پیپلز پارٹی کے پینتالیس برس

پیپلز پارٹی کے پینتالیس برس
پیپلز پارٹی کے پینتالیس برس

  

پاکستان پیپلز پارٹی کو قائم ہوئے پینتالیس برس بیت گئے۔ 1967 ءمیں قائم ہونے والی پارٹی کی تاریخ ابتلاءاور اقتدار کی غلام گردشوں سے بھرپور ہے۔ اقتدار میں عروج و زوال کی دردناک کہانی ہے۔ پارٹی کا تاسیسی اجلاس باضابطہ طور پر30 نومبر اور یکم دسمبر 1967 ءکو لاہور میں ہوا تھا، لیکن بے ضابطہ اعلان پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے حیدرآباد میں اُس وقت کے مشہور میر گارڈن میں کیا تھا۔ میر گارڈن حیدرآباد کے اپنے وقت کے معروف سیاست دان اور محنت کشوں کے رہنما میر رسول بخش تالپور کی ملکیت تھا۔ پیپلز پارٹی کے قیام سے بہت قبل میر رسول بخش اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ بھٹو مرحوم حیدرآباد کے دورے پر آئے تھے ۔ اُنہیں حیدرآباد ریلوے سٹیشن پر معلوم ہوا کہ ہوٹل اورینٹ میں اُن کے لئے کمرے محفوظ ہونے کے باوجود اُنہیں کمرے نہیں دئے جا سکیں گے۔ ہوٹل اورینٹ قاضی محمد اکبر کی ملکیت تھا جو اُس وقت ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے ساتھ تھے۔ ایسے وقت میں میر رسول بخش تالپور ریلوے اسٹیشن پہنچے اور بھٹو صاحب کو اپنا مہمان بنا لیا۔

ایوب خان کے مارشل لاءاور نام نہاد جمہوری حکومت کے دور میں ایک ایسی گھٹن پیدا ہو گئی تھی کہ لوگ ایوب خان سے نجات چاہتے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح ؒکے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر لوگوں نے محسوس کیا تھا کہ نجات کا ایک موقع ملا ،لیکن صدارتی انتخابات میں اَسّی ہزار بی ڈی اراکین کو ووٹ دینا تھا، اِس لئے ایوب خان کے گماشتوں نے دھن،دھاندلی اور دھونس کا بھر پور استعمال کیا اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔ اُسی دور میں حبیب جالب کا یہ شعر ” بیس گھرانے ہیں آباد، اور کروڑوں ہیں ناشاد “ نوجوانوں میں بہت مقبول تھا۔ ایسے دور میں جب سانس لینا بھی مشکل تھا ، پاکستان اور بھارت جنگ کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کی اقوام متحدہ میں تقریر نے اُن کے لئے لوگوں کے دلوں میں جگہ پیدا کر دی تھی۔ جنگ کے بعد وہ تاشقند معاہدے کے بعد حکومت سے باہر آگئے تھے۔ جوان سال تھے، خوب صورت تھے، خوش لباس تھے، تقریر کرنے کا ملکہ حاصل تھا۔ دس سال تک ایوب خان کی حکومت میں رہنے کے بعد موقع شناس اور جہاں دیدہ ہو گئے تھے ۔

