاں بھی این ایل سی نے لیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ بارڈر پر مزدوروں کیساتھ ان کا رویہ بھی قابل افسوس ہے طورخم بارڈر پر ان کے مارکیٹوں کے سامنے دیوار کھڑے کے اور گیٹ کی تنصیب کی گیی جس کی وجہ سے یہاں ان کے لاکھوں کروڑوں کے مارکیٹس تباہ ہوگئے جبکہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں  معراج الدین شینواری نے بتایا کہ این ایل سی حکام کی وجہ سے کسٹم ایجنٹس کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے این ایل سی حکام نے تمام تر ادرون کی ذمہ داری اپنی سر پر لئی ہوئی ہے اور بے جا مداخلات کر رہی ہے جس سے تاجروں کا یہاں سے اعتماد اٹھ رہا ہے اور یہاں تجارت میں کمی واقع ہو رہی ہے جس سے قومی خزانے کو بھی نقصان ہو رہا ہے زکریا شینواری نے بتایا کہ قوم خوگہ خیل کسی بھی طرح سے مزاکرات سے پیچھے نہیں ہٹتی اور مزاکرات پر یقین رکھتی ہے جبکہ این ایل سی ان کیساتھ سنجیدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے مسائل کے حل میں دشواری کا سامنا ہے خوگہ خیل قومی پرامن قوم ہیں اور پرامن جمہوری طریقے سے اپنا حق لے کر رہے گی مفتی اعجاز شینواری نے کہا کہ آٹھ رکنی کمیٹی پر قوم کا اعتماد ہیں اور وہ جائداد کی تقسیم میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس سے خوگہ خیل قوم کو رہائشی زمینوں کا مسلہ حل ہوگا.

مزید :

پشاورصفحہ آخر -