بھٹو سے وابستہ کچھ باتیں

بھٹو سے وابستہ کچھ باتیں
بھٹو سے وابستہ کچھ باتیں

  



بھٹو صاحب کو مغربی پاکستان میں اقتدار مل گیا جبکہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور ان کا پیغام کہ ’’اُدھر تم اِدھر ہم‘‘ پورا ہوگیا۔ میں اس وقت پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان دے کر فارغ تھا۔ ایک دن میں نے راشد بٹ سے بات کی انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب اسمبلی جائیں گے اور تمہاری اڈہاک لیکچر شپ کی بات بھی کریں گے۔ میں مطمئن ہوگیا اور صبح دس بجے ہم دونوں اسمبلی میں چل دئیے۔ وہاں ہم چیف منسٹر کے آفس میں گئے تو ملک معراج بابو نے ہمیں چائے پلائی اور کام کا پوچھا تو راشد بٹ نے کام بتادیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ملک حاکمین کے پاس تعلیم کا محکمہ ہے آپ کو ان سے درخواست کرنی چاہیے۔ ہم ملک حاکمین کے دفتر چلے گئے، وہ اپنے آفس میں تھے اور مجمع لگا ہوا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرے گھر ایک فائلوں کا بنڈل پہنچادیا گیا ہے اب میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان پر کیا لکھوں۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جو فائل آپ کو مارک ہے آپ اگر مطمئن ہیں تو سین (seen) لکھ کر واپس بھیج دیں۔ انہوں نے ہر فائل پر ’’س‘ ڈال کر فائلیں واپس کردیں۔ان کا یہ لطیفہ بعد میں بڑا مشہور ہوا۔بیوروکریسی خوب ہنسی۔ ہم نے درخواست وزیر صاحب کو پیش کی انہوں نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو دے دی اور ہمیں ایک ہفتہ کے بعد پتہ کرنے کو کہا۔ اس کے بعد ہم واپس آگئے۔ وہ ہفتہ ابھی تک نہیں آیا۔ آخر کار میں نے راشد بٹ کو کہا کہ لعنت بھیج دو کیونکہ ان تلوں میں تیل کم ہی نظر آتاہے یہ تو میرا پہلا پریکٹیکل تجربہ تھا۔

اس کے بعد میں نے مقابلہ کے امتحان کی تیاری شروع کردی اور سی ایس ایس میں میں پاس ہوگیا۔مجھے پہلی پوسٹنگ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ راولپنڈی میں دی گئی، تین مہینے کی ٹریننگ تھی۔ اس کے بعد پھر کہیں پوسٹنگ ملنا تھی۔ جون 30 میں ٹریننگ ختم ہوئی اور مجھے ایک محمکمہ میں سیکشن افسر لگادیا گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب بھٹو صاحب کے خلاف نوستاروں کا احتجاج جاری تھا۔ راولپنڈی میں ایک ایس پی کی ڈیوٹی تھی کہ وہ احتجاج کرنے والوں کی رپورٹ تیار کرے۔ وہ ایس پی اپنے سٹاف کو کام پر لگا اکر خودہماری ڈویژن میں آجاتا۔ ایک دن وہ میرے آفس میں آیا تو میں نے کہا کہ یہاں بیٹھ کر تو خاک رپورٹ تیار کرے گا۔ اس نے جواب دیا کہ بھٹو صاحب اصلی رپورٹ نہیں چاہتے، وہ ہم تیار کرلیتے ہیں۔ میں نے جب مزید کریدا تو کہنے لگا کہ ایک دن میرے پریڈ یسر نے رپورٹ میں لکھا کہ دس ہزار کا مجمع تھا تو بھٹو صاحب نے حکم دیا کہ اس پولیس افسر کو آئندہ کیلئے ایسا کام نہ دیا جائے کیونکہ یہ رپورٹ ٹھیک نہیں ہے۔ اگر یہ ٹھیک ہے تو پولیس افسر نااہل ہے۔ اس نے اتنے آدمی کیوں جمع ہونے دئیے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کے بعد یہ ڈیوٹی مجھے دی گئی ہے ۔میں نے روٹین بنالی ہے کہ مجمع میں 500سے زیادہ آدمی نہیں لکھنے لیکن تماشائی ہزاروں میں تھے۔ یہ رپورٹ بھٹو نے پسند کی اور اس دن کے بعد مجمع کی تعداد کم ہوتے ہوتے سو پچاس تک رہ گئی ہے اور تماشائی بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ حکمران کی پسند تھی۔

ایک دن کیبنٹ ڈویژن میں سیکیورٹی افسر کو کیا سوجھی کہ اس نے تمام نائب قاصدوں وغیرہ کو کہا کہ آپ لوگ وردی پہن کر آیا کریں۔ وردی ان کو سرکار کی طرف سے دی جاتی تھی ۔جب سارے درجہ چہارم کے ملازم وردی میں آئے تو ایک خاص کیفیت ہوگئی۔ سیکرٹری کیبنٹ شیخ وقار احمد بھٹو کے بہت قریب تھے، وہ آفس میں آئے تو ایک جیسے آدمی دیکھ کر گھبراگئے اور کہنے لگے یہ کون لوگ ہیں ۔جب ان کو بتایا گیا کہ یہ آفس کے لوگ ہیں تو ان کو تسلی ہوئی۔

شیخ وقار احمد وہی افسر ہیں جس کی وزراء نے شکایت کی کہ ہماری کوئی بات نہیں سنتا اس کو تبدیل کیا جائے۔ بھٹو صاحب نے اس پٹیشن پر لکھا کہ اسے نہ چھیڑو اس کو کرسی پر ہی مرنے دو۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : بلاگ