 حکومت سے باہر آنے کے بعد 22جون 1967ءکو لاہور میں اُن کا تاریخی استقبال ہوا اور اِس پورے عرصے میں وہ متحرک رہے۔ ایسے وقت میں پیپلز پارٹی کی بناءڈالی گئی تھی جس میں ایک ہی وقت میں بائیں بازو سے وابستہ سیاست دان ، محنت کش طبقے کے رہنما، مڈل کلاس کے لوگ اور بعض بڑے سرمایہ دار ، جاگیر دار شامل تھے۔ ساتھ ہی ساتھ ریٹائرڈ سرکاری افسران بھی اِس پارٹی کا حصہ بن گئے تھے۔ یہ ایک ایسا امتزاج تھا جو عام لوگوں میں نہایت مقبول ثابت ہوا تھا۔اِس سے زیادہ عام لوگ بھٹومرحوم کی شکل میں ایک مسیحا کو دیکھ رہے تھے جو اُن کے خیال میں اُن کے دُکھوں کا مداوا کرے گا۔اُنہیں ظلم کے نظام سے نجات دلائے گا۔ اُنہیں پولیس کے اُن ہتھکنڈوں سے محفوط کرائے گا اور سب سے بڑھ کر اُن کے لئے روز گار اور اُجرت کا ایسا نظام نافذ کرے گا جو اُن کی اور اُن کے بچوں کی زندگی بدل دے گا۔ بے زمین کسان اور ہاری اِس امید پر ” ساڈا بھٹو شیر اے “ کے نعرے لگاتے تھے کہ وہ اُنہیں زمین کا ایک ٹکڑا دیں گے جو اُن کی زندگی پلٹ دے گا۔ نوجوان روز گار کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ بھٹو مرحوم بھی اپنی تقاریر میں ایسے ہی وعدے اور اعلانات کیا کرتے تھے۔

حیدرآباد میں جب اُنہوں نے پارٹی کے قیام کا بے ضابطہ اعلان کیا تو اُس وقت کے مغربی پاکستان کے گورنر جنرل ریٹائرڈ موسیٰ خان نے طنز سے بھر پور ایک بیان دیا تھا کہ بھٹو تانگے والوں کی پارٹی بنا رہا ہے۔ میر رسول بخش اُس وقت محنت کشوں کی کئی انجمنوں کے ساتھ تانگہ بان یونین کے سر پرست بھی تھے ۔ اِسی تناظر میں یہ طنز کیا گیا تھا، جس کا بھرپور جواب بھٹو صاحب نے دیا تھا۔ میر پور خاص میں اُنہوں نے ہجوم میں کہا تھا کہ وسان کو کسان بنا دیں گے۔ مرحوم غلام محمد وسان اپنے وقت کے بہت بڑے زمیندار تھے ،مسلم لیگی تھے اور مادر ِملت کے اہم ترین حامی تھے۔ شہداد پور میں اُنہوں نے ریلوے اسٹیشن پر اپنے استقبال کے لئے آنے والوں کو یہ خوش خبری سنائی تھی کہ پاکستان پینل کوڈ سے دفعہ ایک سو نو ختم کر دی جائے۔ دیہی علاقوں کے لوگ اِس قانون سے اِس لئے نالاں تھے کہ زمیندار ذرا ذرا سی بات پر لوگوں کو اِس قانون کے تحت گرفتار کرا دیا کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ عرض کے جواب میں لوگوں کی اپنی غرض تھی۔ اِن حالات میں پارٹی قائم ہوئی۔

پارٹی کے قیام کے بعد تحریک چلتی رہی کہ25 مارچ 1969ءکو ملک میں جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاءنافذ کر دیا۔ ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ پارٹی نے پنجاب اور سندھ سے اپنے امیدواروں میں مڈل کلاس کے ایسے ایسے امیدوار کھڑے کئے جو انتخابات میں حصہ لینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ محمد رشید، مختار رانا، محمد حنیف رامے، معراج خالد، شمیم احمد، خورشید حسن میر، صاحبزادہ فاروق علی خان، مختار اعوان، تاج محمد لنگاہ، وغیرہ وغیرہ ۔ اِس طبقے سے تعلق رکھنے والے نہ کل ہمت کر سکتے تھے اور نہ ہی آج کہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ لوگوں نے 1970 کے انتخابات میں جو برج گرائے تھے ، 1977ءکے انتخابات میں پارٹی پر بڑے زمینداروں کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔ پیپلز پارٹی جس فلسفے کی بنیاد پر کھڑی کی گئی تھی، وہ جالب کی شاعری میں کچھ اِس طرح نظر آتی تھی۔ یہ شعر اُنہوں نے 1970ءمیں بھٹو صاحب کی موجودگی میں کہے تھے۔ ” کھیت وڈیروں سے لے لو، ملیں لٹیروں سے لے لو، ملک اندھیروں سے لے لو، رہے نہ کوئی علی جاہ، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ “ ۔ 1970ءمیں جو لوگ پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے تھے وہ 1977ءمیں پارٹی سے جا چکے تھے اور وڈیرے، چوہدری، خان، سردار پارٹی کے رکھوالے بن گئے تھے۔

