اکھانا۔۔۔ذائقے دار اور صحت بخش بھی، جرمانے کے ساتھ اب انعام بھی

اکھانا۔۔۔ذائقے دار اور صحت بخش بھی، جرمانے کے ساتھ اب انعام بھی
اکھانا۔۔۔ذائقے دار اور صحت بخش بھی، جرمانے کے ساتھ اب انعام بھی

  

للہ تعالیٰ نے اس بیکراں کائنات میں ان گنت جاندار پیدا فرمائے ہیں۔ انسان اپنی تمام تر تحقیق و جستجو کے باوجود صرف سوا کروڑ جانداروں کے بارے میں جان سکا ہے۔ ہر جاندار کی جسامت‘ شکل و شباہت‘ عقل و فکر تو مختلف ہے مگر ایک بنیادی ضروری تمام جانداروں میں مشترک ہے۔ ہر جاندار زندہ رہنے کے لئے غذا کا محتاج ہے۔ جانداروں کی غذائی ضروریات بھی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک و مربوط ہیں۔ حیاتیاتی چکر کے ذریعے ہر جاندار کسی نہ کسی صورت میں دوسرے کی غذا بنتا ہے۔ انسانی آبادی میں بے محابا اضافہ ہوا تو غذا کے لئے قدرتی وسائل کم پڑنے لگے۔ پھر انسانی عقل کی عیاری بروئے کار آئی اور کیمیائی اجزاء کو غذائی مرکبات کی صورت دی جانے لگی۔ یہیں سے اس خرابی کا آغاز ہوا جو آج ہر انسان کے لئے سوہان روح بن چکا ہے۔ انسانی غذا حتیٰ کہ حیوانات اور نباتات بھی خالص قدرتی اجزاء سے محروم ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ اور باشعور معاشروں میں فوڈ سیفٹی کی ضرورت کو محسوس کیا گیا اور غذائی اجزاء میں ملاوٹ اور غیرمعیاری اشیاء کا استعمال قطعی ممنوع قرار پایا اور اس امر میں زیروٹالرنس کا رویہ اپنایا گیا۔ یورپین فوڈ سیفٹی اتھارٹی یورپی یونین کے ممالک میں اشیائے خور ونوش کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے کام کرنے والا ایک اہم ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ تمام مغربی ممالک‘ وسطی ایشیائی ریاستوں‘ حتیٰ کہ انڈونیشیا‘ ملائشیا‘ تھائی لینڈ جیسے ممالک میں بھی خوراک میں ملاوٹ یا غیر معیاری اجزاء کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ چین میں غذائی اجزا میں ملاوٹ انتہائی سنگین جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔ لیکن وطن عزیز اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود مذکورہ بالا مثالوں کا حصہ نہ بن سکا۔

