مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کا مستقبل اور امریکہ

مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کا مستقبل اور امریکہ
مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کا مستقبل اور امریکہ

  



امریکہ کئی دہائیوں تک مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں کے قیام کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے، لیکن اس نے اسرائیل کو ایسا کرنے سے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا،وہ اس قضیے میں دوسرے ممالک کو شامل ہونے سے بھی روکتا رہا ہے۔ اب اس نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایسا کرنا اسرائیل کا حق ہے۔ گویا ”پہلے وہ اسرائیل کو اس بات کا موقع دیتا رہا کہ وہ یہاں نا جائز تعمیرات کرتا رہے، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور کسی اور کو بھی اس معاملے میں اسرائیل کا ہاتھ روکنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب کھلے عام اسرائیل کے اس موقف کی تائید کی جا رہی ہے کہ وہ مغربی کنارے میں قائم اپنی بستیوں کو بالجبراسرائیل میں شامل کرلے“……اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے دوران اردن کے مغر بی کنارے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا،اس وقت سے اسرائیلی افواج وہاں تعینات ہیں چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49کے مطابق کوئی مقبوضہ ملک، مقبوضہ علاقے میں اپنے شہری لا کر بسا نہیں سکتا، اسرائیل نے بھی اس کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں اور وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ مغربی کنارے میں یہودی بستیاں قائم نہ کرے،اسی لئے امریکہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے، جبکہ یہودی وزرائے اعظم ایریل شیرون اور نیتن یاہو ببانگ دہل کہتے رہے ہیں کہ وہ ان بستیوں کو بزوز اسرائیل میں ضم کریں گے۔ حال ہی میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیونے کہاہے کہ اسرائیل کا مغربی کنارے پر آبادیہودی بستیوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے“……گویا فلسطینی علاقوں پر بستیاں قائم کرنا تو غلط تھا، لیکن انہیں ضم کرنا درست ہے…… کیا دوغلی منطق ہے؟ہمیں اس مسئلے کو عالمی قوانین سے ذرا بالا تر ہو کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد کئی تاریخی معاملا ت سرد جنگ کی منطق میں دب گئے تھے جو 90ء کی دہائی میں اشتراکی ریاست کے خاتمے کے بعد دوبارہ نمایاں ہونے لگے ہیں، ہمیں ان پر غور کرنا چاہئے……کشمیر خطے میں ایک خطرناک مرکز ہے، دو ایٹمی طاقتیں کشمیر کے ایشو پر آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اس خطے میں دُنیا کی سب سے زیادہ آبادی بستی ہے اور غربت و جہالت بھی انہی کے ساتھ پھل پھول رہی ہے۔دونوں ممالک کے کثیر وسائل مسلح افواج کی تربیت و تنظیم پر خرچ ہورہے ہیں، جن کے باعث یہ ممالک غربت کے خاتمے اور تعمیر و ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے میں زیادہ فعالیت کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔مسئلہ کشمیر نے 5اگست 2019ء کو اس وقت ایک نیا ٹرن لیا، جب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارتی یونین میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔اسی روز یہاں پہلے سے تعینات فوجیوں سمیت، مسلح فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ تک پہنچا دی گئی اور پوری وادی میں کرفیو لگا دیا گیا،جو ہنوز جاری ہے، وہاں زندگی ٹھٹھرکر تھم سی گئی ہے،سناٹا ہے، خوف و ہراس ہے،جنگ کے خطرات بھی موجود ہیں ……دُنیا میں دوسرا خطرناک مرکز مشرق وسطیٰ میں پایا جاتا ہے۔ یروشلم اور اس کے اردگرد کا علاقہ فلسطینی مسلمانوں اور صیہونی اسرائیلیوں کے مابین تنازعہ کی وجہ ہے۔اس خطے میں عرب مسلمان و فلسطینی بستے تھے۔ جنگ ِ عظیم اوّل میں ترکانِ عثمانی کی شکست کے بعد اس علاقے پر برطانوی قوم کا قبضہ ہوگیا، پھر دوسری جنگ ِ عظیم 1939-45ء کے بعد یہاں فلسطینی علاقوں پر مشتمل ریاست اسرائیل قائم کر دی گئی۔ اس دن سے مشرقِ وسطیٰ فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور ہر آنے والادن فلسطینیوں کے لئے نئی مصیبت لے کر آتا ہے اور اسرائیل کے قیام کے روزِ اوّل سے ہی فلسطینیوں کا نا طقہ بند کیا جا رہا ہے، ان پر عرصہئ حیات تنگ کیا جارہا ہے،خطے میں اسرائیل اقوام مغرب، یعنی عیسائی اقوام کا بالعموم اور امریکہ و برطانیہ کا بالخصوص مرکز ِ عقیدت ہے۔یہ جگہ نہ صرف یہودیت، بلکہ عیسائیت کی جائے پیدائش ہے۔ توریت، زبوراور انجیل میں جن مقامات کا ذکر ہے۔ان کی اکثریت اسرائیل اور اس کے اردگرد موجود ہے۔برطانیہ نے مسلمانوں سے یروشلم خالصتاً مذہبی نقطہ نظراور مذہبی جذبات کے ساتھ چھینا، پھر عیسائی برطانیہ نے مذہبی عقائد اور جذبات کے ساتھ ہی اسرائیل تخلیق کیا۔ امریکہ نے اس کی تعمیر و ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی میں اسرائیل محوری اور مرکز ی حیثیت رکھتا ہے۔ اسرائیل کو امریکہ کی طرف سے سب ممالک سے زیادہ امداد ملتی ہے، سفارتی طور پر بھی امریکہ، اسرائیل کا دو ست ہی نہیں، بلکہ سپورٹر بھی ہے۔ وہ مذہبی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کی سپورٹ کرتے ہیں ہیں۔

