سی پیک منصوبہ اور امریکی خدشات

سی پیک منصوبہ اور امریکی خدشات
سی پیک منصوبہ اور امریکی خدشات

  



امریکہ کی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے چند روز قبل امریکہ میں ایک تقریب کے دوران خطاب کے دوران ”سی پیک“ منصوبے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے چین کو تو فائدہ ہو گا، مگر پاکستان کو اس سے مستقبل میں بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ایلس ویلزکے اس بیان پر چین اور پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل سامنا آیا۔ پاکستان میں تعینا ت امریکی سفیر پال ڈبلیو جونز نے بھی وضاحت کی کہ ایلس ویلزنے محض اپنا نقطہ ئ نظر پیش کیا اور ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے اپنے مستقبل کے فیصلے کرنا پاکستان کا حق ہے…… ایلس ویلز پہلی امریکی نہیں ہیں، جنہوں نے پا کستان میں چینی سرمایہ کاری کو تنقید کا نشانہ بنا یا ہو۔ اس سے پہلے امریکی میڈیا بھی چینی سرمایہ کا ری پر تنقید کرتا رہا ہے، بلکہ کئی امریکی تھنک ٹینکس بھی اس حوالے سے تنقید کرتے رہتے ہیں۔ جیسے پاک چین حربی تعلقات اور چین کی پا کستان میں اربوں ڈالرز کی سرما یہ کا ری پر امریکی تھنک ٹینک German Marshall Fund of the United States کے معروف محقق اینڈیو سمال کی جانب سے2015ء میں ایک کتاب The China-Pakistan Axis: Asia’s New Geopolitics کے نا م سے منظر عام پر آئی ۔ سما ل نے اس کتا ب میں پاکستان اور چین کے حربی تعلقا ت کی تا ریخ بیان کرتے ہو ئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ چین نے پا کستان میں اربوں ڈالرز کی سرما یہ کا ری کا منصوبہ بنا نے سے پہلے پاکستان کے لئے امریکی امداد اور اس کے اثرات کا بغور مطالعہ کیا ہے۔۔اینڈریوسمال کے مطابق چین اپنی معا شی اور عسکری ترقی کے بعد عالمی طاقت بننے کے لئے پا کستان کو ایک کوریڈور، یعنی راہداری کے طور پر ”استعمال“ کرنا چا ہ رہا ہے۔ایلس ویلز، امریکی میڈیا، تھنک ٹینکس اور اینڈریوسمال کے اس دعوے کو پرکھنے کے لئے کہ چینی سرمایہ کا ری سے پاکستان کو نقصان ہو گا۔ہمیں چینی سرمایہ داری کے مزاج کو سمجھنا ہو گا۔

دنیا میں سرما یہ داری نظام قائم ہونے کے بعد کسی ایک امیر ملک یا اس ملک کی کسی کمپنی کی جانب سے معاشی اعتبار سے غریب ممالک میں سرمایہ کاری کرنا کو ئی اچھوتی بات تصور نہیں کی جاتی۔ تاریخ کو ایک طرف رکھتے ہو ئے اگر صرف حا ل ہی کو دیکھا جا ئے تو اس وقت امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت دُنیا کا کو ئی ایک بھی ترقی یا فتہ ملک ایسا نہیں ہو گا، جس کی سرما یہ کا ری دنیا کے اکثر ممالک میں موجود نہ ہو، مگر مغربی ممالک اور چینی سرما یہ کا ری کے طر یقہ کا ر میں ایک بہت ہی بنیا دی فرق پا یا جا تا ہے۔نومبر2009ء میں افریقی ملک روانڈا کے صدر پال کیگمے نے Why Africa welcomes the Chinese کے عنوان سے ایک مضمون لکھا،جسے برطانوی اور مغربی اخبارات میں بھی شا ئع کیا گیا۔جیسا کہ مضمون کے عنوان سے ہی ظاہر ہے روانڈا کے صدر اس مضمون میں ان وجوہا ت کو بیا ن کرتے ہیں جن کے باعث براعظم افریقہ میں چینی سرما یہ کا ری کو خوش آمدید کہا جا تا ہے۔اس مضمون کا لب ِ لبا ب یہی تھا کہ امریکہ اور یورپی ممالک جب بھی افریقی ممالک میں سرما یہ کا ری کرتے ہیں تو افریقہ کی بے تحا شا غربت کا فا ئدہ اٹھاتے ہوئے یہ مغربی سرمایہ کار ایسی ایسی شرائط رکھواتے ہیں، جن سے مغربی ممالک تو سرا سر فائدے میں رہتے ہیں، مگر افریقہ خسارے میں ہی رہتا ہے۔دوسرا سامراجی پس منظر رکھنے کے باعث امریکہ اور یورپی ممالک سرمایہ کا ری کرنے کے لئے ایسی سیاسی شرائط بھی پیش کرتے ہیں، جن کا حتمی مقصد سامراجی مقاصد کا حصول ہو تا ہے اور ان سیا سی شرا ئط کو ”جمہو ریت انسانی حقوق اظہا ر رائے کی آزادی“ اور اختلاف رائے کی آزادی“جیسے خوبصورت نا م دئیے جا تے ہیں،مگر دوسری طر ف جب چین یا چینی سرما یہ کا ر افر یقہ میں سرما یہ کا ری کے لئے آتے ہیں تو ان کی شرائط میں ایسے جھول نہیں ہوتے۔وہ سامراجی یا سیا سی مقا صد کے بغیر صرف اپنی سرمایہ کاری پر ہی اپنی تو جہ مر کوز رکھتے ہیں۔