وطن عزیز میں ملاوٹ اور غیرمعیاری غذائی اجزاء کا استعمال اگرچہ قانونی طورپر باقاعدہ جرم ہے لیکن اس قانون کے استعمال میں خاصی کنجوسی سے کام لیا گیا۔ یہاں تک کہ 2011ء میں حکومت پنجاب نے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی ہدایت پر پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011ء کو باقاعدہ قانون کی شکل دے کر عمل درآمد کے لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو لاہور میں متحرک کیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اپنے وجود کا بھرپور احساس دلایا اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے اور بیچنے کے مقامات کی چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ شدہ خوراک ‘ فوڈ آپریٹر‘ غذائی اجزاء کی مدت میعاد‘ دوسرے برانڈ کے نام کواستعمال کرنا‘ اشیائے خوردونوش کی تازگی‘ ذائقہ‘ خوشبو اور دیگر اجزاء کا جائزہ ‘ محفوظ خوراک اور غیرمحفوظ خوراک کے درمیان فرق کی نشاندہی اور سب سے بڑھ کر صفا ئی کے انتظامات پر توجہ دی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 ء کے تحت قائم ہونے والی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار آغاز میں لاہور تک محدود تھا۔ لیکن نورالامین مینگل نے بطور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی عہدہ سنبھالتے ہی اس کے دائرہ کار کی وسعت پر توجہ دی اور گوجرانوالہ‘ فیصل آباد کے بعد راولپنڈی میں بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے دفاتر قائم کئے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی چیئرپرسن کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔ صوبائی سیکرٹری خوراک‘ صوبائی سیکرٹری صحت‘ پنجاب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ‘ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ‘ لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے سیکرٹریز‘ ایک خاتون سمیت تین ارکان پنجاب اسمبلی‘ دو فوڈ ٹیکنالوجسٹس یا سائنٹسٹس‘ فوڈ انڈسٹری اور فوڈ آپریٹر کے دو نمائندے‘ ایک خاتون سمیت دو کسان نمائندے اور صارفین کے دو نمائندے پنجات فوڈ اتھارٹی کے ارکان ہوتے ہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عوام میں صاف ستھری اور معیاری خوراک کی ضرورت اور استعمال کا شعور بیدارکرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ہوٹلوں‘ ریستورانوں‘ فیکٹریوں اور غذائی کارخانوں میں صفائی کی چیکنگ کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ بزنس کرنے والوں کو لائسنس بھی جاری کرتی ہے۔ انہیں معیار میں بہتری لانے کے لئے نوٹس اور غیرمعیاری غذائی اجزاء کے استعمال پر وارننگز بھی جاری کی جاتی ہیں۔ غذا کی تیاری کے تمام مراحل میں صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ کا شعور بیدار کرنا بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد ہے۔ غذائی اشیاء کی مدت معیاد‘ وارنٹی‘ لیبل‘ اجزاء کے بارے میں درست معلومات کی فراہمی ایسے عوامل ہیں جن پر عملدرآمد کر کے معیاری غذا کا حصول یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی‘ ضلعی‘ تحصیل اور ٹاؤن انتظامیہ کے افسروں کے ساتھ مل کر پنجاب بھر میں عوام کو بہترین خوراک کی فراہمی کے مشن پر عمل پیرا ہے۔ لاہور میں کھانے پینے کی اشیاء کے ہوٹل مقبول عام شہرت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اقبال ٹاؤن‘ نشتر ٹاؤن‘ شالیمار ٹاؤن‘ سمن آباد ٹاؤن‘ گلبرگ ٹاؤن‘ راوی اور واہگہ ٹاؤن میں2013ء سے 2016ء تک کڑی چیکنگ کے ذریعے فوڈ سٹینڈرڈز کی خلاف ورزی کرنے والے فوڈ پوائنٹس کو تقریباً 4 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے، لیکن یہ تو سفر کی ابتداء ہے بہت سا کام باقی ہے۔

نورالامین مینگل کی سربراہی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کو مزید متحرک اور مستعد ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف چند ہفتوں کے قلیل عرصے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اشیائے خورونوش بنانے اور بیچنے والے 2235 مراکز کی چیکنگ کی۔ ان میں سے 1215 مراکز کو صفائی اور دیگر انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے وارننگ جاری کی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل نورالامین مینگل نے بند غذائی مراکز کو کھولنے کے لئے ذاتی طور پر سماعت کرتے ہوئے 42لاکھ سے زائد جرمانہ عائد کیا۔ ڈائریکٹر آپریشنز رافعہ حیدر نے ساڑھے3لاکھ روپے مجموعی طور پر دیگر ٹیموں نے 86لاکھ 89ہزار جرمانہ عائد کیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پہلی مرتبہ استعمال شدہ خوردنی تیل کے دوبارہ استعمال پر پابندی کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے اور مختلف مقامات سے خوردنی تیل سے 77 میں سے 64غیرمعیاری پائے گئے جس پر کارروائی بھی کی گئی۔ نورالامین مینگل روایت سے ہٹ کر اختراعی انداز میں کام سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے چند روز بعد سمن آباد کے علاقے میں رشیدبیکرز کا دورہ کیا اور صفائی کی صورت حال کو معیار کے مطابق پائے جانے پر رشید بیکرز کو 5ہزار روپے نقد انعام دیا۔ عوامی حلقوں میں نئے ڈی جی کے اس اقدام کو سراہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی 10دسمبر کو ٹولنٹن مارکیٹ میں مقابلہ صفائی منعقد کروا رہی ہے ۔ جس پر 50ہزار روپے انعام رکھا گیا ہے۔ صفائی کے ناقص انتظام پر جہاں خطیرجرمانے ہوتے ہیں انعام بھی ضر وری ہے۔

مزید :

کالم -