افغانیوں کے بنیادی انسانی حقوق کہاں گئے؟؟؟

افغانیوں کے بنیادی انسانی حقوق کہاں گئے؟؟؟
افغانیوں کے بنیادی انسانی حقوق کہاں گئے؟؟؟

  

لندن (بیورو رپورٹ) برطانوی حکومت افغانستان میں برطانوی فورسز کے ہاتھوں گرفتار کئے جانے والے افراد کو بدسلوکی و تشدد کے خدشات کے پیش نظر افغانستان کے حوالے کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے جج کو بتایا گیا ہے کہ وزیر دفاع فلپ ہاموند نے مشتبہ افراد کو افغان فورسز کے حوالے کرنے پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی ہے۔قیدیوں کے وکلاءچاہتے ہیں کہ عدالت ان قیدیوں کی حوالگی روک دے کیونکہ وہ خطرے میں ہیں۔یہ درخواست ایک قیدی سردار محمد کی طرف سے دائر کی گئی تھی جس کاکہناہے کہ اسے افغان جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 24 سالہ افغان کسان کا کہنا ہے کہ اسے اپریل 2010 میں برطانوی فورسز نے صوبہ ہلمند سے گرفتار کیا اور لشکرگاہ میں افغان جیل میں دوران تفتیش اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زبردستی طالبان کا رکن ہونے کا اعتراف کرایا گیا۔ سردار محمد کے وکیل نے ہائی کورٹ کے جج جسٹس موسینر کو بتایا کہ ایک خط کے ذریعے سردار محمد نے بتایا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ جج نے بتایا کہ وزیر دفاع نے قیدیوں کی حوالگی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ وزیر دفاع نے ایک خط کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ وہ محاذ آرائی نہیں چاہتے ہیں اور یہ کہ برطانیہ کے قبضے میں قیدیوں کو قانونی طریقے سے حوالے کیا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی