قومی مسائل اور مفادات کی کھچڑی

قومی مسائل اور مفادات کی کھچڑی
قومی مسائل اور مفادات کی کھچڑی

  

یہ بھی اب ایک سیاسی وتیرہ بن چکا ہے کہ ہر مسئلے کے مقابل ایک مسئلہ کھڑا کیا جاتاہے اور پھر اس بات کی گردان شروع ہو جاتی ہے کہ پہلے مخالف سمت والا مسئلہ حل کرو، پھر ہماری طرف دیکھو، یوں کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہوتا اور صورت حال سب کے سامنے ہے کہ مسائل آسیب کی طرح ہمارے قومی وجود پر مسلط ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ٹی وی ٹاک شوز اور اخبارات میں جہاں یہ بحث جاری ہے کہ صرف کراچی میں اسلحہ کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے یا پورے ملک میں.... وہاں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پنجاب کے حالات بھی کراچی سے کچھ مختلف نہیں، اس لئے یہاں پہلے آپریشن ہونا چاہئے۔ پچھلے دنوں جب ایک اینکر نے میاں محمد نواز شریف سے انٹرویو کے دوران یہی سوال پوچھا کہ کیا پنجاب کے حالات کراچی جیسے ہیں اور یہ حوالہ بھی دیا کہ جنوبی پنجاب کو پنجابی طالبان کا گڑھ کہا جاتا ہے، تو کیا یہاں بھی آپریشن نہیں ہونا چاہئے، جس کا انہوں نے جواب دیتے ہوئے اسے رحمن ملک اور ایم کیو ایم کا پروپیگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ خود انٹیلی جنس ادارے جنوبی پنجاب میں کسی بھی قسم کی طالبانائزیشن کی نفی کر چکے ہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پنجاب میں بھی کراچی جیسے حالات ہیں، تو اسے تسلیم کرنا بوجوہ ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ درست ہے کہ پنجاب میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، ڈکیتی اور قتل کی وارداتیں بھی معمول بن چکی ہیں، ہر قسم کی عدالتوں کے باوجود سزاﺅں کا سلسلہ بڑی حد تک معدوم نظر آتا ہے، مگر اس کے باوجود پنجاب کے حالات کو کراچی کے مماثل قرار دینا ایک سیاسی ایشو تو ہو سکتا ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ کراچی میں جس طرح ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کو مافیاز نے یرغمال بنا رکھا ہے، اس کی مثال ملک کے کسی اور حصے میں نظر نہیں آتی۔ کراچی ایک منظم دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ یہ سلسلہ سال ہا سال سے جاری ہے اور کئی حکومتیں اس کا توڑ کرنے کی کوشش میں خود ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔ کراچی ہی ملک کا واحد شہر ہے، جہاں مختلف مسلح گروپوں نے نوگو ایریاز قائم کر رکھے ہیں اور ماضی و حال کی حکومتیں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان ممنوعہ علاقوں کو قانون کے دائرے میں لانے سے قاصر رہی ہیں۔

 جرائم تو دنیا کے ہر حصے میں ہوتے ہیں، حتیٰ کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس برائی سے محفوظ نہیں، لیکن عمومی جرائم اور منظم دہشت گردی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ عام جرائم مملکت کے نظام کو درہم برہم نہیں کرتے، بلکہ ان کے اثرات انفرادی ہوتے ہیں، جبکہ منظم دہشت گردی سے مملکت کا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے، ریاستی ادارے اپنا اثرونفوذ کھو دیتے ہیں، یوں شہریوں کی جان و مال دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ کراچی میں جو کچھ ہوتا رہا اور ہو رہا ہے اسے منظم دہشت گردی ہی کا نام دیا جائے گا۔ یہ منظم دہشت گردی ہی کا نتیجہ ہے کہ کراچی میں مملکت کے اندر مملکت قائم کرنے کا تصور عام کیا گیا۔ حکومت کے ٹیکسوں کے متبادل ”بھتہ ٹیکس“ متعارف کرایا گیا اور اس کی جبری وصولی کے لئے دہشت گردی کی زنجیر پورے کراچی میں پھیلا دی گئی۔ کیا اس قسم کی منظم دہشت گردی پنجاب میں نظر آتی ہے کیا، پنجاب کے کسی شہر میں کوئی ایسا منظم گروہ موجود ہے؟ جو پورے شہر کو یرغمال بنا کر شہریوں سے بھتہ وصول کرتا ہو اور ریاستی ادارے اس کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے کھڑے ہوں؟