اسرائیلی صیہونی حکمران اپنے قیام کے روزِ اوّل سے ہی گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے کوشاں ہیں۔گریٹر اسرائیل کا نقشہ اپنی تمام جزئیات سمیت موجود تھا اور موجود ہے۔ اسرائیلی حکمران اس کے مطابق اسرائیل کی سرحدیں بتدریج پھیلاتے چلے جا رہے ہیں۔وہ مجوزہ جگہ پر ایک بستی تعمیر کرتے ہیں،پھر یہودی خاندانوں کو وہاں لا کر بساتے ہیں۔ یہ بستیاں اسرائیل کی پہلے سے موجود سرحدوں کے ساتھ تعمیر کی جاتی ہیں، پھر ان بستیوں کو سرحد ات میں شامل کرنے کے لئے سرحد یں اٹھا کر آگے کر لیتے ہیں، گویا نئی بستیوں کو اپنی سرحدمیں شامل تصور کر کے توسیعی معاملات کو قانونی شکل دیتے ہیں۔یہ عمل بالکل ویسا ہی ہے، جیسا 500 سال پہلے ماسکوی روسیوں نے عظیم روس کے قیام کے لئے شروع کیا تھا۔ماسکو / ماسکوی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا یہاں بسنے والے روسیوں نے اردگرد کے لوگوں پر حملہ کر کے ان کے مکانات و املاک پر قبضہ کرکے اپنے ساتھ ملانا شروع کیا۔ روسی جس گاؤں پر حملہ کرکے اسے فتح کرنے کے بعد اپنے اندر ضم کر لیتے اور اپنی سرحداٹھا کر آگے بڑھالیتے۔یہ سلسلہ 500 سال تک جاری رہا حتیٰ کہ ماسکوی گاؤں ایک عظیم الجثہ سلطنت کی شکل اختیار کر گیا۔روسیوں نے اپنی توسیعی مہم کے دوران کسی ایسے علاقے پر حملہ نہیں کیا جس کی سرحدیں اس کے ساتھ نہ ملتی ہوں۔ اسرائیل بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دھیرے دھیرے فلسطینی مسلمانوں کے علاقوں پر اپنی بستیاں تعمیر کر رہا ہے، پھر اپنی سرحدوں کو وسعت دے کر ریاست اسرائیل میں شامل کرتا چلا جارہا ہے، حتیٰ کہ گریٹر اسرائیل کے طے شدہ منصوبے کے مطابق ریاست قائم ہو جائے۔ وہ ایسا کرنے کے لئے یکسو ہے۔ مذہبی طور پر بھی اور دنیوی لحاظ سے بھی۔ امریکہ اور برطانیہ اس کے پشتیباں ہیں۔ عالمی برادری اقوام عالم پر عیسائی مغربی اقوام کی گرفت ہے،بڑے بڑے مالیاتی اور زری ادارے،ذرائع ابلاغ کے مراکز اور عالمی سیاست کے اعصابی مراکزپر انہی اقوام کی گرفت ہے جو مذہبی تعصب کے باعث مسلمانوں کو برباد کرنا چاہئے ہیں۔

