آئندہ سالانہ ترقی پروگرام عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ہوگا:وزیر اعلیٰ سندھ

  آئندہ سالانہ ترقی پروگرام عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ہوگا:وزیر اعلیٰ سندھ

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ سالانہ ترقی پروگرام(اے ڈی پی)عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ہوگا جس میں وبائی امراض، معیشت کی بحالی، غربت کے خاتمہ اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق اسکیمیں شروع کی جائینگی۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلی ہاس میں آئندہ مالی سال 22-2021 کے ترقیاتی پروگرام(اے ڈی پی)کو حتمی شکل دینے کے لئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری سید ممتاز علی شاہ، چیئرپرسن منصوبہ بندی و ترقی شیریں ناریجو، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی اور مختلف محکموں کے سیکریٹریوں نے شرکت کی۔22-2021 کی اگلے اے ڈی پی کو حتمی شکل دیتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ جن محکموں کو 100 فیصد فنڈ مہیا کیے گئے ہیں وہ اپنی جاری اسکیموں کو مکمل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن اسکیموں پر 50 فیصد فنڈ استعمال کیے گئے ہیں ان کو اگلے بجٹ میں مکمل کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وبائی امراض نے معیشت کو سخت متاثر کیا ہے، لہذا غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غربت کو کم کرنے کے لئے معاشرتی ترقیاتی پروگراموں کا آغاز کریں گے اور چھوٹے کاروباری افراد کو ان کے کاروبار کی بحالی کے لئے ریلیف دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں کوویڈ-19 کے وبائی مرض پر قابو پانے سے متعلق اسکیموں کو فوقیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوسرے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں متعدی / وبائی بیماریوں کے اسپتال قائم کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی پوری آبادی کو حفاظتی ویکسین لگائیہ جائے گے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کورونا وائرس وبائی امراض کے باعث پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران تعلیم کے شعبے کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیمی نظام کو جدید بنانے کے لئے اسکیم کا آغاز کریں گے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بغیر کسی مداخلت کے جاری رکھی جاسکیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ دیہی علاقوں میں زراعت کے شعبے کی ترقی کے علاوہ، ماہی گیری اور مویشیوں کی افزائش کو فروغ دینے کے لئے اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیہی علاقوں کے لوگوں کو ماہی گیری اور مویشیوں سے متعلق ان کی حوصلہ افزائی کریں گے جو کہ تھوڑی سے سرمایہ کاری کے ساتھ بہتر منافع رکھتے ہیں۔وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ اسٹیوٹا کے پاس 9 جاری اسکیمیں ہیں، وومین ڈولپمنٹ  کی 2، محکمہ ثقافت وسیاحت کی 5، محکمہ داخلہ کی 14، ایس اینڈ جی اے ڈی کی 23، محکمہ صنعت کی 2، محکمہ لائیواسٹاک  کی 7، محکمہ فشریز کی 5، اقلیتوں کی ایک، ماس ٹرانزٹ کی 6، قانون اور پارلیمانی امور کی 8 اور کھیل اور نوجوانوں کے امور کی 3 جاری اسکیمیں ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ مالی سال میں جاری اسکیموں کی تکمیل پر توجہ دیں۔ انہوں نے وزیر ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ وہ کراچی میں بی آر ٹی اورنج، یلو اور ریڈ لائنوں کی لانچنگ اور تکمیل میں تیزی لائیں۔سید مراد علی شاہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ساتھ بیٹھیں اور اپنے  ترقی کیاسکیموں کی  ترجیحات کو حتمی شکل دیں تاکہ اگلے پورٹ فولیو کو بجٹ 22-2021 کے لئے حتمی شکل دی جاسکے۔

مزید :

صفحہ اول -