تاریخ ساز جنرل !

تاریخ ساز جنرل !
تاریخ ساز جنرل !

  



ریٹائر ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے تین تاریخ ساز کام کئے ۔اوّل: پینتیس سالہ سیکیورٹی ڈاکٹرائن کو تبدیل کردیا ،جس کی بنیاد مرحوم جنرل ضیاء الحق نے رکھی اورمذہبی چغے پہنے دہشت گردوں کا بڑی حد تک صفایاکردیا۔ دوئم:ملک کے اندراسلحے کے زور پر اپنی ریاستیں بنانے والوں کوغیر مسلح کرکے ریاستیں تحلیل کردیں،مردہ باد کا نعرہ لگانے والوں کو خاک چٹا دی ۔سوئم: کچے سیاستدانوں کے غیر جمہوری اشاروں کے باوجود آئینی کردار پر کاربند رہے اور خود کو سیاست کی آلودگی سے دور رکھا۔ان غیر معمولی کاموں پر انہیں غیر معمولی مقبولیت ملی۔جتنی پذیرائی اور محبت انہیں ملی،شائد ہی کسی فوجی سربراہ کے حصے میں آئی ہو۔ اپنی آئینی مدت پوری کرکے اس شان سے رخصت ہوئے ہیں کہ ملک کی تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرپائے گی۔

جنرل ضیاء الحق نے افغانستان میں روسی تسلط کے خلاف جنگجو مذہبی طبقہ، امریکی ڈالروں اور سیکیورٹی اداروں کی مدد سے جس جنگ کا آغاز کیا، وہ پینتیس سال تک ملک کو جھلساتی رہی ۔روس کی واپسی کے بعد ڈالروں کے چشمے تو خشک ہوگئے، مگر مذہبی اور سیکیورٹی اداروں کا بندھن قائم رہا۔جنگجومذہبی طبقے مقدس بھی تھے اور طاقتوربھی،ان کے پاس جھنڈا بھی تھا اور ڈنڈا بھی۔ تین دہائیوں تک پاک سر زمین میدان جنگ بنی رہی، دشمن ملک کے اندر دھماکے کرتا رہا،مذہبی حلیے میں انسان نما درندے معصوم لوگوں کے پرخچے اڑاتے رہے، مگر سب خاموش رہے کہ بندھن والے ناراض نہ ہوجائیں ۔جنرل راحیل شریف نے بندھن توڑ دیا اور ملک کے اندر ایسے عزائم رکھنے والوں، بلکہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو چن چن کر سمجھایا اور بجھایا گیا۔ مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والوں، فرقہ واریت کا کاروبار کرنے والوں،منصف بن کر موت کے پروانے جاری کرنے والوں کو بھی ان کی اوقات میں کردیا ۔ اس جنگ سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی، مگر جرات مند جنرل نے کردکھایا۔اسی دوران سعودی عرب اور یمن کی جنگ کا معاملہ پیش آیا،سعودی عرب سے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔ہمارے عقیدت اور محبت کے مرکز ہمارے مقامات مقدسہ کے تحفظ کا بھی مسئلہ تھا ،لیکن جنرل تو ملک کوجنگ سے نکال رہے تھے، کسی نئی جنگ میں کیسے شامل ہوتے؟چنانچہ فیصلہ ہوا کہ سعودی عرب کی حفاظت کریں گے، البتہ یمن کے خلاف جنگی کارروائیوں میں شریک نہیں ہوں گے ۔اس پالیسی کے تین فائدے ہوئے،ہم نئی جنگ میں پھنسنے سے بچ گئے،سعودی عرب بھی ناراض نہیں ہوا اور ایران سعودی عرب کشیدگی کم کرانے میں ثالث کی حیثیت میں کردار اداکیا ۔

