”سرکاری“ بلیوں کا خاتمہ اور چوہوں کی بھرمار

”سرکاری“ بلیوں کا خاتمہ اور چوہوں کی بھرمار
”سرکاری“ بلیوں کا خاتمہ اور چوہوں کی بھرمار

  



ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں گزشتہ دنوں ایک نومولود بچے کو چوہوں کے کاٹنے کا واقعہ منظر عام پر آیا جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سخت تادیبی کارروائی کی اور ہسپتال کے ایم ایس ‘ تین نرسوں سمیت پانچ ملازمین معطل کر دئیے۔ سرکاری دفاتر،گھروں، دکانوں، گوداموں، ہوٹلوں، ہسپتالوں اور گلی محلوں میں چوہوں کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں۔یہ ہمارے درمیان بڑی تعداد میں پرورش پاتے ہیں بلکہ ہمارے ہاں دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات تو یہ ہمارے کھانے پینے کی چیزیں اور برتنوں تک میں منہ مار جاتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔پھر جب اُن کے دانتوں سے کترنے اور چیزوں کو اُلٹ پلٹ کرنے اور گرانے سے اُن کی آمد کا علم ہوتا ہے تو اُن کے تدارک کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔پہلے تو گھروں میں اِن سے چھٹکارے کیلئے کڑکی اور پنجرے کا استعمال ہوتا تھا۔ پھر چوہے مار گولیاں بیچنے والے مخصو ص لوگ بازاروں میں نظر آنے لگے اور عام دکانوں سے بھی گولیاں مناسب قیمت پر دستیاب ہونے لگیں جن کا استعمال زندگی سے بیزار خواتین وحضرات نے بھی شروع کر دیا اور گھروں میں کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جن میں بچوں نے اِن گولیوں کو انجانے میں کھالیا اور زندگی کی بازی ہار گئے۔

 خیر اب تو سائنس نے بڑی ترقی کرلی ہے۔ایسے بے شمار سپرے مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن کی مخصوص بو سے چوہے کمروں میں ٹھہر نہیں پاتے اور بھاگ جاتے ہیں۔ ورنہ گولیاں کھا کر مرنے والے چوہوں کا علم اُس وقت ہوتا تھا جب کمرے سے بدبو آتی،پھر اُسے تلاش کرکے باہر کون پھینکے۔ کئی کئی روز تو اِس فیصلہ میں گزر جاتے تھے اور طاعون جیسی موذی وبا پھیلنے کا بھی خطرہ رہتا ۔ چوہے غلاظت کے ڈھیروں، سیوریج، پائپ لائنوں اور گٹروں وغیرہ میں بھی پرورش پاتے ہیں۔ زیر زمین سیوریج پائپ لائن اُن کی نقل مکانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ دن کی روشنی میں یہ اکثر چھپے رہتے ہیں اور رات کے اندھیرے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گھروں کے باورچی خانوں میں گھس کر خوب لوٹ مار کرتے ہیں۔ سبزیاں، بند،روٹی اور ڈبل روٹی کے علاوہ اکثر اوقات پلاسٹک کے ڈبوں یا برتنوں میں رکھی گئی اشیائے خورونوش کے حصول کے لئے اِن برتنوں ہی کو دانتوں سے کتر جاتے ہیں۔ بعض چوہے تو اِس قدر موٹے ہوتے ہیں کہ اُنہیں دیکھ کر ہی تھرتھری چھوٹ جاتی ہے۔

اِس موقع پر ایک ایسے بھوکے چوہے کا واقعہ یا د آگیا جو غریب بھوک کا مارا بڑا دبلا پتلا اور لاغر تھا۔قسمت اُسے اشیائے خورونوش کے اُس گودام میں لے گئی جس کامالک اِس دنیا سے جاچکا تھا اور اُس کا گودام کئی سال سے بند پڑا تھا۔اِس گودام کے مالک اب بڑے بڑے موٹے تازہ چوہے ہی تھے۔یہاں داخلے کا جو راستہ تھا،اُس کے ذریعے دبلا پتلا کمزورچوہا ہی اندر آسکتا تھا،اُس راستہ سے قسمت اُس غریب کو بھی اِس گودام میں لے آئی۔ یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی تھی جن میں میوہ جات تک شامل تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ بھی دوسرے چوہوں جیسا ہی ہوگیا۔جب اُس کا دل بھر گیا تو یہاں سے واپسی کا پروگرام بنایا مگر کوشش کے بعد بھی نکلنے میں کامیاب نہ ہوا تو ساتھی چوہوں سے واپسی کا طریقہ معلوم کیا۔ تب اُسے پتہ چلا کہ یہاں سے نکلنا ممکن نہیں۔یہ تو تھے پرانے وقت کے چوہے، مگر اب تو یہ بھی اِس قدر چالاک ہوچکے ہیں کہ کڑکی یا پنجرے کو تو خوب پہچانتے ہیں اور چوہے مار گولی اب اُن پر اثر نہیں کرتی کیونکہ اب ہم نے زہر میں بھی ملاوٹ شروع کردی ہے اور ویسے بھی یہ چوہے پہلے اتنے چالاک نہیں تھے،سادہ سے ٹوٹکے کے نتیجے میں شکار ہوجاتے تھے۔