  پارٹی کے پہلے جنرل سیکرٹری جلال الدین عبدالرحیم (جے اے رحیم) پارٹی سے جا چکے تھے۔ پارٹی کی بنیادی دستاویزات جے اے رحیم نے ہی تحریر کی تھیں۔ وہ وزیراعظم محمد علی آف بوگرا کے وقت سے پاکستان کے سیکریٹری خارجہ تھے۔ بھٹو صاحب سے دیرینہ تعلقات کے باعث اُنہوں نے پارٹی کے قیام اور نظریے میں ہاتھ بٹایا تھا، لیکن بھٹو صاحب کے مزاج کی اُونچ نیچ کے باعث جے اے رحیم کی درگت بنائی گئی تھی۔ بھٹو مرحوم کے غیر جمہوری رویے سے ناراض ہو کر پہلے مرحلے میں چار کا ٹولہ بن گیا تھا، جس میں راﺅ خورشید احمد، عبدالخالق خان، میر علی احمد تالپور، میر علی بخش تالپور شامل تھے ، لیکن اُن کے ساتھ ، عبدالحمید خان جتوئی، دریا خان کھوسو، حاکم علی زرداری وغیرہ بھی پارٹی چھوڑ چکے تھے۔

 1977ءمیں ایسے بہت سارے لوگ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے جو 1970 ءمیں پارٹی میں شمولیت سے کنی کتراتے تھے۔ اسٹینلے وولپرٹ نے زلفی بھٹو نامی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے کہ بھٹو اپنے والد مرحوم شاہ نواز بھٹو کی طرف سے جاگیردار انہ مزاج رکھتے تھے اور والدہ مرحومہ لیڈی خورشید کی طرف سے ضرورت مندوں اور غریبوں کے لئے انتہائی ہمدردی رکھتے تھے۔ جب اُن پر جاگیردارانہ مزاج حاوی ہوتا تھا تو اُنہوں نے اپنے ایک اعلان کے مطابق اپنے جانشین قرار دئیے جانے والے معراج محمد خان اور غلام مصطفے کھر کو بھی نہیں بخشا تھا۔ اِسی مزاج کی بدولت اُنہوں نے اپنے دور میں پریس کے ساتھ وہ کچھ کیا جس کی اُن سے توقع نہیں کی جاتی تھی۔ اپنے سیاسی مخالفین کو جس طرح کی اذیتوں کا شکار کیا ،وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے لیکن جب اُن پراُن کی والدہ کا مزاج غالب آتا تھا تو اُنہوں نے لوگوں کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ ” ایسے ایسوں کو کیسا کیسا “ بنا دیا وہ تبصرہ ہے جو عام لوگ کرتے آج بھی نہیں ہچکچاتے۔ جس نے اُن کے وقت پر انہیں پانی کا ایک گلاس پیش کیا۔ اُنہوں نے اپنے وقت میں اُسے دودھ اور شہد سے بھرا گلاس دے دیا ۔

 1977 ءمیں ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوا، بلا مقابلہ انتخاب کی ایسی دوڑ لگی کہ مخالفین نے تحریک چلا ڈالی۔ پارٹی کے حامی آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک امریکی سی آئی اے کی مرہون منت تھی۔ پاکستان میں تیسرے مکمل مارشل لاء کے نفاذ کے بارے میں بھی پیپلز پارٹی کے حامی اِسے امریکہ کی آشیرباد قرار دیتے ہیں۔ یہ مارشل لاءجنرل ضیاءالحق نے نافذ کیا تھا ۔ 1979 ءمیں بھٹو مرحوم کو عدالتی فیصلے پر پھانسی دے دی گئی۔ پارٹی کا ایک دور ختم ہو گیا۔

