فیس بک اور ہمارے رویے

فیس بک اور ہمارے رویے
فیس بک اور ہمارے رویے

  

ایک دوست نے دوسرے کو بتایا ،میرے گھر میں کچھ نمک پڑا تھا ، میں نے اس پر مزید نمک ڈالنا شروع کر دیا۔آہستہ آہستہ نمک بڑھتا گیا اور اتنا بڑھا کہ ایک دن اچانک اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب ذرہ جمع ہوا یہ سار انمک چینی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ دوسرے دوست نے کہنا شروع کیا، یہ تو ہوا ، میری داستان بھی البتہ بڑی عجیب ہے ،ہوا یہ کہ میرے بھائی کو زخم لگ گیا، یہ زخم اس کی بے پروائی کے باعث خراب ہونے لگا ، مجھے اس کی بے پروائی پر غصہ آگیا۔ جھنجھلا کر میں نے اس کے زخم پر نمک چھڑکنا شروع کر دیا ۔ اب روزانہ کی میری اس نمک پاشی نے زخم کے لئے اکسیر کا کام کیا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے زخم ناصرف ٹھیک ہو گیا بلکہ زخم کا نام و نشاں بھی مٹ گیا۔ اب میرا وہ بھائی ہمیشہ میرا احسان مند رہتاہے ۔ تیسرے دوست نے داستانِ طلسم ہو ش کی گنگا بہتی دیکھی تو یوں اس میں ہاتھ دھونے لگا، کہنے لگا، میں گاؤں کا گھر چھوڑ کے لاہور آیا تو گاؤں کی جن چیزوں کو میں نے بہت مس کیا ، ان میں سے ایک وہ رنگ برنگ مہکتے گلاب تھے جو میرے گھر کے صحن میں بے تحاشا اگے ہوئے تھے اور جنھوں نے پورا گھر مہکا رکھا تھا ، شہر کا گھر چھوٹا بھی تھا اور اس میں کوئی ایسی مٹی والی جگہ بھی نہ بچی تھی، جہاں میں گلاب اگا سکتا۔ چنانچہ تنگ آکے میں نے گلاب کی کانٹے دارسوکھی ٹہنیاں جمع کرنا شروع کر دیں ۔ کچھ عرصہ میری یہ عادت اسی طرح جاری رہی اور بالآخر جلد ہی میرے گھر میں کوئی جگہ ایسی نہ بچی، جہاں میں نے کانٹے نہ بچھا دئیے ہوں ۔ چنانچہ ا س کا نتیجہ بڑا حیران کن نکلا۔ یعنی کرشمہ یہ ہوا کہ جب سارا گھر کانٹوں سے بھر گیا اور ذرا سی جگہ بھی کانٹوں کے بغیر نہ بچی تو ایک دن یکایک وہ سارے کانٹے گلاب کے پھولوں میں ڈھل گئے اور پورا گھربکھرے گلابوں سے مہک اٹھا۔ ان کا چوتھا دوست جو دیہاتی تھااور پنجاب کے کسی دور افتادہ علاقے سے لاہور اپنے پرانے دوستوں سے بڑے عرصے بعدملنے آیا تھا۔وہ بے حد حیرت سے ان شہریوں اور پڑھے لکھے مہذب دوستوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ پہلے تو اس کے بھی من میں آئی کہ وہ بھی ان مہذب ہو جانے والے دوستوں کے مقابل اپنے کسی دھتورے کے بوٹے کو انگور یا کیکر کے درخت کو آم لگنے کا قصہ کہہ کے اپنا پینڈو پن چھپا لے مگر پھر اسے پنجابی شاعر میاں محمد بخش کا شعر یاد آگیا :

نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا

کِکر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا

میرا نہیں خیال کہ میرے باشعور قارئین میں سے کسی ایک نے بھی میرے اوپر بیان کردہ کرداروں میں سے کسی ایک کی بھی کہا نی پر یقین کیا ہوگا، حالانکہ ان میں کہیں نہ کہیں کم از کم ایک سچائی ضرور موجودہے ۔ جس کا ہم بعد میں تذکرہ کریں گے۔ دراصل ہمارا تجربہ اور مشاہد ہ یہ ہے کہ خواہ کوئی کتنا بھی ان پڑھ یا پڑھا لکھا ہی کیوں نہ ہو ۔ اس کاضرور یہی ماننا ہوگاکہ سبب کے بغیر نتیجہ ، محنت کے بغیر پھل ، آم بو کر انگوراور کانٹے بچھا کر گلاب حاصل نہیں کئے جا سکتے ۔ وہ یہ بھی ہر گز نہ مانے گا کہ نمک میں مزید نمک ملانے سے نمک چینی بن سکتاہے یا زخم پر نمک چھڑکنے سے مریض کو اذیت کے بجائے راحت نصیب ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجودحیرت ہے کہ ہمیں قطعاً حیرت نہیں ہوتی کہ جب ہم ا سی بے وقوفی کو نا ممکن مان کربھی کہیں نہ کہیں اسی بے وقوفی پر عمل پیرا بھی ہیں۔ناصرف مبتلا بلکہ باقاعدہ اس خوش امیدی میں بھی مبتلا کہ کانٹوں سے گلاب ، بھینسے سے دودھ ، بھینس سے انڈے اور زہر سے تریاق بھی حاصل کر سکتاہے۔آئیے آج زندگی کے صرف ایک پہلو کا اس حوالے سے جائزہ لیتے ہیں۔ مثلاً آپ ہماری فیس بک کو دیکھ لیجئے۔ فیس بک اس وقت ہمارے ہاں کا یا شاید دنیا بھر کا مقبول ترین سوشل میڈیا بن چکا ہے۔ یہ حکومتیں بنانے ، بگاڑنے اور حالات کو مرضی کا ڈھب دینے میں بنیادی اور کلیدی کردار بھی ادا کرتاہے۔ افراد سے لیکر جماعتوں تک سبھی کے فیس بک پر اکاؤنٹ بھی ہیں اور پیج بھی ہیں۔ فیس بک پر مذہبی جماعتیں بھی ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی، یہاں رفاہی ادارے بھی ہیں اور جہادی جماعتیں بھی۔ یہ میڈیا گروپ بھی ہیں اور ملحدینِ کرام بھی۔ یہاں آئی ایس آئی بھی ہے، فوج سے محبت کا واشگاف اظہار کرنے والے بھی اور ملک دشمن قوتیں بھی۔ غرض ، مثبت و منفی ہر طرح کے مقاصد رکھنے والے یہاں آفیشل اور اَن آفیشل دونوں طرح یہاں موجود ہیں۔تاہم ہر گروہ کے گمنام جیالے گلابوں کی چاہ میں دن رات کانٹے بوئے جاتے ہیں۔ لطف کی بات یہ کہ ان کی حرکتیں ہی نہیں ،امیدیں بھی ویسی ہی ہیں جیسی اوپر بیان کردہ دوست رکھتے تھے۔آپ غور کریں تو کم و بیش سبھی کی یہاں خفیہ ناموں سے فیک آئی ڈیز اور پیجز متحرک ہیں۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ، بلکہ ایسا الزام یا خیال ہر جماعت دوسری جماعت کے بارے رکھتی ہے۔ جو کام کوئی جماعت یا فرد اپنے آفیشل پیج پر نہیں کر سکے گا، وہی جہاد ان خفیہ ہرکاروں کی مدد سے بہرصورت کر لیا جائے گا ۔ یعنی جو کام کوئی جماعت یا فرد اپنے ضمیر ، اپنے منہج یا اپنی شخصیت کی شناخت کے حوالے سے نہیں کر نا چاہتا، جعلی آڑ ملتے ہی اس سے کئی گنا زیادہ گندگی میں گرنا وہ بخوشی گوارا کرلیتا ہے۔ غور کیجئے توہم صرف بدنامی سے بچتے ہیں بدی سے نہیں ، لطف کی بات یہ بھی ہے کہ ہر جعلساز، ہر بدنام پروپیگنڈہ کرنے والا خود جو بھی کر گزرے مگر اس کا تقاضا اور آرزو یہی رہتی ہے کہ اس کا کسی فیک آئی ڈی یا فیس بک کا ماسک پہنے کسی گمنام صاحب سے نہ پڑے۔یہاں ایک مذہبی جماعت مقابل سے جس ’اعلیٰ درجے ‘کی بد اخلاقی برتتی یا مخالف لیڈروں کے خلاف جس ’اعلیٰ ظرفی ‘کا مظاہرہ کرتی ہے، بالکل برعکس جواب میں اپنا حق سمجھتی ہے کہ اسے صرف اسلامی اور انسانی اخلاق ہی کے دائرے میں رہ کرمخاطب کیا جائے۔ایک سیاسی جماعت جتنا حسنِ ظن اپنے قائد کو دیتی ہے اس سے آدھا بھی دوسرے کے لئے روا رکھنا باقاعدہ گناہِ کبیرہ سمجھتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کم از کم فیس بک کی حد تک تو ہم نے اپنی دیانت ، دماغ ، ضمیر اور ذہانت اپنی اپنی سیاسی ، سماجی، مذہبی ، لسانی ، عصبی یا اسی طرح کی کسی بھی دوسری جماعت کے ہاں گروی رکھ دئیے ہیں۔ چنانچہ ایک نون لیگی کے ہاں میاں نواز شریف صاحب ، انصافی کے ہاں عمران خان صاحب ، جماعت اسلامی کے ہاں سراج الحق صاحب، جماعت الدعوہ کے نزدیک حافظ سعید صاحب ، مرکزی جمعیت کے ہاں ساجد میرصاحب، جمعیت علمائے اسلام کے ہاں فضل الرحمٰن صاحب ، لبرلز کے ہاں ان کا اپناجتھہ ، اسلام پسندوں کے ہاں ان کے اپنے علماا ور لکھاری کبھی غلطی نہیں کرسکتے ، یہ کبھی غلط بیان نہیں دے سکتے ، ان کا کہا کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ سبھی کے کارکنانِ قضا و قدر کی یہاں کی زندگی کا مقصد اپنے اپنے قائد کی ہمہ وقتی بے لوث اور بے بصیرت حمایت ، ہر بیان کی غیر مشروط طرفداری اور مخالف کی ہر بات سے کیڑے نکالنا اور اگر نکالے نہ جا سکیں تو خود ڈال کے نکالنا رہ گیاہے۔ آدمی حیرت سے سوچتا ہے کہ ختمِ رسالت پر نظریاتی یقین رکھ نے والی یہ قوم عملاآخر کتنے لوگوں کو معصوم عن الخطا ہونے کا درجہ دئیے بیٹھی ہے ۔ کالم تمام ہوا، گو باتیں کچھ اور بھی ہیں۔

مزید :

کالم -