پاکستان کا نظام تعلیم

پاکستان کا نظام تعلیم
پاکستان کا نظام تعلیم

  

پنجاب حکومت کی طرف سے نوجوانوں کی ترقی و بہبود کےلئے کئے گئے اقدامات ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے ہیں۔ کسی حکومت نے اس سے پہلے نوجوانوں کے لئے اس طرح کے اقدامات اتنے وسیع پیمانے پر نہیں کئے۔ نوجوانوں نے جس طرح یوتھ فیسٹیول میں شرکت کی، اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ان میں جوش و جذبے کی کمی نہیں۔ اب یہ وقت ہے کہ حکومت انہیں مواقع فراہم کرے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کسی حد تک یہ کام کررہی ہیں۔ یہ میرا یقین ہے کہ اگر حکومت حقیقتاً نوجوانوں کی مدد کرنا چاہتی ہے تو انہیں سب سے پہلے سکولوں سے تبدیلی کا عمل شروع کرنا چاہئے۔

ہمارے نظام تعلیم پر متواتر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ یہ طالب علموں کی شخصیت کو نشوونما دینے پر ارتکاز نہیں کرتا، جو بلاشبہ درست ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو میٹرک کے طریقہ کار پر نظرثانی کرنی چاہئے جو بدقسمتی سے نقائص سے بھرپور ہے۔ اس طریقہ کار میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ نظام صرف سال کے آخر میں امتحان لینے کے طریقہ کار پر مبنی ہے۔ اس میں سال بھر کی کارکردگی کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔ اس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ٹیوشن کلچر فروغ پا گیا ہے۔ طالب علم کلاسوں میں پڑھنے پر توجہ نہیں کرتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کلاسوں میں آنے کی بھی زحمت نہیں کی جاتی کیونکہ طلباءجانتے ہیں کہ وہ ٹیوشن پڑھ کر اپنی کمی پوری کرسکتے ہیں۔

اس سے نہ صرف کلاس کا نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے بلکہ اساتذہ بھی کلاسوں میں طلباءکو پڑھانے کی بالکل کوشش نہیں کرتے چونکہ امتحان میں پوچھے جانے والے سوالات نصابی کتب سے منتخب کئے جاتے ہیں اس لئے طالب علم ان کتابوں سے حاصل کردہ جوابات کو رٹا لگا لیتے ہیں۔ اس طرح کتابوں میں دیئے جانے والے موضوعات کا بنیادی تصور سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ یہ روش مستقبل میں انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی کیونکہ طالب علم کسی تصور یا نظریئے کا ادراک کرنے کے لئے سوال نہیں پوچھیں گے بلکہ وہ علم حاصل کرنے کے بنیادی حصے کو چھوڑ دیں گے۔

اگر ہمارے پاس ایسے نوجوان نہیں ہوں گے جو مختلف اشیاءکے متعلق سوال کرنے کے فن سے آشنا نہیں ہوں گے تو پھر ہماری مستقبل کی نسل ایسی ہوگی جو پرانے اور روایتی عقائد اور نظریات کو چیلنج کرنے کے جوہر سے عاری ہوگی۔ اس طرح کی نوجوان نسل معاشرے میں وہ تبدیلی نہیں لاسکتی جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔ نظام تعلیم میں اس طرح کی خامیاں ہماری مستقبل کی نسلوں کو نقصان پہنچائیں گی۔ اس لئے جتنی جلدی ممکن ہو انہیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔

 اس مسئلے کا فوری اور تیز حل یہ ہے کہ External Examination کا نظام اپنایا جائے جس طرح عالمی نصاب تعلیم میں بہت سے مضامین ہوتے ہیں جن کو ترتیب دینے کا مقصد یہ ہے کہ سوالات پوچھنے کے لئے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی جائے اس سے ہمارے نظام تعلیم کی بہت سی خامیاں دور ہوجائیں گی۔ اگر External Educatoin System ہمارے تقاضوں اور ضروریات کو پورا نہ کرسکے تو پھر ہم دنیا بھر میں مروج نظام ہائے تعلیم کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنا نظام تعلیم تشکیل دے سکتے ہیں۔ ایسا نظام جو ہمارے طلباءاور ہماری قوم کو فائدہ پہنچائے گا اور انہیں اس قابل بنادے گا کہ وہ باقی دنیا سے مقابلہ کرسکیں۔ ہم نے جو کچھ بھی کرنے کا فیصلہ کرنا ہے وہ بہت جلد کرنا ہوگا کیونکہ جو وقت بھی ضائع ہوتا ہے اس سے ہماری قوم کا مستقبل خطرے میں پڑجاتا ہے۔    ٭

مزید : کالم