سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ملازمین کا مسئلہ

سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ملازمین کا مسئلہ

گزشتہ بجٹ کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 20فیصد اضافہ کیا گیا، لیکن سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ملازمین ابھی تک اس کے انتظار میں ہیں۔ انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی تنخواہ کی یہ اضافی رقم ان کے نام سے انویسٹ کر دی گئی ہے جس کا نفع انہیں پانچ سال کے بعد مل جائے گا۔ اس مہنگائی کے زمانے میں ہر کوئی اپنی مشکلات سے نکلنے کے لئے مالی وسائل میں اضافے کے لئے تگ و دو کررہا ہے، سرکاری ملازمین کی مشکلات کے پیش نظر ہی حکومت نے ان کی تنخواہ میں یہ اضافہ کیا تھا ، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ سمال انڈسٹریز کے ملازمین سے کسی طرح کی رضامندی لئے بغیر ان کی تنخواہ میں اضافے کے بجائے انہیں پانچ سال تک انتظار کی زحمت کھینچنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ یہ امر کارپوریشن کے چند اعلیٰ افسروں کے علاوہ باقی سب کے لئے تعجب اور پریشانی کا باعث ہے۔ اسی طرح کارپوریشن کے پنشن پانے والے سابق ملازمین کی پنشن کو بھی 30جون2010ءکی سطح پر فریز کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ کی طرف سے کئے گئے اپریل 2011ء کے فیصلے پر عمل درآمد ابھی تک نہیں ہو سکا۔ کارپوریشن کے بورڈ کو اپنے ملازمین اور پنشنرز کی مشکلات کا احساس کرنا چاہئے۔ پنشنرز کے لئے ایک علیحدہ بورڈ بنانے اور اس میں لمبی چوڑی تنخواہ پر مشیر مقرر کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پنشنرز اور موجودہ ملازمین کی نمائندہ آواز پر توجہ دی جانی چاہئے تاکہ اس اچھے ادارے کے ملازمین اپناکام دل جمعی سے جاری رکھ سکیں۔   ٭

مزید : اداریہ