حال سے آگے؟

حال سے آگے؟
حال سے آگے؟

  



پاکستان کے ایک دیانت دار سیاست دان نے بتایا تھا، اور بددیانت سیاست دان اس کا کھلواڑ کر رہے ہیں۔میاں نواز شریف کا گزشتہ دورِ حکومت جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں ختم ہوا۔مخالف صحافتی حلقوں کے مطابق ان کے صاحبزادے حسن نواز نے کارل انڈر فرتھ اور دیگر امریکی حکام سے ملاقات کر کے کہا: میرے والد اور چچا شہباز شریف کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن، برطانوی حکومت اور ہندوستانی وزیراعظم واجپائی سے بھی مداخلت کر کے ان کی جان بچانے کی اپیل کی تھی، چنانچہ برطانوی نمائندوں کی طرف سے یہ بیان دیا گیا کہ ہمیں میاں نواز شریف کی سلامتی سے متعلق خدشات لاحق ہیں،اور اگر انہیں سزا دی گئی تو پاکستان کو عبرت ناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے سخت اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا تھا: مَیں اب بھی نواز شریف کو وزیراعظم سمجھتا ہوں،مگر مَیں کوئی اور بیان دے کر نواز شریف کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا،انڈین وزیراعظم نے ڈربن سے نئی دہلی آتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ عالمی برادری ان کی جان بچانے کے لئے فوری مداخلت کرے!

کئی فرمائشی مضمون بھی لکھے اور لکھوائے گئے تھے، جن کی رو سے بھارتی حکومت سے متعلق ایک ذمہ دار شخص نے اخبار کے لئے لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں یہ اظہار بھی کیا تھا کہ معرکہ ئ کارگل کے دوران میاں نواز شریف انہیں مجاہدین کی سرگرمیوں کی نسبت معلومات فراہم کرتے تھے۔بقول ان کے،اس موقع پر محترمہ کلثوم نواز بھی موجود ہوتیں۔ مسٹر واجپائی کی سابق کابینہ کے وزیر تجارت راما کرشنا ہیگڈے نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ کارگل کی لڑائی کے دوران پاکستان سے منگوائی گئی چینی کے اربوں روپے کی ادائیگی انہوں نے خفیہ حکم کے ذریعے روک دی تھی۔اس کے پس منظر میں خبر یہ ہے کہ حسین نواز نے اپنے چچا میاں شہباز شریف کے ساتھ ہندوستان کو چینی فروخت کرنے کا باقاعدہ معاہدہ کیا۔جو چینی پاکستان میں 21روپے فی کلو کے حساب سے بکتی،وہ اُدھر11روپے کے حساب سے دی جاتی!یہ بھی مشہور ہے کہ میاں نواز شریف فیملی ہندوستان میں شوگر ملوں کے علاوہ کمرشل سنٹرز کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور و فکر کرتی رہی۔اس منصوبے کا حجم کیا تھا، اور یہ کہاں تک پہنچا؟ توقع تھی کہ شاید والیم10میں کچھ مذکور ہو گا، مگر اس میں سے کچھ نہیں نکلا! غالباً یہ سب کچھ دوستی کے لبادے میں دشمنی کا راز تھا۔میاں برادران کی حمایت اور مخالفت میں کچھ نہیں کہا گیا،اِس میں سچ جھوٹ کی آمیزش کتنی ہے؟ اس امر کے حتمی فیصلے کی خاطر ہمیں ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا۔یہ فیصلہ عدالتوں میں نہیں،تاریخ کے کٹہرے میں ہونا ہے۔اگر تاریخ نے انہیں سرخرو کر دیا تو یہ کافی سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو گا،وگرنہ ملزم اور مجرم یہ پہلے ہی قرار پا چکے ہیں۔

میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے موافقین و مخالفین کی تعداد گنتی میں نہیں آ سکتی۔یہ دوستی اور دشمنی کا ایک مختلف زاویہ ہے۔دیکھا جانا چاہئے کہ اس کے پیچھے کیا جذبات کار فرما ہیں؟کیا محض ذاتی مفاد یا عناد؟؟ کہنے کو کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ میاں صاحب کے سیاسی پیروکار صرف مفاد سے وابستہ و پیوستہ نہیں۔وہ اپنے رہنما سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں،اور اس جذباتی لگاؤ کا حقیقی محرک جانچ پرکھ کا تقاضا کرتا ہے۔ حالات و واقعات کی نزاکت کے مطابق گاہ آگے بڑھنے اور گاہ پیچھے ہٹ جانے والے آدمی کی مقبولیت اپنے اندر کئی سوال رکھتی ہے۔غور طلب امر لیکن یہ ہے کہ ان کو تمام تر سابقہ و موجودہ صحیح یا غلط الزامات کے باوجود دِلوں میں سے کیونکر نکالا نہیں جا سکا؟کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان کا ایک حکمران خاندان ہے،جو ایک طویل عرصے سے برسر اقتدار چلا آ رہا ہے۔ کیا مستقبل قریب یا بعید میں بھی ان کی حکمرانی قائم ہو سکتی ہے؟ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا،مگر پہلے ایک تجربہ ان کے حق میں ہو چکا ہوا ہے،چونکہ پاکستان میں، امکانی طور پر، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور ہوتا رہا ہے،لہٰذا عام طور پرگمان کیا جاتا ہے کہ ان پر سیاست و حکومت کے دروازے ہنوز بند نہیں ہوئے۔ہاں! ابھی جلد یا بدیران کا کردار باقی ہے، خواہ! وجوہات کچھ بھی ہوں، کسی کو پسند ہو یا ناپسند،لگتا ایسے ہے، جیسے ”تبدیلی“ کی حقیقت سے ہی حقیقت کی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔”تبدیلی سرکار“ کی کارکردگی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی!

مزید : رائے /کالم