عیسائی مسیح ابن مریم کی آمد ثانی کے منتظر ہیں، انہیں معلوم ہے کہ اینٹی کرائسٹ(مسیح الدجال) آنے والا ہے۔یہودی اپنے مسیحاکی آمد کی تیاری کر رہے ہیں، تھرڈٹیمپل کی تعمیر اور گریٹر اسرائیل کے قیام کا منصوبہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہودو نصاریٰ میں مسلم دشمنی ایک ایسی قدر مشترک ہے جو انہیں اشتراک عمل پر ابھارتی ہے۔ ایک عرصے تک عربوں کے خلاف یہو د ونصاریٰ کے ایسے ہی اشتراک عمل کے باعث خطے میں مسلمان کمزور سے کمزور ہوتے چلے گئے ہیں،اسی اشتراک عمل کے باعث آج یہاں مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی ایسی مسلم ریاست موجود نہیں ہے جو امریکی، برطانوی امدادکے بغیر اپنا وجود بھی برقرار رکھ سکے۔ یہاں کوئی نظام سیاست و ریاست قائم نہیں کیا جا سکا۔دو درجن سے زائد عرب ریاستیں چھوٹی سی اسرائیلی ریاست کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں رکھتیں۔ بے بناہ معدنی دولت رکھنے کے باوجود یہ عرب اقوام مغرب کی مرہونِ منت ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی بادشاہت کی بقاء سے متعلق ماضی قریب میں دیا جانے والا بیان اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ فلسطینی مسلمانوں پر عرصہئ حیات تنگ نہیں، بلکہ ختم کر دیا گیا ہے۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے تمام امریکی و اسرائیلی وعدے ہوا ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں کی با عزت بقا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ 5اگست 2019ء کو کشمیر کا بھارت سے الحاق کر کے ہندو سرکار نے مسئلہ کشمیر کے حل کی 70 سالہ کاوشوں کا دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ بھارتی ناانصافی کے خلاف مقتدر عالمی طاقتوں اور ترکی کے سوا باقی مسلم ریاستوں کے ردعمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر ی مسلمان بھی ہندوؤں کے ہاتھوں ایسے ہی شکار ہو گئے ہیں،جیسے فلسطینی مسلمان اسرائیل کے ہاتھوں زچ ہو چکے ہیں۔ عیسائی، یہود اور ہنودمسلمانوں کے خلاف اپنے فکروعمل میں یکسو ہوچکے ہیں۔پہلے جو کچھ ڈھکے چھپے انداز میں کیا جاتا تھا،اب اونچے سُروں میں اور واضح انداز میں کیا جارہا ہے۔یہود، ہندو اور نصاریٰ کو مسلمانوں سے کسی قسم کے ری ایکشن کی امیدنہیں ہے اس لئے وہ من مانیاں کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطینی، یروشلم کو اسرائیل دارالحکومت بنانا ہو یا بابری مسجد پر رام مندر کی تعمیر، غیر مسلم طاقتیں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہو چکی ہیں، لگتا ہے فیصلہ کن معرکے کی گھڑیاں قریب آرہی ہیں۔ حتمی فیصلہ ہونے کو ہے۔

مزید : رائے /کالم