افریقہ کے ساتھ چین کا تعلق ابھی قدرے نیا ہے، مگر پاکستان کے ساتھ چین کا سفارتی تعلق 1951ء سے ہے اور اس سفارتی تعلق میں 1960ء کے عشرے سے بھرپور معاشی تعلق کا رشتہ بھی استوار ہو گیا۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر، ہیوی میکینکل کمپلیکس (ٹیکسلا)، چشمہ نیو کلیئر پلانٹ، نیلم، جہلم ہائیڈرو ا لیکٹرک پاور پراجیکٹ، 2002ء میں گوادر میں گہرے سمندر کے لئے پورٹ کی تعمیر،2008ء میں قرا قرم میں ریلوے کی تعمیر کا معا ہدہ،دیامیر بھا شا ڈیم کی تعمیر میں چین کی 12.6ارب ڈالرز کی سرما یہ کا ری، بجلی پیدا کرنے کے درجنوں منصوبے، 2010ء سے 2015ء تک 75ارب ڈالرز کے منصوبوں پر سرمایہ کاری، پاکستان میں چین کی سرما یہ کا ری کی صرف چند ہی مثا لیں ہیں۔ایک کالم میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ چین کے پا کستان میں تما م معاشی و عسکری منصوبوں کا احا طہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں چین کی اس تمام تر سرما یہ کا ری کے باوجود کو ئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ چین نے کبھی اس سرما یہ کا ری کی آڑ لے کرپا کستان کے داخلی یا سیا سی معاملات میں دخل دینے یا پا کستان پرکسی بھی طریقے سے اثر انداز ہو نے کی کوشش کی ہو۔روانڈا کے صدرپال کیگمے کے اس آرٹیکل کا خوش کن پہلو یہی ہے کہ اب افریقہ سمیت دُنیا کے دیگر خطوں میں بھی چین کی زبر دست معا شی اور عسکری قوت بننے کے باوجود اس کے غیر سامراجی رویے کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔گز شتہ تین سو سال سے مغرب سے کیا کو ئی ایک بھی ایسی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ اگر کو ئی مغربی ملک معاشی و عسکری اعتبا ر سے مضبوط ہوا ہو اور اس نے اپنی اس معا شی و عسکری پو زیشن کا فا ئدہ اٹھا تے ہوئے غریب اور اپنے سے دور دراز کے ممالک میں کسی بھی طرح کی سامراجی مداخلت نہ کی ہو؟ ہنری کسنجر امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ رہنے کے ساتھ ساتھ امریکی خارجہ پا لیسی کی تشکیل میں ایک انتہا ئی اہم شخص کے طور پر جا نے جا تے ہیں۔ 2011ء میں منظر عام پر آنے والی اپنی کتاب On Chinaمیں ہنری کسنجر یہ مو قف اپنا نے پر مجبور ہے کہ چین دُنیا کے داخلی سیاسی معاملات میں مداخلت کا با لکل بھی خواہاں نہیں ہے۔

دوسری طرف اگر ہم ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے حال ہی میں پا کستان کے لئے امریکی معاشی امداد کو دیکھیں، جسے کیری لوگر بل کا نا م دیا جا تا ہے اور جسے 2010ء میں امریکی کانگرس نے منظور کیا، اس بل میں پا کستان کے لئے پا نچ سال میں مختلف منصوبوں کے لئے 7.5بلین امریکی ڈالرز رکھے گئے۔اس امداد کے وعدے کے ساتھ پا کستان کو جا ئز و نا جا ئز شرائط کی ایک لمبی چو ڑی فہرست بھی ساتھ تھما دی گئی۔ یہ پا کستان کے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔پا کستان ہی کیا امریکہ ایشیا، افریقہ اور لا طینی امریکہ کے جن ممالک میں بھی سرمایہ کا ری کرتا ہے،ان ممالک کی سیاسی، معاشی اور عسکری پالیسیوں میں بھی بھرپور مداخلت کرتا ہے،جہاں تک اس کیر ی لوگر امداد کا تعلق ہے،اس کے بارے میں خود پینٹاگون کے سابق سینئر عہدیدار ڈیوڈ ایس سڈنی اسے Dramatic Failureقرار دے چکے ہیں۔ان کے مطابق اس امداد کا پا کستان پر کو ئی حربی اثر نہیں ہوا۔اب سب سے بنیا دی سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان، چین کی جانب سے کی گئی اربوں ڈالرز کی سرما یہ کاری اور اقتصا دی راہداری کے منصوبوں سے اسی طرح کے فا ئدہ اٹھا سکتا ہے، جس طرح کے فائدے حا صل کرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ یقیناچین کی جانب سے اس قدر خطیر سرما یہ کاری کے منصوبوں سے پا کستان کے حکمران طبقات کے لئے سخت آزما ئش کا مرحلہ بھی ہے۔اگر ماضی کی روایا ت سے مکمل طور پر اپنے آپ کو الگ رکھتے ہو ئے پا کستانی حکمرانوں نے یہ ثا بت نہ کیا کہ وہ نہ صرف اتنے بڑے پیمانے کی بیرونی سرما یہ کا ری کو شفا ف انداز سے اپنے انجام تک لے جانے کی بھرپور صلا حیت رکھتے ہیں اور شفا فیت کے ساتھ ساتھ اس خطیر سرما یہ کا ری کے لئے مطلوب اہلیت بھی رکھتے ہیں تو کھربوں روپے کی یہ سرما یہ کاری بھی پا کستان سے اندھیرے ختم نہیں کر پا ئے گی۔

مزید : رائے /کالم