الطاف حسین نے سپریم کورٹ کو”کھر ی کھری“سنا دیں

الطاف حسین نے سپریم کورٹ کو”کھر ی کھری“سنا دیں
الطاف حسین نے سپریم کورٹ کو”کھر ی کھری“سنا دیں

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی بدامنی عمل درآمدکیس میں سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب کے ریمارکس جوکہ اخبارات اور میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں کہ” کراچی کی حلقہ بندیاں اس طرح کی جائیں کہ کسی ایک جماعت کی اجارہ داری نہ ہو“،سراسر غیرآئینی ،غیر جمہوری ،متعصبانہ ہیں اور یہ کھلی کراچی دشمنی کی عکاسی کرتاہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئی مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں کرنا آئین اور قانون کی روح کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ صدر آصف زرداری، حکومت،چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخارمحمدچوہدری اورسپریم کورٹ کے دیگرغیرجانبدار وغیرمتعصب ججز بھی اس معاملے کافوری نوٹس لیں اور سپریم کورٹ کے جن ججوں نے ایسے متعصبانہ ریمارکس جاری کیے ہیں انکے خلاف آئین کے تحت کارروائی کی جائے۔ ا یم کیو ایم کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہاکہ پوری دنیاکے جمہوری ممالک کی عدالتی تاریخ میں آ ج تک ایسے نرالے ،انوکھے اورمتعصبانہ ریمارکس نہیں دیے گئے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے بینچ کویہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ یہ کہے کہ ایسی حلقہ بندیاں تشکیل دی جائیں کہ کسی ایک جماعت کی اجارہ داری نہ ہو۔یہ کسی عدالت کانہیں بلکہ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ کسی بھی حلقہ میں کس جماعت کو اپنا مینڈیٹ دیتے ہیں۔کسی کوبھی یہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ عوام کے اس حق کوچھینے۔الطا ف حسین نے کہاکہ پوری دنیامیں مردم شماری کے بعد آبادی کے تناسب سے حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں اورپاکستان میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ حلقہ بندیاں مردم شماری کے بغیرنہیں کی جاسکتیں لیکن سپریم کورٹ کی مخصوص بینچ کی جانب سے مردم شماری ہوئے بغیرصرف کراچی میں حلقہ بندیاں کرانے کاحکم سراسر غیرجمہوری ہے۔یہ ریمارکس لسانیت کوہوادینے اورکراچی میں آبادمختلف قومیتوں کو ایک دوسرے سے نبردآزماکرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ مردم شماری کا عمل مکمل کرکے پورے ملک میں نئے سرے سے حلقہ بندیاں کرائی جائیں چاہے اس میں کتناہی عرصہ لگے۔ الطاف حسین نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی علیحدگی کے دہانے پر کھڑاہے اب کراچی کے بارے میں اس طرح کے متعصبانہ آبزرویشنزدیکر آخرکراچی والوں کوکیاپیغام دیاجارہاہے؟۔

مزید : ڈیلی بائیٹس