دیہی علاقوں میں تو تقریباً ہر دوسرے گھر میں بلی ہوتی تھی۔دوسری صورت میں اِنہیں پکڑنے کیلئے کڑکی یا پنجرہ استعمال کیا جاتا تھا جس میں روٹی کا ٹکڑا لگادیا جاتا ۔سوکھی روٹی سے قابو نہ آتا تو دیسی گھی میں ڈبو کر کڑکی یا پنجرہ میں روٹی کا ٹکڑا لگا دیا جاتا اور چٹورے سے چٹورا اور چالاک سے چالاک چوہا بھی جال میں پھنس جاتا مگر اب تو اِن کے کیا کہنے، وہی چوہے جو کبھی رات کے اندھیرے میں بھی بھاگ کر گزرتے تھے، اب دن کی روشنی میں بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ ویسے انسان کو کاٹنے کا طریقہ اور موقع بھی اُنہیں انسان ہی نے سکھایا ہے۔پرانے زمانے میں کوتوالی (موجودہ تھانہ) میں باقاعدہ تربیت یافتہ چوہے موجود ہوتے تھے جنہیں ملزمان پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں محکم دین نواں کوٹیاں کے حرم کی خواتین کی شلواروں میں بھی مہاراجہ کے حکم سے پائنچے باندھ کر چوہے چھوڑ دئیے گئے تھے۔ملک کے دیگر شہروں کی طرح لاہور میں اکبری منڈی ،ریلوے اسٹیشن اور ہوٹلوں میں پائے جانے والے چوہے اگر بلی دیکھ لے تو وہ بھی دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوجائے۔

گزشتہ دنوں ہولی فیملی ہسپتال میں پیش آنے والے واقعہ کے متعلق جان کر بے حد افسوس ہوا،جس میں چوہے فیملی ہسپتال کے نہ صرف لیبر روم میں داخل ہوگئے بلکہ اُنہوں نے ایک نومولود انسانی بچے کے بازو اورچہرے تک کو نوچ کر بُری طرح زخمی کردیا جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے! افسوس تو اِس بات کا ہے کہ ایسے سانحات آئے روز منظر عام پر آتے ہیں مگر اِن کے تدارک کیلئے سرکاری سطح پر عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ۔ انگریز کے دور حکومت میں چوہوں کے تدارک کیلئے باقاعدہ بلیاں پالی جاتی تھیں۔ پنجاب کے تمام محافظ خانوں سمیت سرکاری دفاتر میں ” کیٹ فنڈ“ سالانہ بجٹ میں باقاعدہ منظور ہوتا تھا جس سے بلیوں کے لئے گوشت اور دودھ مہیا کیا جاتا تھا۔

 یہ بلیاں سرکاری دفاتر،ہسپتالوں اور محافظ خانوں میںرکھی جاتی تھیں اورچوہوں کی کیا مجال کہ اِن مقامات پر دم مارتے۔یوں سرکاری دفاتر خصوصاً عدلیہ ،پولیس اور محکمہ مال کے محافظ خانوں کا ریکارڈ بھی محفوظ رہتا مگرقیام پاکستان کے بعد ہمارے حکمرانوں نے ”کیٹ فنڈ“کو مذاق اور سرکاری خزانے پر بوجھ خیال کرتے ہوئے ختم کردیا۔ شاید یہیں سے چوہوں کی جیت شروع ہوئی، اور چوہے اِس قدر تیزی سے پھیلے کہ آج بلیاں تو کیا انسان بھی اِن کو دیکھ کر خوف کھانے لگا ہے۔ ہمارے خیال میں اُس وقت کے لحاظ سے ”کیٹ فنڈ“کا اجرا انگریزی حکومت کا مثبت اقدام تھاجسے قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رکھنا چاہیے تھا۔ تاہم سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہسپتالوں، خصوصاً بچوں کے وارڈز اور میٹرینٹی وارڈز میں چوہوں کا تدارک اِس انداز سے کیا جائے کہ کم ازکم بچوں کو چوہوں کے اِس قسم کے خطرناک حملے سے بچایا جاسکے۔ خبر ہے کہ چوہوں کے تدارک کیلئے ہمارے حکمرانوں اور عوامی نمائندگان نے اپنے بچاﺅ کے لئے فوری طور پر چھ لاکھ روپے کا فنڈ مختص کروالیا ہے، جس سے پارلیمنٹ ہاﺅس میں چوہے مار ادویات کا استعمال ہوگا۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے حکمران اپنے ساتھ ساتھ قوم کو بھی چوہوں کے حملوں سے بچانے کیلئے اقدامات کرتے۔     ٭

مزید : کالم