روکیں ،یہ شملہ پہاڑی ہے۔۔۔!!

روکیں ،یہ شملہ پہاڑی ہے۔۔۔!!
 روکیں ،یہ شملہ پہاڑی ہے۔۔۔!!

  

شہباز کی برق رفتار پرواز کے باوجود لاہور کی شاہراہوں پر ٹریفک جامد نظر آتی ہے‘ آپ شہر میں کسی طرف چلے جائیں رکی ہوئی ٹریفک، آپ کااستقبال کرے گی ۔یہ تو بھلا ہو موبائل فون کا کہ بے شمار برائیوں کے باوجود اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے ‘ کہ آپ جب ٹریفک میں گھنٹوں پھنسے ہوئے ہوں ‘ تو اپنے پیاروں سے رابطے کر کے ان کے سامنے اپنی حالت زارکا رونا رو سکتے ہیں۔ ٹریفک کی یہ صورت حال اب ہر روز کی نہیں‘ بلکہ ہر لمحے کی کہانی ہے ۔جانے شہرکے کس موڑ پر آپ ٹریفک میں اُلجھ جائیں، اور پھر ایسے الجھیں کہ نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں ۔اندرون شہر ہو یا شہر کا پوش علاقہ۔۔۔ مال روڈ ہو ‘ یا ساندہ ۔ شاہدرہ ہو ‘ یا دھرمپورہ ڈیفنس ہو یا کینال روڈ ٹھوکر نیاز بیگ ہو‘ یا شملہ پہاڑی۔۔۔ سب کی حالت ایک جیسی ہے ۔شملہ پہاڑی سے یاد آیا کہ ڈیوس روڈ پر واقع یہ مقام قلم کاروں کا پڑاو بھی ہے ۔ صحافت کی دُنیا کے ذرخیز ذہن شملہ پہاڑی کے دامن میں پناہ لئے ہوئے ہیں، لاہور کا طاقت ور پریس کلب اسی پہاڑی کے دامن میں واقع ہے ۔یقیناًصحافیوں کے لئے یہ جگہ آئیڈل ہے، کیونکہ اس کے ارد گرد بڑے بڑے صحافتی ادارے اور ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں ۔ یوں صحافی شملہ پہاڑی میں بیٹھ کر اپنے نیٹ ورک سے آسانی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی ٹریفک کی شملہ پہاڑی کی آج کل یہ بھی پہچان ہے کہ لاہور میں سب سے زیادہ ٹریفک، اسی مقام پر جام ہوتی ہے۔دن میں شاہد ہی کوئی ایسا لمحہ ہو جب شملہ پہاڑی کے سامنے ٹریفک رکی ہوئی نظر نہ آئے اور وہ بھی کئی کئی گھنٹے!! کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ سارا دن ہی شملہ پہاڑی کے سامنے ٹریفک بند رہتی ہے اور یوں ڈیوس روڈ سمیت مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ اس عذاب کو سہتے ہیں۔ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ عوام نے کسی مسئلے پر احتجاج کے لئے اپنی آواز اوپر ارباب اختیار تک پہنچانے کے لئے شملہ پہاڑی کا انتخاب کر رکھا ہے، کیونکہ یہاں میڈیا ان کی کوریج کے لئے آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔ اس میں پریس کلب کا کوئی قصور نہیں!! اربابِ اختیار کی ناکامی ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کو یہاں کھڑا ہونے کا موقع کیوں دیتے ہیں ۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ احتجاج کے لئے صرف بیس آدمی ہوتے ہیں، جبکہ ان کے ارد گرد چالیس پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ انتظامیہ والے کوشش ہی نہیں کرتے کہ احتجاج کرنے والوں کو ہٹا کر ٹریفک کا راستہ کھول دیں۔انہیں پتہ ہے کہ یہاں ذرا سی بھی سختی میڈیا میںآ جائے گی اور پھر وہ لائین حاضر ہو جائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو اس راستے سے گزرتے ہیں۔ خاص طور پر جو کسی مجبوری میں یا بیماری کی حالت میں کہیں جلد پہنچنا چاہتے ہیں ان کا کیا قصور ہے۔انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے ہیں لکھاری ہیں ۔ علی نواز شاہ صاحب!!آج کل یہودیوں پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ان کے خیال میں پوری دُنیا کو کسی نہ کسی طرح یہودی چلا رہے ہیں اور دُنیا کے ہر چھوٹے اور بڑے مسئلے کی وجہ یہودی قوم ہی ہے ۔علی نواز بھی ہر روز شملہ پہاڑی پر ٹریفک میں پھنسے نظر آتے ہیں اور جب بھی اس کا ذکر کرتے ہیں‘ تو ہم ان سے یہی کہتے ہیں کہ یہ یہودیوں کی سازش تو نہیں ہے، جس پر وہ کچھ یوں مسکراتے ہیں کہ یہودیوں میں لاکھ خامیاں سہی، وہ اس کے ذمہ دار نہیں!! لہٰذا لاہور کی انتظامیہ کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ شہر میں ٹریفک کے بہاو کو کس طرح بہتر بنایا جائے ‘ خاص طور پر شملہ پہاڑی جو ٹریفک کے سامنے ایک پہاڑ بن چکا ہے ۔ اس مسئلے کا حل کیا کِیا جائے؟ہمارے ایک صنعتکار دوست سعید مغل صاحب باغ جناح میں واک کرتے ہوئے ہر روز یہ کہتے ہیں کہ شہباز میں بہت تیزی ہے کوئی مسئلہ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا ۔جہاں تک ٹریفک کی صورت حال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شہباز کی پرواز زیادہ تر جہازوں پر ہوتی ہے اگر وہ کسی دن شہر میں گاڑی کا سفر کریں تو یقیناًوہ شہر کی ٹریفک کو بھی ٹھیک کر دیں ۔

مزید :

کالم -