اورنج ٹرین کا ناتمام منصوبہ

اورنج ٹرین کا ناتمام منصوبہ
 اورنج ٹرین کا ناتمام منصوبہ

  



اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کے حوالے سے اب تک بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، لیکن بعض مقامات پر عدالت عالیہ کے احکامات کی روشنی میں کام روک دیا گیا ہے۔ عدلیہ کے نزدیک اس کی وجوہات ٹھوس ہیں، لیکن عوام کوجگہ جگہ کھدائی اور گردوغبار کے جن مسائل سے آج تک دو چار ہونا پڑا ہے۔

اس کے حوالے سے دوبارہ اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی، کیونکہ صبح کے وقت سڑکوں کی حالت زار اور ٹریفک کے اژ دھام کی وجہ سے سکولوں، کالجوں، دفتروں اور ہسپتالوں میں جانے والوں کو جتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کا اندازہ ہمارے وہ حکام بالا نہیں لگاسکتے، جنہوں نے اس منصوبے کی تیاری میں پیش آمدہ عوامی مشکلات کو مدنظر نہیں رکھا۔ ہر چندکہ اورنج ٹرین منصوبہ مستقبل میں عوام کو بہتر اور آرام دہ برق رفتار سفری سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے تشکیل دیا گیا۔

لیکن اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے سردست لاہور میں سڑکوں کی کھدائی، توڑپھوڑ، گردو غبار اور ٹریفک کا جو طوفان کھڑا ہوا ہے، اس سے ہزاروں بلکہ لاکھوں شہری بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

درختوں کی کمی نے ایک تو و یسے ہی لاہور شہر کی روایتی خوبصورتی اور افسانوی دلچسپی کو برقرار رہنے نہیں دیا۔ اورنج ٹرین کے لئے کی جانے والی کھدائیوں اور فضا میں ہر لمحے بڑھتے ہوئے گردوغبار نے اس شہر کو خطر ناک حد تک فضائی آلودی میں مبتلا کردیا ہے۔

کھدائی کے حوالے سے بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ بیک وقت کئی سڑکوں پر کئی جگہ کام شروع کردیا گیا اور متبادل راستے اگر بنائے بھی گئے ہیں تو ان کے لئے اتنے یوٹرن لینے پڑتے ہیں کہ منزل مقصود تک پہنچتے پہنچتے ایمبولینس میں بیمار مریض دم توڑ جاتے ہیں۔

سکول و کالج اور دفتروں میں جانے والے افراد لیٹ ہوجاتے ہیں۔ ٹریفک کارش اتنا بڑھ جاتا ہے کہ گاڑیاں اکثر ٹریفک میں پھنسی رہتی ہیں۔ دکاندار الگ پریشان ہیں کہ ان کی دکانوں کو لاکھوں روپے کی مالیت کا نقصان الگ اور دکانیں چھوڑنے کا غم بھی ہے۔

ادبی ڈیرے بھی اس ٹوٹ پھوٹ کی زد میں آکر برباد ہوگئے ہیں۔ دور دور سے شعراء وادباء مختلف سواریوں کے ذریعے اپنی منزل مقصود تک پہنچتے تھے۔ نکلسن روڈ پر ایک جامع مسجد بھی ٹرین کے روٹ کی زد میں تھی، اس کے خلاف بھی لوگوں نے کافی احتجاج کیا، لیکن عوام کے احتجاج اور ان کے مطالبے پر نظرثانی نہیں کی گئی۔

دکانیں اور تجارتی مراکز بھی اورنج ٹرین کی زد میں آگئے۔ متبادل جگہ کے طور پر جو الاٹمنٹس ان متاثرین کو دی گئی تھیں تو وہ خاصی دور غیر تجارتی اور نئی جگہ پہنچنا اول تو ان کے لئے دشوار ہوتا ہے دوئم وہ فوری طور پر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے کسی اور جگہ کا انتخاب کرلیتے ہیں۔ اس طرح لگے بندھے گاہک ٹوٹ جاتے ہیں اور دکانداروں کی روزی ماری جاتی ہے۔

ملتان روڈ پر اورنج لائن ٹرین کی وجہ سے ان دنوں تعمیراتی کام جاری ہے اور سڑک پر گہری کھدائی کی گئی ہے، جس سے ایورنیو سٹوڈیو کے اندر جانے کا راستہ بند ہوگیا، آمدورفت میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سٹوڈیو کے اندراب کوئی گاڑی داخل نہیں ہوسکتی، جبکہ اندر جانے کے لئے گہری کھدائی کے اوپر لکڑیاں رکھ کر چھوٹا ساراستہ بنایا گیا ہے، جس پر بڑی مشکل سے گزرا جاسکتا ہے۔

اورنج ٹرین کا کام شروع ہونے کی وجہ سے سٹوڈیو کے سامنے سے لوگوں کی آمدورفت بہت کم ہوگئی ہے۔چوبرجی لاہور کی شناخت ہے اور اعوان ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن اور ملحقہ تمام علاقہ جات لاہور کے نہایت خوبصورت اور بارونق علاقے ہیں۔

ان کی خوبصورتی کو بہر حال مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ادیب، شاعر اور دانشور پرندوں کی مانند ہوتے ہیں وہ محفوظ اور پرسکون آشیانے ڈھونڈتے ہیں جو بڑی مشکل سے انہیں دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر یہ ان سے چھن جائیں تو یہ پرندے بے چینی اور اضطراب کے عالم میں بھٹکتے ہیں۔

بات ایک فرد، چند افراد، ایک ڈیرہ، ایک دکان یا کئی ڈیروں، کئی آشیانوں کی نہیں بلکہ اجتماعی دکھ کی ہے، جس کی تپش اہل دانش تو محسوس کرہی رہے ہیں، افسران مجاز اور مختار ان کار کو بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ اورنج لائن ٹرین منصوبہ جلد از جلد تکمیل کو پہنچے۔

حکومت کو فی الفور ان امور پر توجہ دینی چاہیے اور ممکنہ حد تک حق و انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے عوام الناس کی پریشانیاں دور کرنے کی کوشش کی جائے اور ٹریفک کا نظام بھی بحال ہونا چاہئے۔

مزید : کالم