ٹریفک کون ٹھیک کرے گا؟

ٹریفک کون ٹھیک کرے گا؟
ٹریفک کون ٹھیک کرے گا؟

  

اک ذرا صبر کہ مشکل کے دن تھوڑے ہیں.... وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے جو خادم پنجاب ہیںو تھوڑی دیر کی تکلیف، مستقبل کی راحت کا نعرہ لگا کر میٹرو بس سروس کا منصوبہ شروع کیا۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ یہ مرحلہ وار ہوگا اور وہ تھوڑی تکلیف اور پریشانی کا سامنا کریں گے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ راحت سے پہلے شہریوں کو اتنا زیادہ دکھی کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ لوگ منصوبہ مکمل ہونے پر بھی خوش نہ ہو سکیں۔ گجومتہ سے شاہدرہ تک کا یہ سلسلہ طویل ہونا ہی تھا کہ ملتان روڈ بھی شروع کرا دی گئی۔ اس کا نتیجہ اتنی بڑی بدنظمی کی شکل میں نکلا کہ تھوڑی تکلیف والی بات بھول ہی گئی۔ پورا شہر گرد و غبار سے اَٹ گیا۔ منصوبے کی ذیلی سڑکیں تو ٹریفک کے لئے بند ہی کر دی گئیں۔

اسی طرح کئی اور راستے بھی بند ہیں۔ تاجروں کا کام ٹھپ ہے تو آنے جانے والے بھی مشکل سے دوچار ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریفک کا دباو¿ رابطہ سڑکوں پر منتقل ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور جب تک ٹریفک بحال ہوگی، یہ سب کھنڈر بن چکی ہوں گی۔ اب تو یہ احساس ہوتا ہے کہ گجومتہ سے شاہدرہ تک بیک وقت کام شروع کروا کر بس جلد چلانے کا خیال ہے، یہ غالباً الیکشن کی وجہ سے ہے، ممکن ہے کہ جلد جلد کام ہو اور بس چل جائے، لیکن پُلوں کے نیچے اور میٹرو بس کے دونوں اطراف کی سڑکوں کی بحالی اور روانی میں بہت وقت لگے گا۔ لوگوں کی تکلیف ختم ہونے کا نام نہیں لے گی۔ اس کا تجربہ پہلے ملتان روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ، کلمہ چوک اور مسلم ٹاو¿ن موڑ والے پُل سے ہو چکا۔

 پوری دنیا میں کام کے کچھ قواعد اور طریقے ہوتے ہیں۔ ہر منصوبہ مرحلوں میں مکمل کیا جاتا ہے اور لوگوں کی آمد و رفت اور کاروبار کا دھیان رکھا جاتا ہے۔ یہاں تو پورا شہر کھانسی اور گلے کے امراض میں مبتلا ہوگیا۔ پورے شہر کی سڑکوں پر ریت اور بجری نظر آتی اور دھول اڑتی ہے۔ ٹھیکیدار کو کوئی فکر ہی نہیں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وزیراعلیٰ کی اہلیت یا ان کے منصوبے پر کوئی اعتراض ہے۔ منصوبہ اچھا ہوگا، لیکن مَیں نے تو لوگوں کی پریشانی اور تکالیف کا ذکر کیا ہے۔ ٹریفک وارڈن تو بالکل ناکام ہوگئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو لوگوں کی تکلیف کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ ٹریفک وارڈن کچھ نہیں کر پا رہے، ان کی پھر سے سخت قسم کی تربیت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نفری میں اضافہ لازم ہے۔ یہ تعداد میں بھی کم ہیں۔ ان سے ٹریفک کنٹرول نہیں ہو رہی۔ ٹریفک جام کا یہ حال ہے کہ ہال روڈ اور جیل روڈ جیسی سڑکیں ہر دم اور ہر وقت بند رہتی ہیں۔ بعض علاقے ایسے ہیں، جہاں سے کام تک پہنچنا ممکن نہیں رہتا، گھر سے نکل کر بندہ ٹریفک میں پھنس جاتا ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ وی آئی پی اور وی وی آئی پی موومنٹ ورکنگ آورز میں شروع ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ پچھلے دنوں ہوا....بھارتی پنجاب کے نائب وزیر اعلیٰ سکھ بیر سنگھ بادل آئے ان کو لاہور گھمایا گیا۔ اس روز پانچ چھ گھنٹے ٹریفک بلاک رہی، حتیٰ کہ میاں میر نہر سے مغل پورہ تک گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں کہ مہمان کو رائل پام لایا گیا تھا۔ لوگوں کو تکلیف دے کر مہمان کو خوش کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ اس سے پٹرول کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔   ٭

مزید : کالم