تحریک انصاف نے دوبار ٹی وی سکرینوں پر ایسے حالات دکھائے کہ جنرل راحیل شریف کو غیر آئینی اقدام پراکسایا جائے، مگر وہ کسی لالچ اور ترغیب کا شکار نہیں ہوئے اور خودکواپنے آئینی کردار تک محدود رکھ کر تاریخ میں ممتاز مقام حاصل کرلیا ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خود کو قانون کے مطابق رکھنا کون سا غیر معمولی کام ہے۔جناب! یہ غیر معمولی اور تاریخ ساز کام ہے، جہاں ایسے حالات کے بغیر ہی مہم جو جرنیل اقتدار پر قبضہ کرتے رہے ہوں۔ ابھی وہ آخری فوجی ڈکیٹر رقص کررہا ہے جس نے کارگل کی تحقیقات کے ڈر سے آئینی حکومت کو توڑ دیا تھا،اس وقت تو دور دور تک ایسے حالات نہیں تھے،سوشل میڈیا کے الہڑ مجاہد جو پہلے جنرل راحیل شریف کونجات دہندہ بنا کر پیش کررہے تھے،اب منہ چڑا رہے ہیں کہ ٹیک اوور کا سنہری موقعہ ضائع کردیا ۔پتہ نہیں کیوں ہم میں سے کئی لوگ سپہ سالاروں کی راہ تکتے رہتے ہیں کہ وہ آکر سومنات گرائیں گے، خود چاہے مجاوروں کو دودھ پلاتے رہیں ۔ سپہ سالاروں سے امید رکھنا کہ آئین توڑ کر قانون کی حکمرانی قائم کریں،کچے ذہنوں کی بودی باتیں ہیں! یہ امید وہ شائد اس لئے لگاتے ہیں کہ سیاست دان شفاف گورننس نہیں کرتے، بے دریغ کرپشن کرتے ہیں اور خود کو احتساب سے مبرا سمجھتے ہیں،لیکن یہ تمام بیماریاں تو فوجی حکومتوں میں بھی ہوتی ہیں۔۔۔ تو پھر اس کا حل کیا ہے ؟ حل یہ ہے کہ بری جمہوریت سے اچھی جمہوریت کا سفر۔۔۔یہ سفر مشکل اور صبر آزماہے،مگر راستہ یہی ہے ۔ جمہوریت عوام کے مسائل حل نہیں کررہی تو مزید جمہوریت لائیں، باشعور افراد سیاسی عمل میں شریک ہوں، تاکہ شفاف الیکشن ہوں،بہترسے بہتر نمائندے سامنے آئیں اور اداروں کی باریک بینی سے نگرانی ہو، تبھی ہم بہتر حکمرانی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ادارے قواعد و ضوابط کے مطابق چلیں تو بتدریج مضبوط ہوں گے، ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی رہے توملک مضبوط ہوتا ہے ۔۔۔خیر! بات تو شاندار جنرل کی ہورہی تھی ۔ شاندار کامیابیوں کے ساتھ تاریخ انہیں اس حوالے سے بھی یاد رکھے گی کہ انہوں نے اپنے سابق چیف کے خلاف کارروائی نہیں ہونے دی، البتہ فوج کے اندر کرپشن کے خلاف کی گئی کارروائی پہلی بار منظر عام پر لائی گئی۔

گزشتہ تین دہائیوں سے ریاست کے اندر کئی مسلح گروہوں نے اپنی ریاستیں بنالی تھیں،کوئی ادارہ ان پر ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں تھا،وزیر ستان سے لے کر کراچی تک اسلحہ کے ڈھیر لگے تھے ۔ٹارگٹ کلنگ،اغوا برائے تاوان،بھتہ خوری، ڈکیتی کرنے والے جرائم پیشہ گروہ بغیر کسی خوف کے اپنا کاروبار چلارہے تھے۔ کراچی میں ایک گروپ مافیا بن چکاتھا، جو اپنے ہی لوگوں کوموت کے گھاٹ اتار تا،زندہ جلاتا اور قتل کرواتا،مگر سب بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔ جنرل راحیل شریف، لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، میجر جنرل بلال اکبرکی قیادت میں اداروں نے کمال دانشمندی اور دلیری سے مافیا کا نیٹ ورک توڑا ۔اب کراچی شہر میں کافی حد تک امن بحال ہوچکا ہے اور روشنیاں پھر سے جگمگارہی ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی کو ششوں کے نتیجے میں 2015ء گزشتہ دس سالوں میں محفوظ ترین سال قرار پایا۔ شائد انہی کامیابیوں کی بنیاد پر انہیں دنیا کابہترین آرمی چیف قرار دیا گیا ۔۔۔ جنرل پرویز مشرف نے فوج کے وقار اور مورال کو زبردست زک پہنچائی، حتیٰ کہ ان کے دور میں فوجیوں کو یونیفارم میں پبلک مقامات پر جانے سے روک دیا گیا۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کا اجلا امیج بحال کیا اور اسے دوبارہ ہائی مورل گراؤنڈ پر لا کھڑا کیا ہے۔دنیا کی بہادر فوج کے بہترین چیف جنرل راحیل شریف! قوم آپ کی احسان مند ہے!

مزید : کالم