 ظاہر ہے اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ پنجاب میں اس قسم کی صورت حال نظر نہیں آتی۔ پنجاب میں بدامنی اپنی جگہ، لیکن یہاں مملکت کے اندر مملکت قائم کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی یا ڈکیتی کی وارداتوں کے ملزمان کبھی منظر عام پر نہیں آتے، ساری وارداتیں زیر زمین اور خفیہ رہ کر کرتے ہیں، جبکہ کراچی میں قانون شکنی علی الاعلان اور منظم طریقے سے ہوتی ہے اور اس کا نیٹ ورک علاقے تقسیم کر کے قائم کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کا ہر شہری بھتہ مافیا کی سرگرمیوں کا ستایا ہوا یا عینی شاہد ہے۔ کراچی کی صورت حال کو پنجاب کے مماثل اس لئے بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ کراچی میں قانون اور انصاف کا راستہ روکنے کے لئے بھی ایک منظم اور دہشت پسندانہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ ایک طرف جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کے اہلکاروں کی بوری بند لاشیں بھیج کر خوفزدہ کیا گیا، وہاں عدالتی نظام کو تہ و بالا کرنے کے لئے ججوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے ڈرا دھمکا کر مقدمات کو طول دینے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ دوسری طرف مقدمات کے مدعیوں اور گواہوں کو عبرت کا نشان بنانے کے لئے سر عام گولیوں سے بھون ڈالنے کی ظالمانہ روش اختیار کی گئی۔ ایسے کتنے ہی واقعات اخبارات کے صفحات میں چیختی چنگھاڑتی سرخیوں کے ساتھ موجود ہیں، جن میں انصاف مانگنے والوں کو خون میں نہلانے کی خبریں چھپی ہوئی ہیں۔ پنجاب کے کسی شہر میں لاقانونیت کا یہ عالم نظر نہیں آتا۔ ٹارگٹ کلنگ کراچی کا ایک ایسا ناسور ہے، جس کی کوئی بھی تاویل یا توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کا ایک بنچ کراچی میں از خود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے، جہاں پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پیرول پر 72 ایسے قیدی بھی رہا کئے گئے، جن کا ابھی ٹرائل جاری تھا۔ یہ صریحاً قانون کی دھجیاں اڑانے کا عمل ہے اور واضح طور پر مملکت کے اندر مملکت کے تصور کو عملی شکل دینا ہے۔ ان خطرناک افراد کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا کہ وہ200سے زائد مقدمات میں ملوث تھے، جن میں سب کے سب قتل، ڈکیتی اور بھتہ خوری جیسے بڑے جرائم شامل ہیں۔ اب کوئی بتائے کہ یہ سب کچھ اور کس جگہ ہو رہا ہے؟ سوائے کراچی کے۔ قانون لولا لنگڑا ہی سہی، کہیں نہ کہیں موجود ضرور ہے، مگر کراچی کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ وہاں جنگل کا قانون رائج ہے۔ اب ایسے شہر میں اگر ایک غیر جانبدار اور خالصتاً اہداف پر مبنی بڑا آپریشن نہیں ہوتا تو حالات کیسے سدھر سکتے ہیں؟ اس اہم ترین معاملے کو اگر غیر سنجیدگی کے ساتھ”پنجاب میں آپریشن کی پہلے ضرورت ہے“ کے فلسفے سے جوڑ دیا جائے تو یہ ایک بڑی زیادتی ہو گی۔ اس طرح معاملات ٹھیک ہوں گے اور نہ ہی کراچی کا امن واپس آئے گا۔ یہ کہنا کہ پہلے سرحد میں اسلحہ بنانا بند کرایا جائے، پھر کراچی میں آپریشن ہونا چاہئے، عجیب سی منطق ہے۔ کراچی میں اسلحہ اس لئے کھیپ در کھیپ آرہا ہے کہ وہ منڈی بن چکا ہے، جب یہ منڈی بند کر دی جائے گی تو کون لائے گا اور کہاں رکھے گا؟

ان کالموں میں ایک سے زائد بار سیاسی قیادت سے استدعا کی جا چکی ہے کہ وہ اب اپنے مفادات کے خول سے باہر آجائے، کیونکہ حالات اپنی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ یہ صورت حال اب مزید جاری نہیں رہ سکتی کہ مملکت کے اداروں کی یکسر ناکامی بالآخر سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات کو جنم دیتی ہے۔ اس بارے میں اختلاف رائے ہونا ہی نہیں چاہئے کہ جہاں مملکت کی حاکمیت کو بحال اور مضبوط کرنا ضروری ہو، وہاں پوری قوت سے قانون نافذ کیا جائے اور کوئی اس بارے میں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائے۔ مصلحتوں اور اپنی سیاسی ضرورتوں کے لئے ملک کی سلامتی کو داﺅ پر لگانا، ایک گھناﺅنا فعل ہے، جس کی بہرطور مذمت کی جانی چاہئے۔

جمہوریت صرف اسی کا نام تو نہیں کہ آپ بے گناہوں کا خون ہوتے دیکھتے رہیں اور کچھ نہ کریں۔ جمہوریت یہ بھی تو کہتی ہے کہ خلق خدا کو امن و سکون دو، ان کی بات سنو۔ آج کراچی کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ انہیں دہشت گردی سے نجات دلائی جائے، بھتوں کا خاتمہ کیا جائے، قاتلوں اور لٹیروں کو سزائیں دی جائیں، قانون کی عملداری قائم کی جائے، تو ان کی ان خواہشات کا احترام کرنا بھی جمہوری تقاضوں کے عین مطابق ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے عوام کی طرف سے بالعموم اور کراچی کے عوام کی طرف سے بالخصوص متوقع فوجی آپریشن کی خبروں کا خیر مقدم کیا گیا، لیکن سیاست دان اپنی دکانداری چمکانے کے لئے دور کی کوڑی لا رہے ہیں اور اسے پنجاب ، خیبر پختونخوا اور سندھ کے خانوں میں تقسیم کر کے سیاسی ایشو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو قومی نقطہ نظر سے کوئی صحت مندانہ طرز عمل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے حالات کو درست کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور پاکستان کی معاشی شہ رگ کا امن و سکون واپس لایا جا سکے۔   ٭

مزید : کالم