دوسرا دور اُس وقت شر وع ہوا جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے سیاست میں قدم رکھا۔ 1979 ءسے 1988ءتک پارٹی ابتلاءکا شکار رہی اور جدوجہد میں مصروف رہی۔ 1985میں کرائے جانے والے غیر جماعتی انتخابات میں پارٹی نے حصہ نہیں لیا اور جب1988ءمیں انتخابات میں حصہ لیا تو بے نظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم منتخب ہو گئیں۔ لوگوں نے اپنا ووٹ قرض تصور کر کے دیا کیونکہ لوگوں کو قلق تھا کہ وہ بھٹو مرحوم کی زندگی بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکے تھے، حالانکہ پارٹی کے وسائل سے محروم کارکنوں نے اپنی حیثیت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا تھا، لیکن ضیا ءکا مارشل لاءننگی جارحیت پر تلا بیٹھا تھا۔ بہر حال لوگوں نے بے نظیر بھٹو کے نامزد امیدواروں کو بڑے بڑے زمینداروں کے مقابلے میں کامیاب کیا۔ پھرپارٹی کو 1993 ءمیں دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع ملا۔ 1999ءکے بعد جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 2002ءکے انتخابات میں پارٹی کو اقتدار سے باہر رکھا گیا اور جب 2008 ءمیں انتخابات طے ہوئے تو پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ اب پھر پارٹی کو ووٹ دینا فرض ہو گیا تھا ُ،سو لوگوں نے یہ فرض ادا کیا۔

محترمہ بے نظیر کے قتل کے بعد اُن کے شوہر آصف علی زرداری نے شریک چیئر مین کی حیثیت سے ایک بار پھر برسراقتدار پیپلز پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالی اور اپنے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے اکلوتے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو چیئر مین نامزد کر دیا۔ پارٹی نے سید یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم منتخب کرایا۔ آصف علی زرداری نے خود کو پاکستان کا صدر منتخب کرالیا ۔ پارٹی اپنی چوتھی حکومت کی پانچ سالہ مدت ختم کرنے کو ہے اور پارٹی اپنے قیام کے پینتالیس سال مکمل کر چکی ہے۔ اِن طویل سالوں میں عام لوگوں کو کیا ملا ، شاعر حبیب جالب کا تبصرہ یوں ہے.... ” وہی حالات ہیں فقیروں کے ، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے .... ہر بلاول ہے دیس کا مقروض، پاﺅں ننگے ہیں بے نظیروں کے ، اپنا حلقہ ہے حلقہءزنجیر، اور حلقے ہیں سب امیروں کے “۔ تلوار اور تیر پاکستان میں غربت کے خاتمے کا علاج نہیں کر سکے ۔ پاکستان کی تماش گاہ میں امیر امیر تر ہو گیا۔ غریب غریب تر ہو گیا۔ ایوب خان کے دور میں بائیس خاندانوں کے بارے میں کیا جانے والا تذکرہ اب معمولی لگتا ہے۔ پاکستان میں غربت کی لکیر اُونچی ہوئی ہے۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداد آج بھی ایک وقت کی روٹی کی محتاج ہے ، مکان اور روز گار تو خواب ہی ہے۔ اِس کے باوجود غریب عوام آج بھی پیپلز پارٹی سے ہی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اِسی لئے پارٹی کے مخالف طنز کرتے ہیں کہ لوگ پھر پارٹی کو ہی ووٹ دیں گے کہ اب یہ مرض بن گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ اِسی لئے عرض ، غرض، فرض، قرض اور مرض سے بھری پڑی ہے ۔     ٭

مزید : کالم